کامیاب اور ناکام خارجہ پالیسی (ملک شفقت اللہ)

سابقہ دور حکومت کی نسبت حالیہ دور حکومت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی واضح نظر آتی ہے۔ اس کا سہرا سول اور ملٹری قیادت کے ایک پیج پر ہونے کے سرسجتا ہے۔ جس طرح پاکستان معاشی، اقتصادی اور داخلی و خارجی بحرانوں میں لپٹا ہوا تھا پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ چکی تھی لیکن پہلی بار ان چیزوں کی طرف توجہ مرکوز کر کے محنت کی گئی۔ جن کی گتھیاں سلجھانا انتہائی اہم اور تصفیہ طلب مسئلہ تھا۔ دنیا ہمیں شک کی نظروں سے دیکھنے لگی تھی، اگر وزیر اعظم نے خود سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا کے لیڈروں کو اپنا ہمنوا بنایا تو شاہ محمود قریشی نے اپنے کابل، تہران، ماسکو اور بیجنگ کے دوروں میں کامیابی حاصل کی۔ چین نے تو پاکستان کی افغان پالیسی کی کھل کر حمایت کر دی، روس میں بھی وزیر خارجہ کی ملاقاتیں بہت مثبت ثابت ہوئیں اور وہاں سے بھی ہمیں بہترین نتائج مل چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوویت یونین کے بعد سے اب تک جو روس کے ساتھ معاملات کشیدہ چل رہے تھے کی جگہ روس کی طرف سے تعلقات مزید بہتر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ روس اور امریکہ مخالفت کی بنا پر پاکستان نے اس موقع سے خوب فائدہ اٹھایا ہے اور چین، روس کے ساتھ ایک نیکسس بنا چکا ہے۔

افغانستان میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کاوشوں پر اشرف غنی نے پاکستان کو سراہا تھا اور ایران نے بھی بغیر کسی ہچکچاہٹ پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔ افغانستان میں امن پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ سرحدوں کو سیل کرنے کے ساتھ ساتھ افغانی مہاجرین کو واپس بھیجنا اور وہاں طالبان کے آپسی خلفشار کو ختم کرنا بھی انتہائی اہم ہے ۔ جس کے لیے حکمت یار گلبدین سمیت دیگر طالبان رہنماﺅں کو عمران خان پاکستان بلا کر ایک میز پر بٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح عرب ممالک کے دوروں سے پاکستانی معیشت کو کافی حد تک سہارا ملا تھا۔ یہ پاکستانی دفتر خارجہ کی بڑی کامیابی ہے کہ روس اور چین جیسے ممالک اسلام آباد کے نقطہ نظر سے متفق ہیں لیکن اتنی کامیابیاں سمیٹنے کے باوجود پاکستان ابھی تک دنیا میں وہ مقام حاصل نہیں کر پا رہا جو کامیاب خارجہ پالیسیوں سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان کے روایتی حریف کے بارے ناکام خارجہ پالیسی ہے۔ ساری دنیا نے دیکھا ہے کہ بھارت کی پوری آبادی پاکستان کو زمانے میں رسوا کرنے کے لیے کوئی ایک بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ کبوتر سے لے کر غباروں اور سنڈیوں تک پر بھارتی میڈیا نے واویلا مچایا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر بھی اور کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھی بھارت نے پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا ہے۔

ہم نے بھارت سے بے شک انفارمیشن اور مختصر فضائی جنگ جیتی ہے لیکن ان سازشوں کا جواب دینے میں ناکام ہیں جو وہ کئی سالوںسے ہمارے خلاف رچا رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ سابقہ دور حکومت میں باقاعدہ وزیر خارجہ کا نہ ہونا اور سول و ملٹری اداروں کا ایک پیج پر نہ ہونا ہے۔ نواز شریف کا وزیر خارجہ جیسا اہم قلمدان اپنے پاس رکھنا سمجھ سے بالا تر تھا اور یہ بھی کہ جو شخص سقوط ڈھاکہ اپنے سر لینے اور بی ایل اے جیسی عالمی دہشتگرد تنظیم کی مدد کرنے کی ذمے داری لے چکا ہو، اسے اپنی خوشیوں میں بلا اطلاع شامل کرنے اور جندال جیسے پاکستان مخالف شخص کو پاکستان میں سیرو تفریح کروانے پر کوئی عار نہ سمجھتے ہوئے اداروں کو اعتماد میں لینے سے گریزاں رہنا۔

اگر حالیہ حکومت کی پالیسیوں کا جائزہ لیں تو شاہ محمود قریشی خود یہ بیان دے چکے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی دفتر خارجہ میں ہی بنتی ہے تو یہ بات کہنا حق بجانب ہے کہ دفتر خارجہ کی یہ بھی ذمے داری ہے کہ وہ بیرونی سازشوں کا منہ توڑ جواب دے۔ ہم نے سابقہ ادوار میں مودی کے ان بیانات کا بھی فائدہ نہیں اٹھایا جو اس نے 2016 کے یوم آزادی کے موقع پر بی ایل اے سے ہمدردی جتائی اور ان کی معاونت کرنے کا اعلان کیا۔ نہ ہی ہم نے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کی نشاندہی پر ملنے والے دہشتگرد گروہوں سے فائدہ اٹھایا جو پاکستان میں لسانیت و قومی عصبیت کو ہوا دے کر امن و امان کی صورتحال کو داﺅ پر لگا رہے تھے۔ نہ ہی مودی کے مکتی باہنی کے اعتراف جرم سے کوئی فائدہ اٹھایا۔ جس کے لیے ہمیں ضروری تھا کہ دنیا کو ہم بتاتے کہ بھارت ایک دہشتگرد ملک ہے۔ اس کے بر عکس بھارت دنیا بھر میں امریکی چمچہ بن کر مناپلی مضبوط کر چکا ہے۔ ایک بات پر بہت افسوس ہے کہ خبر آئی، روس نے عمران خان کو دورے کی دعوت دے دیدی اور پھر خبر اچھالی گئی کہ روس نے دعوت ہی نہیں دی جسے دیکھ کر انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے لو گ عملی طور پر اسی چھپری کے نیچے کھڑے ہیں جس کے نیچے بھارت کھڑا ہے۔کیونکہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی پاکستان کی بہتری چاہے گا نہ کہ اسے نیچا دیکھ کر خوش ہوگا۔ جبکہ یہاں تو لوگ تمسخر اڑاتے ہیں۔

امریکہ نے پاکستانی وزیر اعظم کو دورے کی دعوت دی ہے جو پاکستان کے حق میں خوش آئند تصور کی جا رہی ہے۔ چوں کہ پہلے ہی بھارت کا جھکاﺅ روس کی جانب ہو چکا ہے جس سے امریکہ اندرون خانہ خوش نہیں۔ ایک بات یہ بھی کہ پاکستان کی جانب سے افغان امن کے لیے غیر معمولی اقدامات کی بھی امریکہ تعریف کرتا ہے جب کہ امریکی افواج کے انخلا اور افغانستان میں اس انخلا کے بعد طالبان قیادت کو ایک پیج پر اکٹھا کر کے پر امن افغانستان بنانے کے لیے پاکستان کی مدد ضروری ہے۔ عمران خان کے دورہ امریکہ سے بھارتی حلقوں میں بے چینی اور امریکہ میں بھارتی لابی متحرک ہو چکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاک امریکہ مذاکرات سے بدلتے ورلڈ آرڈر پر کیا تاثرات سامنے آتے ہیں۔

Facebook Comments