کتاب حصول علم، ترسیل علیم اور فروغ علم کا ذریعہ ہے۔ اسے مردوں کی زبان اور زندوں کی آواز کا درجہ حاصل ہے۔ کتاب بیک وقت وفادار ساتھی، استاد اور ایک مفید غمگسار دوست ہے۔ اکیسویں صدی میں جہاں الیکٹرانک میڈیا نے بہت ترقی کی ہے تو وہیں اِی۔بک کی صورت میں دنیا جہان کی کتب تک رسائی بھی آسان ہوگئی ہے۔ اس کے باوجود مطبوعہ کتب کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔

کتب بینی علم میں اضافے اور پریشانیوں یا مسائل سے چھٹکارے کا بہترین نسخہ ہے جو انسان کو تنہائی یا اکتاہٹ کا شکار ہونے سے بھی بچائے رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ مطالعے کے بے شمار فوائد ہیں، جن میں معاملہ فہمی، فصاحت و بلاغت، خیالات میں پاکیزگی کے ساتھ ساتھ مطالعہ کرنے والے کے حافظہ و یادداشت میں بھی وسعت پیدا ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مطالعے کی عادت انسان کے وقت کو قیمتی بناکر وقت کے ضیاع سے بچاتی ہے۔ آسمان اور زمین کے درمیان مہر و ماہ، کواکب و سیارات، شفق، قوس قزح، ابر و باد، کوہ و صحرا، سمندر، دریاوں، وادیوں اور میدانوں نے ایسے خطوط کھینچے ہیں جن میں فکر کرنے والی نگاہ اپنے لیے بہت کچھ حاصل کرلیتی ہے۔

قوموں کی تاریخ ہو یا مختلف انواع و اقسام کے علوم ان سب کے لیے مطالعہ ہی اہم ترین ماخذ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں مطالعے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بچپن سے ہی مطالعے کا شوق و عادت پیدا کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ یورپ میں دوران سفر بھی لوگ کتاب ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں مطالعے کی عادت و ذوق کی صورتحال مایوس کن ہے۔ 23 اپریل 2019 کو دنیا بھر میں مطالعے کا عالمی دن منایا جاتا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سوائے چند ایک کے پاکستان میں لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ مطالعے کا عالمی دن بھی ہوتا ہے۔

حالیہ گیلپ اور گیلانی رسرچ فاونڈیشن سروے کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے تین افراد مطالعے کے پاس سے بھی نہیں گزرتے یعنی ہماری 75 فیصد آبادی مطالعہ نہیں کرتی۔ صرف 9 فیصد لوگ مطالعہ کرنے کا شوق رکھتے ہیں جن میں سے اکثریت بمشکل ایک گھنٹہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شعور و آگہی کا فقدان ہے اور شدت پسندی کی جڑیں بہت گہری ہیں خواہ وہ لسانی ہو یا علاقائی، گروہی ہو یا مذہبی شدت پسندی۔ یہ ہمارے معاشرے کا اہم جُز بن کر رہ گئی ہے لیکن المیہ تو یہ ہے کہ سرکاری سطح پر کبھی بھی اس کے لیے کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے اور یہ اہم پہلو عدم توجہی کا شکار رہا۔ مطالعے کا شوق و عادت نہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں جن میں مقامی زبان میں معیاری کتب کا فقدان، کتب کی عدم ترسیل، عوام کی قوت خرید کا نہ ہونا، مہنگائی، لائبریریوں کا فقدان، اسکول و کالج کی سطح پر لائبریریوں پر عدم توجہی اور سب سے بڑھ کر یہ پرائمری و مڈل لیول پر بچے کو مطالعے کی عادت نہیں ڈالی جاتی۔ جس کی وجہ سے مطالعے کرنے والوں کی تعداد میں آہستہ آہستہ کمی واقع ہورہی ہے۔

اس ضمن میں سندھ کے وزیر تعلیم سردار شاہ کی کوشش قابل تحسین ہے کہ وہ اپنی نئی بھرتی کردہ ٹیم کی حوصلہ افزائی کررہے جس کی بدولت نئے بھرتی آئی بی اے ہیڈ ماسٹرز نے پرائمری اسکولوں کی سطح پر لائبریریز متعارف کروا کر بچوں کے لیے مطالعے کے اوقات نافذ کیے۔ یہ کوشش یقیناً مستقبل میں ضرور کار آمد ثابت ہوگی امید ہے کہ حکومت پاکستان و چاروں صوبائی حکومتیں پرائمری لیول پر مطالعے کی عادت کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں گی۔ مطالعے کو شوق کو بڑھانے اور معاشرے کی ترقی میں حصہ ڈالتے ہوئے لاہور کے کامیاب کتب میلے کے بعد اب بگ بیڈوولف بک سیل کی جانب سے کراچی میں 26 جولائی تا 5 اگست تک گیارہ روزہ عالمی کتب میلے کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں 50 سے 90 فیصد تک قیمت میں ڈسکاونٹ رکھا گیا ہے جوکہ مطالعہ کرنے والوں کے ذوق اور مطالعے کی طرف رجحان میں اضافے کا باعث
ثابت ہوگا۔

حکومت پاکستان و چاروں صوبائی حکومتوں کو اس قسم کے میلوں کے انعقاد کی سرپرستی کرنی چاہیے اور ملک کے دیگر چھوٹے شہروں میں بھی اس قسم کے کتب فیسٹیولز کا انعقاد کرانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ کتابوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے لیے فوری اقدامات اٹھانے چاہییں۔ مختلف شعبہ جات کی معیاری کتب کا فوری اور بڑے پیمانے پر اردو تراجم کرواکر انتہائی کم قیمت پر پورے ملک میں ترسیل کو فروغ دینا چاہیے اور پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے بھرپور آگاہی و بیداری مہم سازی کرنی چاہیے تاکہ لوگوں میں مطالعے کا شوق زور پکڑے۔

Facebook Comments