رات ورک شاپ سے واپس آتے ہوئے حامد بہت خوش تھا۔ خوشی کی وجہ اس ماہ کی تنخواہ تھی، جو اس کی محنت اور ایمانداری کی وجہ سے 12000 سے 14000 ہزار ہو گئی تھی۔ ابھی وہ گلی کے کنارے پر تھا کہ اسے شور شرابہ سنائی دیا۔ خیر! یہ تو یہاں چھوٹی اور کچی بستیوں کا روز کا معمول تھا۔تھوڑا قریب پہنچا تو سلیم بھائی نفیسہ خالہ کے گھر کے سامنے کھڑے ان کے دروازے پر لاتوں اور مکے برسا رہے تھے، ساتھ ساتھ مغلاظات بھی زباں سے ادا ہورہے تھے۔ کچھ بد دعائیں بھی شامل تھیں۔ محلے کے کچھ لوگ بھی ان کے ہم نوا تھے اور کچھ کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔ یہ تو سلیم بھائی کی عادت اور معمول کی بات تھی۔ وہ محلے کی ایک معتبر شخصیت تھے، اس میں ان کے کردار اور تربیت سے زیادہ ان کی دولت اور اثر و رسوخ کا کمال تھا۔

حامد پہلے تو معاملے کو سمجھ نہیں پایا کہ ایک غریب بوڑھی عورت، دو جوان بیٹیوں اور ایک کم سن بیٹے نے سلیم بھائی کا کیا بگاڑا ہے! کہ انہوں نے آدھی رات کو پنچائیت لگائی ہوئی ہے بلکہ بغیر معاملے کو سمجھے فیصلہ صادر کر رہے ہیں۔ چور! جھوٹی عورت! یہ سلیم بھائی کے بیٹے کی آواز تھی۔ ہاں ہاں بھائی یہ تو ہے ہی ایسی۔۔۔ پچھلے محلے میں بھی یہی کیا تھا، ہزاروں کا کرایہ کھا کر اب سلیم بھائی کا پیسہ بھی کھائے گی۔ ہم تجھے سلیم بھائی کا پیسہ ہضم نہیں کرنے دیں گے۔ مجمع میں سے ہمدردانہ صائیں بلند ہورہی تھیں۔ دیکھ بھئی جلدی سے پیسہ نکال ورنہ ابھی کے ابھی مکان خالی کر۔ عزت سے پیسہ نکال دے، ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں کل عید ہے، ہمیں جانور بھی لینے جانا ہے۔ تو میرا پیسہ دے یا ہم تیرا سامان گھر سے نکال کے باہر پھینک دیتے ہیں۔

نفیسہ خالہ کا بیٹا جو گھر کا نفیسہ خالہ کے ساتھ مل کر گھر کی کفالت بھی کرتا تھا، چند ڈنڈا بردار نوجوانوں نے اسے گریبان سے دبوچا ہوا تھا اور سلیم بھائی کے اشارے کے منتظر تھے کب اس پر یہ ڈنڈے برسائے جائیں۔ حامد کو اب معاملہ سمجھ آگیا تھا۔ آج صبح ہی کام کے لیے جاتے ہوئے نفیسہ خالہ سے اس کی بات ہوئی تھی کہ انھیں اس ماہ کے کرائے کے ساتھ کچھ روپے پچھلے ماہ کے بھی ادا کرنے ہیں۔ نفیسہ خالہ بیمار ہونے کی وجہ سے ٹافیاں پیک کرنے والی فیکٹری نہ جا پائی تھیں، اس لیے نے ان کی چند ہراز روپے تنخواہ میں سے کافی پیسے کٹ چکے تھے اور اکیلے کم سن کفیل کی تنخواہ کرایہ ادا کرنے کے لیے نا کافی تھی۔

حامد آگے بڑھتا ہوا اپنی جیبوں کو ٹٹولنے لگا۔ اتنے بڑے مجمع میں اور اتنی معتبرشخصیت کے سامنے براہ راست پیش ہونا اس کے لیے محال ہورہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتے ہوئے، سلیم بھائی کے پاس جا پہنچا تھا۔”ہاں بھائی حامد آگیا تو! لایا ہے نا پیسے بس ابھی اس بڑھیا سے نمٹ لیں پھر نکلتے ہیں منڈی۔ یار! تو ہے بہت اچھاہے، اتنا رحم دل ہے۔ اللہ تجھ سے بہت“۔ ”جی سلیم بھائی لایا ہوں پیسے۔ سلیم بھائی مسکرائے۔ یہ لیجیے نفیسہ خالہ کے گھر کا کرایہ اور جو پیسے پچھلے ماہ کے وہ بھی اس میں سے کاٹ لیجیے“۔ حامد اجتماعی قربانی کے لئے لائے گئے پیسوں کی قربانی دیتے ہوئے، اپنے رب کو قرض حسنہ دے دیا تھا۔

Facebook Comments