حضرت ابوہریرہ ؓ سے صحیح بخاری میں روایت ہے کہ نبی کریم و خاتم النبین ﷺ نے فرمایا، ”میری اور مجھ سے پہلے تمام انبیاءعلیہ السلام کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا اور اس میں ہر طرح کی زینت پیدا کی، لیکن ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی۔ اب تمام لوگ آتے ہیں، مکان کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھتے ہیں اور تعجب میں پڑ جاتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہاں ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو میں وہ اینٹ ہوں، اور میں خاتم النبینﷺ ہوں“۔ مسئلہ ختم نبوت، یعنی آنحضرت محمد الرسول اللہ ﷺ پر ہر قسم کی نبوت اور وحی کا اختتام اور آپ ﷺ کا آخری نبی و رسولﷺ ہونا اسلام کے ان بدیہی مسائل میں سے ہے جن کو تمام عام و خاص، عالم و جاہل، شہری اور دیہاتی مسلمان ہی نہیں بلکہ بہت سے غیر مسلم بھی جانتے ہیں۔

تقریباََ چودہ سوبرس سے کڑوڑہا مسلمان اسی عقیدے پر کھڑے ہیں اور یہی بنیادی اساس ہے۔ لاکھوں علمائے امت نے اس مسئلے کو قرآن و حدیث کی تفسیر و تشریح کرتے ہوئے واضح فرمایا اور کبھی یہ بحث پیدا نہیں ہوئی کہ نبوت کی کچھ اقسام ہیں اور ان میں سے کوئی خاص قسم محمد الرسول اللہ ﷺ کے بعد باقی ہے، یا نبوت کی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی و بروزی یا مجازی و لغوی وغیرہ اقسام ہیں۔ قرآن و حدیث میں اس کا کوئی اشارہ نہیں، پوری امت اور علمائے امت نے نبوت کی یہ قسمیں نہ دیکھی نہ سنی بلکہ صحابہؓ و تا بعینؒ سے لے کر آج تک پوری امتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰة والسلام اس عقیدے پر قائم رہی کہ آنحضرت ﷺ پر ہر طرح کی نبوت و رسالت ختم ہے۔ آپﷺ بلا استثنیٰ و تاویل آخری نبیﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول پیدا نہیں ہو گا، (حضرت عیسٰی ؑ جو آپﷺ سے پہلے پیدا ہو کر منصب نبوت پر فائز ہو چکے ہیں، ان کا آخر زمانہ میں آنا اس کے قطعاََ منافی نہیں)۔

اس مسئلے کے اتنا بدیہی اور اجماعی ہونے کے ساتھ اس پر دلائل جمع کرنا اور اس کا ثبوت پیش کرنا در حقیقت ایک بدیہی، نظری اور کھلی ہوئی حقیقت کو پیچیدہ بنانے کے مترادف ہے بلکہ اس مسئلہ کا ثبوت پیش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص مسلمانوں کے سامنے ”لا الہ الا اللہ“ کا ثبوت پیش کرے۔ ان حالات میں کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس موضوع پر لکھا جائے اور آپﷺ کی حدیث مبارکہ کا مفہوم بھی ہے کہ اگر کوئی میرے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کذاب سے اس کی کاذب نبوت کی دلیل مانگنے والا بھی گمرا ہو گا، لیکن تعلیمات اسلام سے غفلت و جہالت اور روز پیدا ہونے والے نئے نئے فتنوں نے جہاں بہت سے حقائق پر پردہ ڈال دیا ہے۔ باطل کو حق اور حق کو باطل کر کے ظاہر کیا ہے، وہیں یہ مسئلہ بھی تختہ مشق بن گیا ہے۔ ایک سو کے قریب قرآنی آیات موجود ہیں جس میں آپﷺ پر نبوت کے خاتمے کا اعلان اور دعویٰ موجود ہے۔ جن میں تشریعی، غیر تشریعی، ظلّی اور بروزی وغیرہ کے شبہات کے مدلل اورتحقیقی جوابات موجود ہیں۔ ختم نبوت کو رسولﷺ کی دو سو دس احادیث ثابت کرتی ہیں جب کہ سینکڑوں آثارو اقوال، صحابہ و تابعین و آئمین و دائمہ مجتہدین و علمائے اسلام سے ختم نبوة کے ثبوت ثابت ہوتے ہیں۔

فتنہ قادیانیت، فتنہ ارتداد کی جدید ترین قسم ہے اور فتنہ ارتداد کی حقیقت کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے پہلے بھی بے شمار مسلمہ کذاب جیسے لعین نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر چکے ہیں لیکن جب جب کسی لعین نے اسلام کے نظریہ ختم نبوت پر حملہ کیا تب تب مسلمانوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فتنہ ارتداد کا مقابلہ کیا اور خاتمہ کیا۔ جس طرح قادیانیت کی بڑھتی ہوئی سازشوں اور شر انگیزیوں کے نتیجے میں پچاس کی دہائی میں اٹھنے والی تحریک ستر کی دہائی میں زور پکڑنے لگی تو ہزاروں لوگ ختم نبوت پر قربان ہو گئے۔ اب ایک بار پھر قادیانیوں کا فتنہ سر اٹھا رہا ہے اور ان کے آلہ کار و ہمنوا سیاہ ست دان مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں۔ تو ایسے میں ہر صاحب ایمان ختم نبوت پر قربان ہو جائے گا۔ آج کے دور کے سیاہ سی بھی میری نظر میں انہی کذابوں کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔ پوری دنیا میں جہاںکہیں بھی حالات کشیدہ اور امن آگ کی نذر ہو رہا ہے اس کا پس منظر دیکھ لیں پس پشت میں کارگر سیاہ ست ہی نظر آئے گی۔ کیا پھر کسی کو امتحاں مقصود ہے تو وہ کوشش کر کے دیکھ لیں مسلم امہ اپنے قول و فعل کے ذریعے اللہ کے ایمان کی پوری طرح سے حفاظت کریں گے۔

ایک سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی جو نظروں سے گزری، جس میں ایک قادیانی جو پاکستان میں قادیانیوں کی کتابیں فروخت کرتا پکڑا گیا (کیونکہ پاکستانی قانون کے مطابق قادیونی کافر ہیں اور انہیں پاکستان میں اپنے مذہب کی تبلیغ ودعوت کی قطعاََ اجازت نہیں) کو رہا ہونے کے بعد شان تاثیر امریکہ لے گیا اور وہاں اس کی ملاقات حسین حقانی نے ٹرمپ کے ساتھ کروائی۔ ویڈیو کے مطابق بوڑھا قادیانی کہتا ہے کہ وہ مسلم ہے لیکن پاکستان اسے مسلم تسلیم نہیں کرتا، یوں لگ رہا تھا جیسے قادیانیوں کے مفتی ٹرمپ یا دیگر یہودی بشپ ہیں۔ اس کے بعد ایک نظم و ضبط کے ساتھ حکومت کے خلاف پراپیگنڈہ چلایا گیا، ہمیشہ سیاہ سیوں نے عوام کے انہی جذبات کا استعمال کر کے اپنے مذموم عزائم اور مفاد حاصل کیے ہیں جس کے لیے عوام کٹنا، مرنا اور مارنے تک سے گریزنہیں کرتی۔

سابقہ پی پی پی کے گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر نے باقاعدہ قادیانیت کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے خلافت احمدیہ زندہ آباد کا نعرہ لگایا ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب ملک بھر میں ختم نبوت کا مسئلہ کافی حساس نوعیت اختیار کیے ہوئے ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی پچھلی حکومت میں دھوکے سے ترمیمی بل منظور کروانے کی کوشش کی گئی تھی جسے حافظ حمد اللہ نے بے نقاب کر دیا تھا۔ حکومت پاکستان اس طرف بھی توجہ دے کہ اس سینٹی منٹ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور پاکستان کو کسی بھی فرقہ وارانہ یا مذہبی آگ میں لپٹنے سے پہلے فتنہ قادیانیت کا فی الفور قلع قمع کرے۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے بھی سابقہ حکومت نے کوشش کر کے دیکھ لی تو آج اس کی حکومت ہی نہیں ہے۔ عمران خان کی سیکو لر لابی ختم نبوت والی ایمانی شق پر شب خون مارنے سے باز رہے۔

Facebook Comments