دنیا کے منصفو! سلامتی کے ضامنو
کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے لہو کا شور سنو

اللہ اللہ! یہی دیکھنا باقی رہ گیا تھا کہ امت مسلمہ اپنی بقا کے لیے اغیار پر تکیہ کیے ہو ہے ہے۔ پون صدی ہونے کو آئی! کسی نے کشمیر کی وادی میں بہتے ہوئے لہو کا شور نہیں سنا۔ پہلے تو چلو میڈیا اتنا طاقتور نہیں تھا یا رسائی اتنی آسان نہ تھی مگر اب! آج کے اس سوشل میڈیا کے دور میں جہاں کوئی پھسل جائے تو بھی ساری دنیا کو خبر ہو جاتی ہے۔ تو کیا کشمیر میں جو ہو رہا ہے نہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ، جو کیا جا رہا ہے، دنیا اس سے بے خبر ہے؟ آج انٹر نیٹ کے اس دور میں آپ ایک ننھی منی سی ایپ بھی ڈاو¿ن لوڈ کرتے ہیں تو اس کے ٹرم اینڈ کنڈیشن میں واضح طور پر آپ سے آپ کے ڈیٹا تک رسائی طلب کی جاتی ہے۔ مطلب دنیا بھر سے آپ پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ آپ کی کالز اور میسجز کو مانیٹر کیا جاتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا کشمیر کے حالات سے بے خبر ہے۔ اس لیے ”دنیا کے منصفوں“ سے امید مت لگائیں اور ہمارا شکوہ دنیا سے تو ہے بھی نہیں۔ ہمارا گلہ تو اپنوں سے ہے۔

دنیا تو غیر ہے، ہماری سنی کو ان سنا کرے گی ہی مگر کیا امت بھی بہری ہو گئی ہے؟ امت کیوں خاموش ہے؟ امت مسلمہ اس روئے زمین پر موجود آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے مگر ہر جگہ رذیل! ہر پلیٹ فارم پر خوار! مقام حیرت تو یہ ہے کہ برطانیہ یا فرانس میں کوئی حادثہ ہو جائے تو سوشل میڈیا پر ڈی پیاں لگا دی جاتی ہیں۔ اور مسلم امہ کے لیے ”یا اللہ رحم!“ کے ایک کمنٹ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کیوں کہ ہم نے طاقتور کے سامنے جھکنے کو سکون و نجات کو ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ میرا پیٹ بھرا ہوا ہے تو مجھے کسی بھوک سے بلکتے آنتوں کی پرواہ کیوں ہو گی۔ میرا گلہ دنیا سے یا اقوام متحدہ سے نہیں، اس خاموش امت سے ہے۔ یاد رکھیں! اب بھی نہ بولے تو دلی زیادہ دور نہیں۔ آج ان کی تو کل ہماری باری ہے۔ بھیڑیے کے منہ کو خون لگ چکا ہے اور مسلم خون تو خوشبو دار ہوتا ہے۔ اس میں سے، کمزور ہی سہی، ایمان کی مہک آتی ہے جو اس بھیڑیے کو بہت بھاتی ہے۔

کشمیر ہی کیوں! غزہ، فلسطین، برما اور ہندوستان، ہر جگہ مسلمان بیٹیاں محمد بن قاسم کو پکار رہی ہیں، عمر کو صدائیں دے رہی ہیں، طارق بن زیاد کی راہیں تک رہی ہیں مگر وہ اب نہیں آئیں گے کیونکہ اب ماو¿ں نے محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی اور نور الدین زنگی پیدا کرنے چھوڑ دیے ہیں۔ جب مائیں اپنے بچوں کو صدیق کی صداقت، بلال و اویس کی محبت، عثمان کی سخاوت اور حیا، علی اور عمر کی دلیری اور انصاف کی بجائے سپائیڈر مین کی کہانیاں سنائیں گی تو ایسی ہی قوم تیار ہو گی جیسے آج ہم ہیں۔ بریان وانی کا نام تو سب نے سن رکھا ہے۔ کون تھا وہ؟ ایک کشمیری مجاہد! جیسے بھارتی فوج نے شہید کر دیا مگر وہاں تو روز ہی شہریوں کو اور مجاہدوں کو شہید کیا جارہا ہے تو پھر برہان وانی! چہ معنی وارد؟ وہ ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا۔ وہ کوئی گولی بندوق لے کر بھارتی افواج پر حملہ آور نہیں ہوا تھا۔ وہ تو ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تھا۔ دنیا کو کشمیر کی سچائی دکھا رہا تھا بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر رہا تھا۔ کشمیریوں میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کر رہا تھا۔ بس! شہید کر دیا گیا مگر اس کا لہو جہاں جہاں گرا وہیں
وہیں سے ایک برہان وانی پیدا ہوا۔

میں جانتا ہوں دشمن بھی کم نہیں ہے
لیکن ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے

اب دیکھیں وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے انٹر نیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔ ہندوستان نے اپنے آئین سے آرٹیکل 370 ختم کر کے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا ہے۔ اس کے بعد پورے بھارت سے بھارتی شہریوں کو کشمیر کی سرزمین پر رہائش اختیار کرنے کا حق حاصل ہو گیا ہے۔ اب سکون سے پورے بھارت سے ہندوو¿ں کو کشمیر میں بسایا جائے گا اور مسلم آبادی کو مسلم اقلیت میں بدل دیا جائے گا تاکہ کل کلاں کو اگر کسی وجہ سے استصواب رائے کرانا بھی پڑے تو ہندو اکثریت بھارت کے حق میں فیصلہ کرے۔ آہ! آج اقوام عالم اس بات کی گواہ ہیں کہ شہہ رگ کٹ جانے کے باوجود ایک قوم نہ صرف زندہ ہے بلکہ کچھ ہی دنوں میں 14 اگست پر گاڑی پر پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے انڈین گانے بھی سنے گی۔ باقی رہ گئے ہم! ہم کچھ نہیں کریں گے، ہم کچھ نہیں کر سکتے. آئیے! ڈی پیاں بدلتے ہیں۔

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

Facebook Comments