سورة الفرقان میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ”رحمن کے بندے وہ ہیںجو سجدوں اور قیام کی حالت میں راتیں گزارتے ہیں“۔ مومن اپنی زندگی پر غور کریں کہ ان کی راتیں کیسے گزرتی ہیں۔ کتنے ایسے وہ لوگ ہیں جو پریشانی میں مبتلا ہیں، نیند نہیںآتی، مٹھی بھر نیند آور گولیاں کھا کر سوتے ہیں۔ رسول اللہﷺ جب کسی پریشانی میں ہوتے تو نماز میں مصروف ہو جاتے تھے کیوں کہ آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ دن کی گھڑیوں میں انسان مصروف ہو جاتا ہے مگر رات کو جب لوگ سو جاتے ہیں تب یہ اپنے رب کے ساتھ لو لگاتا ہے۔ جنت کی لالچ ہوتی ہے۔ اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ اللہ کو پکارتے ہیں اور جو اللہ نے دیا ہوتا ہے اس کو خرچ کر کے جہنم سے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔

پیارے پیغمبرﷺ فرماتے ہیںکہ ”جہنم سے بچنے کی کوشش کرو چاہے کھجور کا آدھا ٹکڑا صدقہ کر کے اپنے آپ کو بچا لو“۔ اللہ فرماتے ہیں، ”متقی جنتوں میں ہوں گے“۔ ان کا وصف یہ تھا کہ اس سے پہلے وہ محسنین میں سے تھے۔ رات کی تنہائیوں میں سحری کے اوقات میں اٹھ اٹھ کر اللہ سے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ جس بندے نے نماز عشاءجماعت کے ساتھ ادا کی فرمایا ”وہ ایسا ہے جیسے وہ آدھی رات تک تہجد پڑھتا رہا اور جس نے عشاءکے ساتھ ساتھ فجر کی نماز بھی باجماعت ادا کی گویا کہ اس نے ساری رات تہجد پڑھی“۔ کتنے لوگ آج یہ دعویٰ کر سکتے ہیںکہ یہ وصف مجھ میں موجود ہے۔ دراصل انسان کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔

بلا شبہ تہجد متقیوں کا وصف ہے۔ رسول اللہﷺ کو ایک صحابیؓ نے بتایا کہ فلاں شخص تہجد بھی پڑھتا ہے اور چوری بھی کرتا ہے۔ فرمایا ”اگر یہ سچ ہے کہ وہ شخص تہجد بھی پڑھتا ہے اور چوری بھی کرتا ہے تو میں ضمانت دیتا ہوں اگر وہ تہجد کی پابندی جاری رکھے تو اس کی چوری یا دیگر گناہوں سے چھٹکارا ہو جائے گا“۔ کچھ دنوں بعد صحابہ دوبارہ تشریف لائے اور بتایا کہ ”اے اللہ کے رسولﷺ واقعتا اس شخص نے گناہوں سے توبہ کر لی ہے“۔ رات کا قیام انسان کو گناہوں سے روک دیتا ہے۔ ہم غور کریں کہ رمضان میں تراویح پڑھی، رات کے کچھ حصے میں نوافل پڑھے لیکن رمضان کے بعد اللہ کے قریب کیوں نہیں ہو رہے، اللہ سے کثرت سے معافیاں کیوں نہیں مانگتے۔ رسول اللہﷺ نے رات کے شروع میں بھی تہجد پڑھی، رات کے درمیان میں اور رات کے آخری حصے میں بھی پڑھنا سنت ہے۔

رات کا قیام اللہ کا قرب نصیب کرتا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ قیامت کے روز مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوں گے۔ ان پر جو لباس ہے وہ گندھک کا ہے، جس سے آگ جلدی لگتی ہے۔ ان کو ٹانگوں سے پکڑ کر منہ کے بل گھسیٹا جائے گا۔ جب کہ مومنین نیکیاں کرنے کے باوجود جہنم سے بچنے کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ”جو انسان دن میں تین مرتبہ جہنم سے پناہ کی دعائیں مانگتا ہے تو جہنم خود رب کائنات سے کہتی ہے کہ یا اللہ اس بندے کو مجھ سے محفوظ رکھ، اس انسان کو مجھ سے بچا لے“۔ وہ جہنم جس کے ساتھ ستر ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہیں مگر پھر بھی وہ بندوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ جہنم سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

رحمان کے بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو بخل کرتے ہیں اورنہ اسراف بلکہ اعتدال کے ساتھ خرچ کرتے ہیں۔ اللہ کے ساتھ اور اللہ کے بندوں کے ساتھ ان کے معاملات بہت درست ہوتے ہیں۔ اپنے رب سے دعائیں کرتے ہیں کہ یا اللہ جہنم سے آزادی دینا۔ رحمان کے بندوں کا خرچ بڑے اعتدال کے ساتھ ہوتا ہے۔ فضول خرچی سے پاک ہوتا ہے۔ ہم شادی بیاہ پر ضرورت سے زیادہ خرچتے ہیں۔ جہاں دو کھانوں سے کام چل سکتا ہے وہاں چھ چھ ڈشیں پکائی جاتی ہیں۔ کبھی اس اسراف کے متعلق ہم نے سوچا؟ کپڑے خریدتے وقت اسراف سے کام لیتے ہیں۔ حالاں کہ حکم ہے کھاو پیواور صدقہ کرو۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ”جو پہلی چیز انسان کو بچانے والی ہے وہ یہ ہے کہ انسان پوشیدہ طور پر اور اعلانیہ طور پر ہر جگہ اللہ سے ڈرے۔ دوسری چیز انسان کو غربت میں اور امیری میں ہر حال میں میانہ روی سے چلنا چاہیے“۔ یہ کامیاب لوگ ہیں۔

اسی طرح فرمایاکہ ”اللہ کے بندے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔ ناحق کسی کو قتل نہیں کرتے۔ نہ کسی کے قتل کا ذریعہ بنتے ہیں۔ حق کے ساتھ تین طرح کے لوگوں کو قتل کیا جا سکتا ہے۔جو مرتد ہو جائے اسے وقت کا حکمران قتل کرے۔ شادی شدہ زانی کے مجرم کو بھی سنگسار کیا جائے گا اور قتل کے بدلے کسی کو قتل کر نا۔ ان سب صورتو ں میں سزا قتل ہے مگریہ وقت کے حکمران کی ذمے داری ہے“۔ آج افسوس ناک طور پر ہر کوئی کسی دوسرے کو کافر کہہ کر قتل کر دیتا ہے۔ خودکش حملے یہ کہہ کر کیے جاتے ہیں کہ یہ مرتد ہیں۔ یہ خوارج کی علامت ہے۔ یہ دنیا کے بدترین لوگ ہیں۔ آج دنیا میں اس گناہ کو فیشن بنا دیا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے ایک مرتبہ اپنا خواب بیان فرمایا کہ ”ایک بہت بڑا تندور ہے، جس میں آگ جل رہی ہے جو نیچے سے کھلا ہوا اور اوپر سے اس کا منہ تنگ ہے۔ اس میں جلنے والے مرد اور عورتیں ہیں اور وہ سب ننگے ہیں۔ پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جواب ملا یہ سب زانی تھے۔ اللہ نے ان کو قیامت تک کے لیے یہ سزا دی ہے“۔ لہٰذا عباد الرحمن کی صفت یہ ہے کہ وہ زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے۔ شرک نہیں کرتے۔ قتل نہیں کرتے۔زنا نہیں کرتے۔ اسراف نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی عباد الرحمن کی صفات اپنانے کی توفیق دے، آمین۔

Facebook Comments