میں آج بھی بولنا جانتی ہوں، پر زبان کی قیمت اپنے رشتے کی دوری کی صورت چکانی پڑی۔ حیوانی جسم مجھے بھی حاصل ہے، نفس کا شور میرے اندر بھی جاگتا ہے لیکن میری زبان کے شور نے مجھے میرے رشتے سے دور کر دیا۔ خوش قسمت لگنے لگے یہ آسمان پہ اڑتے پرندے، یہ زمین پہ چلتے حیوان جو اپنے جوڑے کے ساتھ بغیر زبان کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائے بنا ساتھ نبھائے جا رہے ہوں۔ مجھے خدا نے زبان دے کر ان بے زبانوں سے ممتاز کیا تھا، مجھے اپنی خوشی کے ساتھ اپنی تکلیف کہہ دینے کے لیے زبان ملی تھی لیکن وہ زبان آج ہمارے رشتے کے بیچ حائل ہو گئی۔ غلطی کہاں ہوئی، کس سے ہوئی اور کیوں ہوئی یہ سوال یہ جان کر بھی کہ میں عورت ہوں پھر بھی بار بار کرنے کی جرات میری زبان نے کی۔
میں نے پیار بھی کیا لیکن رشتہ دور نہ ہوا، میں نے خدمت بھی کی، رشتہ تب بھی ساتھ رہا، میں نے صبر کے بارہا مراحل سال ہا سال طے کیے لیکن رشتہ قائم رہا۔

اپنی وفاداری کی اسٹیمپ لگا دی تب بھی رشتہ میرا ہی رہا۔پھر اچانک رفیقِ حیات نے مرد ہونے کے ناتے اپنے شوق کی تسکین میں مجھے دھوکہ دے دیا اور مجھے آگہی بھی دے دی اور کہا کہ لو اب تم شریک کو سہو اور خدا کی صابر بندی بھی بن کے دکھاو تو اس رشتے کے پاس آوں گا۔ بس یہاں میں ہار گئی اور میری زبان جیت گئی جو صبر نہ کر سکی۔ جو اتنا بولی کہ رشتے کو دور کرنے کا خیال تک نہ آیا کہ جیسے اگر زبان بند ہو گئی تو عدالت نہ لگے گی، جیسے زبان نہ چلی تو کچھ ثابت ہونے سے رہ جائے گا۔ جیسے زبان رک گئی تو اندر لگے دھوکے کا مداوا نہ کر پاوں گی۔ لیکن ملا کیا؟ خالی ہاتھ کر دیا میری زبان نے اور اب اپنی ہی زبان کی لگائی آگ میں جل رہی ہوں۔

وہ ہی نہیں جسے پیار دیا کرتی تھی، وہی نہیں جس کے ساتھ ہنسا کرتی تھی، وہی نہیں جس کو اپنی وفاداری دی، وہی نہیں جس کی تھپکیوں سے سویا کرتی تھی۔ میں آج بھی بول سکتی ہوں، مجھے آج بھی زبان سے زہر کے تیر چلانے آتے ہیں۔ میں اب بھی زبان کے وار سے گنہگار کو جگا سکتی ہوںلیکن اب میں نے خدا سے انسان کا شرف ملنے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امانت کو واپس لینے کی دعا مانگ لی ہے اور اب میں بے زبان ہوں۔ تمام اذیتوں کو سہہ کر، تمام تکالیف کو مقدر کا لکھا جان کر اب میں ”بے زبان“ رہنا چاہتی ہوں۔

Facebook Comments