ہر با شعور مسلمان اپنی زندگی میں اللہ کے گھر کی زیارت اپنے لیے باعث شرف سمجھتا ہے اور حج کرنا اپنے دین کی تکمیل کا جز گردانتا ہے۔ یقینا حج بیت اللہ اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پہ ہے، ان میں سے ایک ہر صاحب استطاعت مسلمان پہ اللہ کے گھر کا حج کرنا“۔ (صحیح بخاری)

ہمارے معاشرے میں حج کا بڑھتا ہوا رجحان یقینا خوش آئند ہے لیکن اس حج سے پیدا ہونے والے اثرات بھی اسی تیزی سے معاشرے سے مفقود ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ حج اسلامی اخوت و بھائی چارے کی ایک تربیت گاہ ہے تمام مسلمان ایک لباس، ایک جگہ، ایک ہی وقت میں اللہ کی عبادت کے مقصد کے ساتھ جمع ہو کر اس بات کا ثبوت دے رہے ہوتے ہیں کہ ہم اللہ کے حکم پہ اپنی رنگ و نسل اور مسلکوں و جماعتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی وحدت کو قائم کر سکتے ہیں۔

لیکن یہی مسلمان جب حج سے واپس آتے ہیں تو کلمہ توحید کو ایک جانب میں رکھ کر مسلکی و جماعتی تقسیم اور رنگ و نسل کی تقسیم کو بنیاد بنا کر مسلم معاشرے میں طوفان کھڑا کرنے اور انتشار بپا کرنے میں وہ کردار ادا کرتے ہیں جو ایک سلیم الفطرت انسان کو کسی صورت بھی زیب نہیں دیتا۔ حج ایک مسلمان کی زندگی سے تکبر کو ختم کرنے کی ایک بہترین تربیت گاہ ہے۔ ایک حاجی شخص اپنے زرق و برق والے لباس کو اتار کر صرف دو سفید سادہ چادروں کو اپنے جسم پہ اوڑھ کر اللہ کی بڑائی کا مسلسل اعتراف کرتا ہے۔ ہر بڑا و چھوٹا، امیر و غریب، بادشاہ و وزیر، اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر، اپنی مسکنت و تذلل اللہ کے آگے پیش کرکے اس بات کی تصویر ہوتا ہے کہ ہر قسم کی بڑائی و عظمت کا مالک صرف اللہ رب العالمین ہے۔ پھر یہی مسلمان حج سے فارغ ہوتے ہی اپنی ذات اپنی قوم اپنے ملک کو بنیاد بنا کر تکبر و بڑائی کا وہ بیج بوتے ہیں جو مسلمانوں میں طبقاتی تقسیم کو ترویج دے کر اسلامی اخوت و بھائی چارے کی بیخ کنی کر دیتا ہے۔

آسانی و تیسیر اسلام کی بنیادی خصوصیات میں سے ہے اور اسلام کی کوئی عبادت مشقت و تکلیف پہ مبنی نہیں ہے۔ کسی عبادت کے ذریعے لوگوں کو امتحان میں ڈالنا مقصود نہیں، عبادات دراصل ایک مسلمان کی تربیت کے لیے فرض کی گئیں ہیں نا کہ ان سے کوئی جسمانی یا ذہنی امتحان لینا مقصود تھا۔ نماز و روزے و زکوٰة اور حج کے احکامات کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ چند حدود قیود کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمان کو جس طرح آسانی ہے وہ اللہ کی عبادت کر سکتا ہے۔

حج میں بھی دس ذوالحجہ کو جو چار کام (بال کٹوانا یا منڈوانا، قربانی کرنا، کنکریاں مارنا، بیت اللہ کا طواف کرنا) حاجی کے ذمے لگائے گئے اس میں تقدیم و تاخیر پہ کوئی سختی نہی کی گئی بلکہ جو بھی سوال کرنے آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”کر لو کوئی حرج نہیں“۔ حج کی عبادت عورت کے احترام و اکرام کا ایک شاندار مظہر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا۔ اللہ کے رسول میرا نام فلاں اور فلاں غزوے میں لکھ دیا گیا ہے اور میری بیوی حج کا ارادہ رکھتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد جیسے فریضے میں شمولیت کا ارادہ کر لینے کے باوجود اس بات کو ترجیح دی کہ ایک مسلم عورت کی حفاظت اس کے حقوق اور اس کی دلجوئی اور اس کے ارادہ عبادت کو جہاد پہ مقدم کرتے ہوئے حکم صادر فرما دیا کہ عورت کا حج کا ارادہ تیرے جہاد کے ارادے سے افضل ہے اور مزدلفہ سے واپسی منی کی طرف دس ذوالحجہ کا سورج طلوع ہونے کے بعد حاجیوں کو نکلنے کا حکم ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں اور کمزور لوگوں کو رات کو ہی مزدلفہ سے رخصت فرما دیا تا کہ یہ صبح کی گرمی اور رش کی تکلیف سے محفوظ اگلے مقام تک پہنچ کر عبادت کر سکیں۔

Facebook Comments