انگریزی زبان دور حاضر کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ اس کی ضرورت و اہمیت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ اس زبان سے کچھ لوگ اس قدر متاثر نظر آتے ہیں جو قومی زبان بولنا توہین سمجھتے ہیں اور اردو زبان بولنے والوں کو کم علم و کم عقل گردانتے ہیں۔ ہم نے انگریزی زبان کو صلاحیتوں کو ناپنے کا آلہ سمجھ لیا ہے۔ جو جتنی اچھی انگریجی میرا مطلب ہے انگریزی بولتا ہے وہ اتنا ہی سیانہ لگتا ہے چاہے اس کی بات بے وزن ہی کیوں نہ ہو۔

ہمارے آس پاس ہمیں اکثر لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو فقط اپنی برتری جتانے کے لیے اس زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ جو منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں چاہے ان کی بات کسی کو سمجھ آئے یا نہ آئے۔ کسی کو ان کی بات سمجھ میں نہ آئے پھر تو یہ ان کے نزدیک مزید کمال کی بات ہوتی ہے کہ وہ بالکل انگریزوں کے لب و لہجے میں بات کرنے لگے ہیں جو سیدھے سادہ لوگوں کی سمجھ سے ہی باہر ہے۔ حالاں کہ یہ بات اخلاقیات کے خلاف ہے۔ جو لوگ انگریزی نہیں سمجھ سکتے جیسے بڑی عمر کے افراد ہوں یا کم تعلیم یافتہ ہوں یہ ان کی توہین ہے۔ تعلیم انسان کو تواضع سکھاتی ہے نہ کہ دوسروں کی تذلیل کرنا۔ ایسے لوگ احساس تفاخر میں اخلاقیات کا درس بھول بیٹھتے ہیں۔ لوگ ایسے لوگوں سے کترانے لگتے ہیں۔ ان کے پیٹھ پیچھے مذاق ان کا الگ اڑایا جاتا ہے۔

جب کہ کچھ لوگ آپ کو ایسے بھی نظر آئیں گے جو ان لوگوں کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہو کر ”انگلش“ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر بے چارے سیکھ نہیں پاتے۔ چند الفاظ سیکھ کر اردو کے ساتھ ملا کر بولتے ہیں۔ اس طرح وہ اردو کی ٹانگ اور انگریزی کے بازو توڑ کر اپنے شوق کو پورا کرلیتے ہیں۔ غیروں کی نقل میں ہمارا حال آدھا تیتر آدھا بٹیر جیسا ہوجاتا ہے۔

زندگی اتنی مصنوعی اشیاوں کے درمیان جیتے جیتے ہم نے اپنی زبان میں بھی ملاوٹ کر ڈالی ہے۔ اپنے احساس و جذبات اپنی زبان سے بہتر ہم کسی بھی زبان میں اپنوں تک نہیں پہنچا سکتے۔ چاہے وہ جذبہ محبت کا ہو، اپنائیت کا ہو، ناراضی کا ہو یا درد کا۔ اردو کا استعمال کیجیے جب گھر میں ہوں، دوستوں کے درمیان ہوں یا اپنوں کے ساتھ ہوں چاہے آپ کو کتنی ہی اچھی انگریزی کیوں نہ آتی ہو۔ گفتگو کو تکلفانہ بنا کر زندگی کو مزید مشکل نہ بنائیں۔ انگریزی اگر کامیابی کی ضمانت ہوتی تو آج انگریزوں میں کوئی بھی خاکروب، مزدور یا بھکاری نہ ہوتا۔

Facebook Comments