گذشتہ کچھ سالوں سے اس نئے پاکستان کی روش نے ہمیں بھی شش و پنج میں مبتلا رکھا ہے آیا کہ یہ نیا پاکستان کیسا ہوگا؟ یہ نعرہ تو بہت خوش کن تھا کہ نیا پاکستان پرانے پاکستان جیسا نہیں ہوگا۔ نئے پاکستان میں ہر چیز آپ کے قدموں میں ہوگی۔ نئے پاکستان میں میرٹ کا بول بالا ہوگا۔ نئے پاکستان میں کوئی غریب بے گھر نہ ہوگا۔ نئے پاکستان میں قرضہ لینے والا خود خودکشی نہیں کرے گا۔ نئے پاکستان میں علاج کے لیے باہر نہیں جانا پڑے گا۔ مطلب نئے پاکستان میں معیاری ہسپتالوں کی بھرمار ہوگی۔

نئے پاکستان میں ٹیلنٹ کی قدر ہوگی۔ نئے پاکستان میں میں پانی کی کمی پوری ہوجائے گی کیونکہ تین سو ساٹھ ڈیم تعمیر کے آخری مراحل میں تھے۔ نئے پاکستان میں قانون کی بالا دستی ہوگی۔ نئے پاکستان میں کرپشن کرنے والے کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی۔ نئے پاکستان میں بیرونی ممالک سے اس قدر سیاح آئیں گے کہ ان کے لیے ٹرانسپورٹ کم پڑ جائے گی، اس کا حل پشاور میٹرو بس جیسے منصوبے ہوںگے کیونکہ نئے پاکستان کے والیوں کو میٹرو بس منصوبہ سے شدید چڑ تھی لیکن سیاحوں کی سہولت کے لیے خود اس چڑ سے جان چھڑانی پڑی۔ نئے پاکستان میں تمام ادارے خودمختار ہوں گے جس کی حقیقت کا بھانڈا جج ارشد ملک نے پھوڈ دیا۔ نئے پاکستان میں ہر وزارت کی کارگردگی نرالی ہوگی، جو ہم وزارت ریلوے کی صورت میں دیکھ چکے۔ نئے پاکستان میں وزیراعظم اپنی آمدو رفت کے لیے سائیکل استعمال کریں گے، جس کا منظر دیکھنے کے لیے میں اور آپ بہت مشتاق تھے مگر کیا کریں، سائیکل تھی ہی پنکچر۔

قارئین! آپ اب تک نئے پاکستان سے خوب لطف اندوز ہوچکے ہوں گے۔ یہ سچ ہے کہ اس نئے پاکستان سے پرانا پاکستان قدرے بہتر تھا۔ پرانے پاکستان میں ہر چیز کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کیا گیا تھا لیکن نئے پاکستان میں تو مصنوعی طریقے ہی بھولے جاچکے ہیں۔ اب مصنوعی طریقوں کے بجائے قیاسی طریقوں سے کام لیا جارہا ہے، جس کا حال ہی میں تذکرہ شبر زیدی کرچکے ہیں۔ پرانے پاکستان میں جنہوں نے کرپشن کے ڈیرے ڈالے تھے، انہیں گرفتار تو کیا جارہا ہے لیکن ان سے لیا کچھ نہیں جارہا۔ ان کی گرفتاری بھی اس عوام کے لیے لاحاصل ہے بلکہ الٹا آئے روز ان کی پیشیوں پر عوام کا پیسہ دھڑا دھڑ خرچ کیا جارہا ہے۔ بھائی بھینس خریدی ہے تو اس سے دودھ نکالا جائے، نہ کہ مزید اس میں دودھ ڈالا جائے۔ مجھے تو نئے پاکستان میں وہی پرانا پاکستان دکھتا ہے۔ جہاں مہنگائی نے عوام کا پسینہ خشک کردیا ہے۔ جہاں اعظم سواتی کی شکل میں امیر غریب کا استحصال کررہا ہے۔ جہاں بابر اعوان جیسا کرپٹ دودھ کی نہر میں اپنی کرپشن کے داغ کو بے داغ کرچکا ہے۔

نئے پاکستان کو ایسا ہونا چاہیے تھا! جہاں نریندر مودی کی جیت کی حمایت نہ کی جاتی۔ جہاں کرپٹ لوگوں سے بلاامتیاز سلوک کیا جاتا اور ان سے پیسے لے کر عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جاتے۔ جہاں ڈالر کو اتنی اونچی اڑان نہ دی جاتی۔ جہاں وزیر اعظم سائیکل استعمال کرنے کے بجائے اپنا پروٹوکول کم کرتا اور سب کو اس کا پابند بناتا۔ جہاں قانون پاس کرانے کے لیے بلوچستان کے ممبران میں پیسے نہ بانٹے جاتے۔ جہاں تعلیم گریجویشن تک بالکل مفت ہوتی۔ جہاں ظالم کو عبرت کا نشان بنایا جاتا۔

جہاں نااہل لوگوں کو ان کے عہدوں سے فارغ کیا جاتا۔ جہاں مقتولین کے خون کا فوری انصاف میسر ہوتا۔ جہاں سمیع الحق شہید اور بلال خان شہید کے قاتل یوں سر عام نہ اچھلتے کودتے۔ جہاں آئی ایم ایف کی لعنت سے چھوٹ حاصل کی جاتی۔ جہاں مدارس کے طلبہ اور یونیورسٹی کے طلبہ میں موجود فرق کا ازالہ کیا جاتا۔ جہاں سود کا خاتمہ ہوتا۔ نئے پاکستان میں معیاری ہسپتالوں کی تعمیر کا کام شروع ہوچکا ہوتا۔ نئے پاکستان میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد کام کے لیے بیرون ممالک کا رخ نہ کرتی۔

اب یہ نیا پاکستان کہان تلاش کیا جائے؟ یہ تو وہی پرانا پاکستان ہے۔ نئے پاکستان کی دنیا میں بہت قلت ہے۔ یہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا۔ اسی پرانے پاکستان پر گزارہ کریں اور اچھا ہونے کی امید رکھیں۔ یہی پرانا پاکستان اگر خوشحال ہوجائے تو ہمیں نئے پاکستان سے نفرت ہونے لگ جائے۔ ہمارے بڑوں نے اس پرانے پاکستان کا ہی نظریہ پیش کیا تھا۔ اسے ہی ٹھیک کرنا ہے۔ نئے پاکستان کی تلاش میں ہم کہیں پرانا پاکستان ہی نہ کھو دیں۔ ہاں اس نئے پاکستان کو بنانے والے بھی پرانے پاکستان کے ہی باشندے ہیں اور ایسا کر بھی نہیں سکتے۔

Facebook Comments