اے امتِ مسلمہ جاگ ذرا
اب وقت کٹھن آ پہنچا ہے
تنہا ہے وطن اب جاگ ذرا
ماضی میں پل بھر جھانک ذرا
بھائی جو بے گناہ مارے تھے
وہ ماوں کے تڑپتے لاشے تھے
عصمت دری کے ہزار قصے تھے
ننھی کلیوں کی پتیاں چن ذرا
قربانی تو سنتِ انبیاءتھی
وہ بس جذبے کی سچائی تھی
نبی کی محبت کی قربانی تھی
تو جا اسلام کا کر پرچار ذرا
کشمیر تو میری شہ رگ ہے
میرے پرچم کا ہرا رنگ ہے
اسلام کی یہ نئی امنگ ہے
اس امنگ کو تو سنبھال ذرا
تو بت کفرکے توڑ دے
دریاوں کے رخ موڑ دے
باتوں کو اب تو چھوڑ دے
اب تو دشمن کو للکار ذرا
یہ عید، آزادی، جشن منانا نہیں
کشمیر میں آگ برسانا نہیں
روح کو کفر کا قیدی بنانا نہیں
عَلم آزادی کا وہاں لہرانا ذرا
اے امتِ مسلمہ جاگ ذرا
اسلام کا پرچم اب تھام ذرا
کفر کو دے دے تو لگام ذرا
الہی!کشمیر کو لکھ آزاد ذرا

Facebook Comments