دادا جی دادا جی! کاشف جوش سے بھاگتا سارے گھر میں دادا جان کو آوازیں دے رہا تھا۔ ”کیا ہوا کاشف میاں؟“ دادا جان ڈرائنگ روم میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ اب اخبار ایک طرف رکھ کر کاشف کی طرف متوجہ ہوئے۔ ”دادا جان آپ کا بڑا مسئلہ حل ہوگیا“، جوش کے مارے کاشف کا سانس پھولا ہوا تھا۔ ”وہ کیا بھلا؟“ دادا جان حیران ہوئے۔ ”وہ کل آپ بابا جانی سے کہہ رہے تھے ناں کہ روز قیامت میرے پاس کیا ہوگا؟ میری میزان کہیں خالی نہ ہو؟ اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟ اور آپ رو بھی پڑے تھے“، کاشف دکھی ہوا۔ ”دادا جان پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہماری ٹیچر نے آج ہمیں بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں، الحمد للہ میزان کو بھر دیتا ہے۔ بس اب آپ جلدی سے کہہ دیں الحمد للہ تاکے آپ کا میزان بھر جائے“، کاشف نے جلدی جلدی حدیث سنا کر گہرا سانس لیا۔

الحمد للہ، الحمد للہ، الحمد للہ میرا پوتا تو بہت ہونہار ہے، دادا جان کاشف کی بات سن کربہت خوش ہوئے تھے۔ ”ایک بات اور دادا جان یہ جومیزان ہے ناں اس کے دو پلڑے ہوں گے، اگر ان میں سے ایک پلڑے میں آسمان و زمین اور ان میں جو مخلوقات ہیں، ان سب کو رکھ دیا جائے، تو وہ ان کو اپنے اندر سمالے، الحمد للہ کہنے سے یہ سارا بھر گیا اب ہم جنت میں جائیں گے“، کاشف خوشی سے دادا جان سے لپٹ گیا۔

ارے دادا پوتا کس بات پر خوش ہو رہے ہیں، کاشف کے ابا کمرے میں داخل ہوئے۔ ”ابا جان ہمیں حدیث معلوم ہوئی ہے کہ الحمد للہ کہنے سے میزان بھر جاتا ہے بس اسی بات پر خوش ہو رہے ہیں کاشف نے خوشی خوشی ابا کو بتایا“۔”یہ تو بہت اچھی بات ہے ابا جان بھی سن کر بہت خوش ہوئے اور صوفے پر بیٹھتے ہوئے کاشف سے پوچھنے لگے کیا تمہیں معلوم ہے الحمد للہ کے کیا معنی ہیں؟“ ”جی نہیں“، کاشف نے منہ لٹکایا اسی دوران سائرہ چائے لے کر کمرے میں داخل ہوئی تو خوشی سے بولی، ”بابا جانی مجھے معلوم ہے کہ الحمد للہ کے کیا معنی ہیں کیا میں بتاو¿ں؟“ ”جی بالکل“، اباجان سائرہ کی طرف متوجہ ہوئے الحمد للہ کے معنی ہیں سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“۔ ”اس کے علاوہ الحمداللہ کے ایک معنی اور بھی ہیں“، سلمان جو ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہنے لگا، ”الحمدللہ کے معنی ہیں تمام شکر اللہ کے لیے ہے“۔ ”شاباش بچو! دادا جان نے خوش ہو کر بچوں کو شاباش دی“۔

تمام تعریف اللہ کے لیے ہے لیکن ہم توسارا دن مختلف لوگوں اور چیزوں کی تعریف کرتے ہیں۔ بات کچھ سمجھ نہیں آئی، کرن کچھ سوچتے ہوئے بولی۔ ”دیکھو کرن بیٹا! جب ہم کہتے ہیں کہ یہ پرندہ، پھول یا منظر بہت خوبصورت ہے۔ یہ انسان بہت حسین، ذہین یا قابل ہے تو غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ان سب کا خالق کون ہے۔ اس حسن، اس ذہانت کو تخلیق کس نے کیا؟“ ”اللہ تعالی نے“ کاشف نے جلدی سے جواب دیا۔ ”بس توپھر سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے“۔ ”یعنی ہمیں اور اس کائنات کو عطا کردہ ہر خوبی ہر خوبصورتی اللہ تعالی کی تخلیق کردہ اور ودیعت کردہ ہے۔ ہمیں ان خوبیوں اور خوبصورتیوں پر غرور نہیں کرنا بلکہ الحمدللہ کہنا ہے“، سلمان نے بات سمجھتے ہوئے دادا جان کی تائید چاہی۔ ”جی بالکل“، دادا جان نے محبت سے جواب دیا۔

سب شکر اللہ کے لیے ہے۔ اس کا مطلب کون بتائے گا؟ دادا جان نے پوچھا۔ ”بابا جانی“، کرن نے ہنس کر بابا جانی کی طرف اشارہ کیا۔ ”پیارے بچو! اگر کوئی ہم پر احسان کرے ہمیں کوئی نعمت دے تو ہم پر اس کا شکر واجب ہو جاتا ہے۔ ہم پر سب سے بڑھ کر احسان تو اللہ تعالی کا ہے کہ اس نے ہمیں پیدا کیا۔ ہمیں ان گنت نعمتیں عطا کیں۔ تو ہمیں اللہ کاشکر ادا کرنا ہے۔ شکر کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ نعمت کو نعمت دینے والے کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا“، بابا جانی نے بات کو آگے بڑھایا۔ جیسے اللہ نے زبان کی نعمت دی تو اس کا شکر یہ ہے کہ اس سے ہم اچھی بات کہیں اوربری بات نہ کہیں۔ اگر ہم زبان کی نعمت پر زبانی تو الحمدللہ کہیں اور جب بولیں تو جھوٹ بھی بولیں گالی بھی دیں اور چغلی بھی کھائیں تو یہ شکر نہیں بلکہ ناشکری ہو گی۔

اچھا بچو! یہ بتاو ہمارے پاس اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت کونسی ہے؟ دادا جان نے پوچھا۔ ”میرے خیال میں آنکھیں“، کرن نے کہا ”اور میرے خیال میں دماغ“ سائرہ سوچتے ہوئے بولی۔ کاشف کہنے لگا، ”میرے خیال میں تو امی ابو اور ہمارا یہ پیارا سا گھر“۔ ”دادا جان میں بتاو¿ں ہمارے پاس سب سے بڑی نعمت کونسی ہے“، سلمان کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگا۔ ”کہو سلمان بیٹے“۔ ”دادا جان ہمارے پاس سب سے بڑی نعمت اسلام کی ہے اللہ تعالی نے ہمیں انسان بنا کر بہترین ساخت پر پیدا کیا پھر اس نے ہمیں دین اسلام عطا کر کے اعلی ارفع کردار اپنانے کی نعمت عطا کی“۔ ”شاباش سلمان بیٹے تم نے بہت اچھی بات کہی“، دادا جان خوش ہو کر بولے، ”لیکن یہ تو بتاو¿ اس نعمت کا شکر ہم کیسے ادا کریں گے؟“ بابا جان نے پوچھا۔

میرے خیال میں اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ ہم دین اسلام کو سمجھیں اور اس پر عمل کی کوشش کریں بندر بن کر غیر اقوام کی نقل نہ اتاریں بلکہ خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی کو ذہن میں رکھتے ہوئے دین اسلام کو سمجھیں اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں صحابہ کرامؓ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہواوں کے رخ موڑ دیں۔”اپنے زور بازو سے اپنے آپ کو اور اپنے معاشرے کو اس پیارے وطن کو اور اس پوری دنیا کو اللہ تبارک و تعالی کی شریعت کے تابع کریں یہ ہے ہمارے شکر کی عملی صورت“، سلمان جو اسلامی تاریخی کتابیں پڑھنے کا شوقین تھا جوش سے بولا۔

شاباش بچو! آپ لوگوں نے الحمدللہ رب العالمین کو بہت اچھا سمجھا میری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے اور روزِ قیامت ہم سب لوگوں کا میزان الحمدللہ کی برکت سے بھرا ہوا ہو۔ آمین ثم آمین سب بچوں نے مل کر کہا۔

Facebook Comments