جانور خرید کر اس کا لہو بہانے کے بجائے اتنی رقم غریبوں اور مسکینوں میں بانٹ دینی چاہیے۔ الفاظ ایسے تھے کہ میں لرز کر رہ گیا۔ میں اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا جب ایک نامور لکھاری کے قربانی کے بارے میں لکھے گئے الفاظ پڑھ کر حیران رہ گیا۔ سوچ کا دھارا بہنے لگا اور میں آج سے کئی ہزار برس پہلے سرزمینِ عرب کی سیر کرنے لگا۔ کیا دیکھتا ہوں ایک شفیق باپ اپنے بیٹے سے کہہ رہا ہے، ”اے پیارے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، بتا تیری کیا رائے ہے؟“ (سورة الصفٰت)جب باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں اور بیٹا حضرت اسماعیل علیہ السلام ہوں تو ان سے فرمانبرداری اور رب کی اطاعت کے علاوہ کیا امید کی جا سکتی ہے تو انہوں نے کہا، ”ابا جان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ ان شاءاللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے“۔ (سورة الصفٰت)

پھر آسمان نے وہ رقت آمیز منظر دیکھا کہ اطاعت خداوندی میں باپ نے آنکھیں بند کر کے چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر پھیر دی۔ آنکھیں کھولیں تو بیٹا کھڑا مسکرا رہا تھا اور مینڈھا ذبح ہوا پڑا ہے پتا چلا کہ یہ تو آزمائش تھی اور وہ اس آزمائش میں پورا اترے مینڈھا کا ذبح ہونا اسی بات کی علامت تھا۔ اللہ تعالٰی کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ فرمانبرداری کی ادا اس قدر پسند آئی کہ قیامت تک کے آنے والے ہر صاحب استطاعت مسلمان کے لیے واجب قرار کر دی گئی۔

یہی تو فلسفہ قربانی ہے کہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں کوئی دلیل نہیں چاہیے ہوتی۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ ”یوم النحر یعنی (دس ذی الحجہ) قربانی کے دن بندے کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک قربانی سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قربانی کا جانورقیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے نزدیک قبولیت کے درجے کو پہنچ جاتا ہے پس چاہیے کہ قربانی بہت خوشدلی سے دیا کرو“ (ترغیب)

سورةالحج میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے، ”اللہ کو نہ ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے“۔ بہت سے گھرانوں کو سال بعد عیدالاضحٰی کے موقع پر ہی گوشت کھانا نصیب ہوتا ہے۔ اس لیے کوشش کیجیے ہر صاحب نصاب اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی راہ میں خلوص نیت سے قربانی کرے اور قربانی کے تین حصے کیجیے یعنی ایک حصہ مستحقین، دوسرا عزیز و اقارب اور تیسرا حصہ اپنے لیے رکھیے۔ اگر ہر فرد اس طرح کرے تو عیدالاضحیٰ کے موقعے پر کسی گھر میں چولہے پر دال نہیں پک رہی ہوگی اور تمام چہروں پر مسکراہٹ ہوگی۔

Facebook Comments