عید قربان کی آمد آمد ہے۔ پاکستان میں عید قربان ہر سال بڑے اہتمام سے منائی جا تی ہے۔ ہر طرف جانوروں کی خریدو فروخت کی باتیں ہورہی ہیں اور مویشی منڈیوں کا بازار گرم ہے۔ ہر کوئی اللہ کی را ہ میں جانور قربان کرنے کے لیے خریداری میں مصروف ہے اورحجاج کرام بھی ایک عظیم سعادت کے لیے مکہ پہنچ چکے ہیں۔ عید قربان ہر سال ہمیں حضرت ابراہیمؑ کی عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے عظیم دوستی اور محبت کی مثال قائم کی۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی قربانی اتنی پسند آئی کہ اس قربانی کو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے واجب قرار دے دیا۔

اس بار قربانی کی عید ایسے دنوں میں آرہی ہے۔ جو پاکستان کے مسلمانوں کو ایک اور عظیم قربانی کی یاد دلارہی ہے۔ وہ ہے قیام پاکستان کے وقت دی گئی مسلمانوں کی اجتماعی قربانی۔ قیام پاکستان کے وقت ان لوگوں نے اس لیے قربانی دی تاکہ ایک ایسا ملک بنا سکیں جس میں سب مسلمان اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہو سکیں۔مسلم لیگ کے قیام سے لے کر پاکستان کے قیام تک مسلمانوں نے ہر قدم پہ قربانیاں دیں۔ خواہ وہ مالی شکل میں ہوں یا جانی صورت میں۔ مسلمانوں نے اپنے ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر ایک ایسے ملک کے حصول کے لیے جدوجہد کی جس کی بنیاد صرف اسلام تھی۔ دو قومی نظریے کا مقصد لیے ہوئے بر صغیرپاک و ہند کے مسلمان ایک ایسا ملک بنانے کے لیے متحد ہوئے جہاں وہ بطور مسلمان بہترین زندگی گزرا سکیں۔

برسوں سے ایک ہی جگہ پر ہندووں کے ساتھ رہنے والے مسلمانوں کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ ہندو اپنے تعصب میں اس قدر آگے جا چکے ہیں کہ اگر انگریز حکومت کے بعد ان کے ساتھ رہنا پڑا تو مسلمان اپنے مذہبی فرائض انجام نہیں دے سکیں گے۔ ایک بار پھر غور کریں کہ انہیں اپنے معاشی معاملات کی طرف سے خدشہ نہیں تھا صرف اور صرف اپنے مذہب پر قائم رہنے کے حوالے سے خدشہ تھا۔ اگر اس دور میں مسلمانوں کے حالات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف انگریزوں کی شہہ پر ہی ہندووں نے مسلمانوں کے لیے اسلامی احکامات پر عمل کرنا کافی مشکل بنا دیا تھا اور جب حکومت ان کی ہوتی یا ان کے ساتھ مل کر بنائی جاتی تو کیا کیا مسائل ہوتے۔ آج کل ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ قربانی کی عید پر تو ہر سال بہت سے واقعات خبروں میں آتے ہیں جن میں مسلمانوں کو قربانی کی عید پر جانور ذبح کرنے سے روک دیا جاتا ہے اور کئی جگہ پر تو فسادات بھی ہو جاتے ہیں۔

ان دنوں بہت سی ایسی تحریریں پڑھنے کو ملتی ہیں اور بہت سے لوگوں کی گفتگو سننے کو ملتی ہے جو کہ دو قومی نظریے کے تصور کو سرا سر نظر انداز کر کے قیام پاکستان کو صرف ایک سیاسی تقسیم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کو گمراہ کرنے کی بدترین سازش ہے۔ رہی سہی کسر میڈیا کے ذریعے انڈین کلچر کی بھرمار نے پوری کر دی ہے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ اکثر لوگوں سے گفتگو ہوتی ہے تو وہ اپنے آپ کو بھارتی یا دوسرے لفظوں میں بھارتیوں کا بچھڑا ہوا بھائی قرار دینے کی کی کوشش کرتے ہیں اور آج کل تو ٹی وی چینلز پہ ایک اور نعرہ بڑے زور و شور سے چلایا جا رہا ہے کہ”ہمسایہ ماں جایہ“۔ افسوس کے ہمارے ہاں لوگ اپنے مذہب اور دین سے بہت دور جا چکے ہیں۔ خاص طور پر خواتین وہ بہت جلد میڈیا کے ایسے واروں کا شکار ہو جاتی ہیں مذہب سے دوری کی وجہ سے بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ جہاں ہمارے مذہب اسلام نے ہمسائے کو اتنے حقوق دیے ہیں تو اسی مذہب نے کافر اور مسلمان کے درمیان ایک فرق بھی قائم کیا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات مثلا: گجرات، احمد آباد، بابری مسجد جیسے واقعات کو ایک لمحے کے لیے نظر انداز بھی کر دیں تو ان دنوں کشمیر میں ہونے والے مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک سے تو کوئی بے خبر نہیں تو کیا وہ بھارت کے ہمسایے ماں جا ئے نہیں ہیں؟

میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا بھلے ہندووں کے ساتھ رشتے داروں والا تعلق ہو لیکن پاکستان میں موجود 99 فیصد مسلمانوں کی زندگیاں کلمہ طیبہ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ سیاسی تقسیم کا فراڈ زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا اور دو قومی نظریے کی بنیاد کو تاریخ سے مٹانا یا بدلنا آسان نہیں۔ قیام پاکستان کے وقت دی گئی لاکھوں مسلمانوں کی جانی اور مالی قربانیاں، ہزاروں عورتوں کی لوٹی ہوئی عصمتیں اور صدیوں سے ایک جگہ رہتے ہوئے بنائی ہوئی عزت اور جائیداد کی قربانیاں کیا کبھی بھلائی جا سکتی ہیں؟

کیا چند گانے اور ڈرامے ایک عظیم مقصد کے لیے بنائے گئے ملک کے نوجوانوں کا رخ بدل سکتے ہیں۔ جس طرح حضرت ابراہیمؑ کی سنت کی پیروی کرنے والے نمود و نمائش کے لیے قربانی کرنے والوں اور برینڈز پہننے والوں سے زیادہ ہیں۔ اسی طرح مجھے امید ہے کہ پاکستانی قوم کی عقل پر ڈالا ہوا میڈیا کا یہ پردہ جلد چاک ہو گا۔ مجھے امید ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستانی نوجوان پاکستان کا اصل مقصد سمجھ جائیں گے۔ باشعور ووٹر ہونے کے ساتھ ساتھ با شعور مسلمان بھی بن جائیں گے۔ کیوں کہ

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمیﷺ

Facebook Comments