شیر دل! اوے شیر دل! تو اسکول نہیں گیا آج؟ اور یہ بکریاں؟ بہادر کدھر مر گیا تھا جو تو اسکول چھوڑ کر بکریاں چرانے چلا گیا؟ ”بہادر، بہادر!“۔ ”جی بابا کیا بات ہے؟“ بہادر کمرے سے نکلتے ہی بابا کے سامنے پیش ہوا۔ ”کیا بات ہے بابا! بہادر بکریاں چرانے کس نے جانا تھا آج؟“ ”بابا وہ۔۔۔“۔ ”بولتا کیوں نہیں؟ زبان کیوں گنگ ہو گئی؟ جواب دے مجھے؟“

بابا شیر دل نے خود کہا تھا کہ آج وہ جائے گا بکریاں چرانے؟ اس لیے میں کھیتوں میں کام کرنے چلا گیا تھا۔ ”جی بابا بھائی ٹھیک بول رہا ہے۔ میں اسکول جانا نہیں چاہتا“، شیردل ایک ذہین فطین بچہ تھا۔ ماں کی وفات کے بعد ان کا بابا کے سوا کوئی نہ تھا۔ ”اچھا تو یہ بات ہے یعنی جب تیرا دل چاہے تو اسکول جائے گا۔ جب دل بھر جائے گا چھوڑ دے گا؟“ خان محمد آج پہلی بار بیٹے کو ڈانٹنے لگا۔”بابا میں آپ کی نافرمانی نہیں کرنا چاہتا۔ گرچے میرا دل بہت غمگین ہے بابا۔ میں اپنے خوابوں کو پورا کرنا چاہتا ہوں بابا۔ میرے استاد کی باتیں مجھے رات بھر سونے نہیں دیتیں بابا۔ میرا دل میرا وجود صرف اسی دھن میں مست ہیں کہ کب مجھے فوجی کہا جائے۔ بابا! میرے ملک کو میری ضرورت ہے۔ میدان جنگ ہم جیسوں کو پکار رہا ہے بابا۔ ماسٹر صاحب جب اسمبلی میں ملک کے احوال سناتے ہیں ناں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تم نے بھی تو قربانیاں دی ہیں ناں بابا۔ میرے دادا، دادی، پھپو میرا آدھا خاندان تقسیم کے وقت قربان ہوا۔ اب ایک بار پھر دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے“۔

بس! شیردل بس! اس کے بعد میں تیری زبان سے فوج کا نام نہ سنوں! بہت دے دی ہیں قربانیاں! اب اور نہیں۔ کیا ہم ہی رہ گئے ہیں قربانیاں دینے کو۔ تیری ضد پہ تجھے قصبے کے اسکول میں داخل کروایا ہے۔ تیرے بڑے 5 بھائی میرے کام میں میرا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ تو چھوٹا ہے۔ تیری ماں کے بعد بھی تجھے کبھی رونے نہیں دیا میں نے۔ کیا یہی صلہ ہے میری محبت کا؟ بول ناں شیر۔ کیا یہی کر سکتا ہے تومیرے لیے۔ تو پڑھنا چاہتا ہے تو پڑھ۔ ماسٹر بننا۔ لوگ بولیں کے خان محمد کا بیٹا ماسٹر بھرتی ہو گیا ہے لیکن میرے بچے قربانی کا سبق نہ پڑھ اور نہ پڑھانا کبھی۔ میں تجھے اس کی اجازت ہر گز نہ دوں گا۔ تیاری کر کل اسکول جانا ہے تو نے۔ سمجھ آ گئی میری بات؟

جی باباسمجھ گیا ہوں، شیر دل کی آخری امید بھی دم توڑ گئی۔ ”السلام علیکم، میرے نونہالو! کیسے ہو سب؟“ بچوں نے بھرپور انداز میں خاصا لمبا کر کے جواب دیا۔ ”ٹھیک“۔ ”بچو! آج میں آپ کو راشد منہاس کے بارے میں بتاﺅں گا“۔ ”سر میرے پیٹ میں بہت درد ہے۔ مجھے چھٹی دے دیجیے“، شیر دل نے استاد کی بات شروع ہونے سے پہلے ہی بہانہ بنا کر جانا چاہا۔ ”ٹھیک ہے تم آفس میں جا کر بیٹھو۔ میں دوائی کا کہتا ہوں“۔ کیا بات ہے شیر دل؟ کیوں کلاس چھوڑ دی تم نے؟

استاد جی میں جانتا ہوں راشد منہاس کون تھے؟ مجھے بابا نے اجازت نہیں دی فوج میں جانے کی۔ میں بہت پشیمان ہوں کہ میرا ملک بلارہا ہے اور میں نہیں جا سکتا۔ ”دل چھوٹا مت کرو شیر دل۔ تم یقیناً دنیا میں اپنا نام کرو گے اور سنو والدین کی اطاعت و خدمت سے بڑا کوئی جہاد نہیں۔ تم والد کی رضا حاصل کرو۔ اگر وہ اپنی رضامندی سے تمہیں بھیجیں تو بھرتی کے لیے جانا۔ ملکی حالات بہت خراب ہیں۔ مشرقی پاکستان میں فسادات بڑھتے جا رہے ہیں۔ سیاسی رہنما بھی دلچسپی نہیں دکھا رہے۔ اس لیے مغربی پاکستان کی فوج کو بہادر نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ وہ اسکولوں میں جا رہے ہیں۔ جہاں جہاں نوجوان اپنی مرضی سے فوج میں شامل ہونا چاہتے ہیںان کو شامل کیا جا رہا ہے۔ تم تو ابھی آٹھویں جماعت میں ہو۔ ہو سکتا ہے اللہ پاک نے تمہارے والد کے انکار میں کوئی مصلحت پوشیدہ رکھی ہو۔ تم مایوس مت ہو۔ تم ہمارا کل ہو، پاکستان کے مستقبل ہو۔ تم بہت پڑھنا کے پاکستان کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کر سکو۔ آنسو پونچھ لو۔ تم میں اچھا بولنے کی صلاحیت ہے۔ کل کپتان سرور شہید کے بارے میں تم کلاس کو بتاﺅگے“۔

جی استاد جی، شیر دل نے ایک نئی امید کے ساتھ اپنے گرتے آنسو گالوں پہ روک دیے۔ ”بابا میں کل سے اسکول کے بعد آپ کے ساتھ فصلوں میں پانی لگایا کروں گا“۔ ”کیا بات ہے شیر آج یہ خیال تمہیں کیسے آیا؟“ ”بابا سنا ہے جنگ ہو گی۔ حالات بہت خراب ہوں گے۔ استاد جی کہتے ہیں کہ جب کسی ملک پہ ایسے حالات آتے ہیں تو ہر شے مہنگی ہو جاتی ہے۔ غذا کی کمی ہو جاتی ہے۔ اپنے گاﺅں میں سب سے زیادہ گندم ہماری ہوتی ہے ناں بابا۔ ہم اس بار خوب محنت کریں گے تا کے فصل بہت اچھی ہو۔ ہمارے گاﺅں کو کسی سے گندم نہ مانگنی پڑے۔ استاد جی کہتے ہیں۔ ہم اگر فوج کا حصہ نہیں بن سکتے تو کیا ہوا۔ ہم اپنا اپنا کردار اپنے گھروں میں رہ کر ادا کر سکتے ہیں“۔”شاباش میرے شیر۔ یہ کی ناں بات۔ مجھے کوئی شرمندگی نہیں کہ میں تجھے اسکول پڑھانے بھیجتا ہوں“، خان محمد کے چہرے پہ اطمینان تھا، وہ پھر سے کھلے آسمان تلے تارے تکنے میں مگن ہو گیا۔ ”کیا بات ہے خان محمد کچھ پریشان دکھائی دیتے ہو؟“

حکومت دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ مشرقی پاکستان میں آئے روز دنگے فساد ہو رہے ہیں۔ پھر یہ زبان کے مسئلے۔ ریڈیو پہ کل بتا رہے تھے کہ ہندو اس مسئلے کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں اور اِدھر شیردل ضد کر رہا ہے کے اسے فوج میں بھرتی ہونا ہے۔ فوج اسکولوں میں جا رہی ہے جو لوگ بھرتی ہونا چاہتے ہیں، ان کے لیے آسانی ہوگی اور آنے والے حالات میں فوج کی نفری بھی پوری ہو گی۔ تو بتا خیر محمد میں کیسے اجازت دوں۔ ان حالات میں کیسے اپنے معصوم بچے کو بھیج دوں؟

خان محمد بچہ تیرا معصوم ہے لیکن بہادر ہے۔ جی دار ہے یار۔ تو اس کا دل نہ توڑ۔ اسے کرنے دے جو وہ کر سکتا ہے۔ ”لیکن خیر محمد دل بہت کمزور ہے میرا“۔ ”بس بس رہنے دے یار تجھ سے بڑا دلیر اور نڈر تو کوئی نہ تھا۔ یاد نہیں 1965 کی جنگ میں جب ساری ساری رات بمباری ہوتی تھی۔ تو کس طرح فوج کو راشن وغیرہ پہنچانے کے لیے رضاکاروں کی ٹیم میں گیا تھا اتنی پرانی بات تو نہیں ہے، خان محمد!“”بات تو پرانی نہیں ہے یار لیکن اس دوران ہونے والے واقعات سے خوف آتا ہے۔ وہ اذیت ناک موت کے جسم کے حصے بھی نہ ملیں۔ دشمن اتنا سفاک۔ اللہ کی پناہ“۔ ”اللہ سے خیر مانگو۔ خیر ہو گی، ان شاءاللہ“۔

شیردل ہمارے گاﺅں کا پہلا لڑکا ہوگا جو فوج میں جائے گا۔ کتنی خوش قسمتی ہے ناں خان محمد۔ میرا بیٹا بڑا ہوگا تو میں بھی اسے ملک کی خدمت کے لیے بھیجوں گا۔ ”السلام علیکم ماسٹر جی!“۔ ”وعلیکم السلام! خان محمد آج تم کیسے رستہ بھول گئے ہو“۔ ”بس ماسٹر جی۔ یہ جو شیردل ہے ناں۔ اس کو فوج میں بھیجنا ہے۔ اس کو بڑا شوق ہے“۔”واہ خان محمد! تم نے کمال کردیا ہے“۔ ”کیا کروں ماسٹر جی۔ میں چاہتا تھا یہ پڑھ لکھ جائے تب کچھ کام کرے۔ اس کی ہتھیلیاں دیکھیں ناں ماسٹر جی۔ سوسن کی طرح گداز ہیں۔ اتنی نرم ہیں جیسے روئی کے گالے۔ ان ہاتھوں میں بھلا ہتھیار کیسے چلیں گے“۔ ”خان محمد فکر کی بات نہیں ہے۔ مومن کو ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

میدانِ جنگ میں مومن کا جذبہ لڑتا ہے۔ اس کا ایمان اس کا ہتھیار ہے۔ وہاں تو جو بھی جاتا ہے۔ اللہ پاک کی محبت سے سرشار ملک کی خدمت میں پیش پیش رہتا ہے۔ وہاں اس جیسے ہزاروں ہوں گے جن کے کومل گداز ہاتھ کلیوں کی طرح ہوں گے لیکن ان کے دل دشمن کے لیے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گے۔ تم فکر مت کرنا۔ تمہارا بیٹا شیر دل بہت بہادر اور جانباز سپاہی بنے گا۔ ”وہ ہے کہاں خان محمد؟“ ”ماسٹر جی۔ وہ تیاری کر رہا ہے۔ ایک نئے امتحان کی“، خان محمد قدرے اطمینان سے بولا۔

Facebook Comments