اس سال 14 اگست یوں منفرد رہی کہ عید قرباں کا تیسرا روز بھی اسی دن آن ٹھہرا۔ اس کوانسڈینس کے ساتھ مزید کوانسڈینس کراچی کی گلیوں میں طوفانی بارش کا پانی اور اس کے ساتھ قربان ہونے والے جانوروں کا خون تھا۔لوگوں کی شکایتیں عروج پر ہیں کہ کسی کہ ہاں گٹر کا پانی لائن کے پانی میں مل گیا، کوئی گلی میں موجود گندگی کے باعث گھر میں محصور ہو کر رہ گیا۔ نیز ڈاکٹروں کی پیش گوئیاں کہ کھڑے گندے پانی میں پیدا ہونے والے جراثیم نجانے کیا کیا بیماریاں لائیں گے۔ جن میں ملیریا، ٹائفائیڈ، چکن گونیا، ہیضہ اور دیگر سرفہرست ہیں۔

یہ تو شہر کے اندرونی حالات تھے۔ ملک کی شہہ رگ پہ نظر ڈالیں جہاں بہنیں بیٹیاں محفوظ نہیں، معصوم کشمیری سالوں سے آزادی کی خاطر جان کے نظرانے دے رہے ہیں اور ابھی تک ظلم کی چکی میں بری طرح پس رہے ہیں۔ یہ حالات مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم قنوت نازلہ اور استغفار کی کثرت کریں بحیثیت پاکستانی صفائی کا خیال کرتے ہوئے اپنے اوپر عائد ہونے والے فرائض کو پورا کریں۔

تصویر کا دوسرا رخ دیکھیے! بہت سے تعلیمی اداروں میں عید قرباں کی وجہ سے جشن آزادی قبل از وقت ہی منایا گیا جس کی وڈیوز اسکول کی طرف سے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئیں۔ دل تو پہلے ہی حالات دیکھ کر خون کے آنسو رو رہا تھا مگر اب ان وڈیوز کو دیکھ کر غم و غصہ عروج پہ جا پہنچا۔ کہیں ننھی بچیاں گانوں پر رقص کر رہی ہیں تو کہیں ہاتھوں میں بینڈ باجے لے کر جشن منایا جا رہا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ حال کے تو کیا ہی کہنے۔ مستقبل بھی زوال پزیر ہے۔ یہ درس گاہوں میں کیا درس دیا جا رہا ہے۔ ناچو، گاﺅ، اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اسلام کو بھول کر جشن مناﺅ، ان ننھی کلیوں کو کیا رول ماڈلز دیے جا رہے ہیں؟ مزید نیچے والدین اور رشتے داروں کے سراہتے ہوئے کمنٹس، ہم بحیثیت مجموعی طور پر سوتی ہوئی قوم بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے مواقع نئی نسل کو شعور دینے کے لیے بہترین ٹھہرتے ہیں مگر ہم نے ہر موقع پر ناچ گا کر اس قوم کو نا کوئی فاطمہ جناح دی، نہ کوئی بی اماں نہ ہی کوئی عظیم لیڈر۔ اتنی فیسیں لے کر بھی نہ کوئی جابر بن حیان بنتا ہے، نہ کوئی الخوارزمی وجود میں آتا ہے، جو کچھ بن بھی جاتے ہیں ان کو وہ قدر نہیں ملتی جو ان کا حق ہے۔

غزوہ ہند، بس یہ تھوڑا بہت پتا ہے کہ دجال آئے گا اور ایک آنکھ کا ہوگا۔ اگر کسی پاکستانی سے ”شکوہ جواب شکوہ“ کا مطلب پوچھو، اس کا مقصد، اس کی عظیم سوچ کا پوچھو، اس کا ایک مصرعہ مکمل کرنے کا ہی کہہ دو تو ٹوٹا پھوٹا جواب دے کر کہیں گے ”معذرت! اردو میں ہم اتنے اچھے نہیں تھے“۔ ہم کسی میں بھی اچھے نہیں تھے، نہ اردو نہ انگریزی، نہ دین، نہ دنیا، نہ ادب، نہ تہذیب، نہ اخلاق نہ دیانت۔ ہاں یہاں اچھے گلوکار ضرور پیدا ہو رہے ہیں کیوں کہ اسکول کالج کے اسٹیج پر رقص کرتے پھولوں اور کلیوں کو جتنے لائکس ملتے ہیں، جتنا سراہا جاتا ہے اس سے پتا چلتا کہ ہم ایمان اور قابلیت سے زیادہ آواز اور ہلے گلے کے شیدائی ہیں۔

جو قربانی کرنے کے بعد صرف اپنے گھر کی دھلائی کر کے باقی محلے کی طرف سے بے پروا ہوجائے وہ کشمیر کا کیا خاک غم منائے گا؟ مایوسی کفر ہے، اللہ سب کو بہترین بنا کر صراط مستقیم کی طرف گامزن کرے۔ اللہ اس قوم کو بہادر اور سمجھدار بنائے مگر خدارا نئی نسل کی ذہن سازی کرتے ہوئے کچھ تو عقلمندی کا ثبوت دیں۔ یہ جو ننھے ذہن آج ہمارے ہاتھ میں ہیں، یہی ہمارا مستقبل، ہمارا کل ہیں۔ ان کے سامنے مثالی کردار بن کر دکھائیں، اللہ ان میں شوق جہاد پیدا کرے اور مجاہدین کو نصرت عطا کرے آمین۔

Facebook Comments