عصر کی نماز سے فارغ ہو کر چہل قدمی کی نیت سے قریبی پارک کا رخ کیا۔ وزرش سے فارغ ہوکر کچھ دیر بینچ پر سستانے بیٹھ گیا۔ ابھی بیٹھے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ آس پاس سے بچوں کی ہنسی مزاح کی آوازیں کانوں میں رس گھولنے لگیں۔ پیچھے مڑکر دیکھا تو ایک صاحب اپنے بچوں کے درمیان بیٹھے ہنستے مسکراتے نظر آئے۔ 5 سے 6 سال کی عمر کے تین چار بچے ان کے گرد حلقہ نما بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ سب مل کے خوب ہنسی مزاح کررہے تھے۔ میرے دل کو یہ منظر بڑا بھایا۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی بڑے غور سے نگاہیں ان پر جما لیں اور تجسس کے ساتھ انہیں دیکھنے لگا۔

”بابا! آج اسکول میں ایک بچے نے میرے دوست کی ٹافی چھین لی“، ان کے درمیان بیٹھے ایک بچے نے دکھ بھرے انداز میں ماجرا بیان کیا۔ ”اوہ ہو! یہ تو بہت بری بات ہے۔ اچھے بچے تو ایسا نہیں کرتے بلکہ وہ تو دوسروں کو دیتے ہیں“۔ درمیان میں بیٹھے شخص نے جو ان کے والد معلوم ہورہے تھے، حکیمانہ اسلوب میں اسے جواب دیا۔

اس کی بات ختم ہوتے ہی دائیں طرف بیٹھی ننھی منی سی بچی بول پڑی، ”بابا! بابا! آج بریرہ نے مجھے نوچا تھا اور میرا اسکارف بھی کھینچا تھا“۔ ”تو پھر آپ نے کیا کیا؟“ انہوں نے تجسس بھرے انداز میں پوچھا۔ ”میں نے اسے کچھ بھی نہیں کہا“، وہ روہانسی ہو کر بولی۔ ”شاباش میری بچی! آپ نے تو بہت اچھا کام کیا۔ آپ کو تو انعام ملنا چاہیے“۔ یہ کہہ کر انہوں نے ایک چاکلیٹ جیب سے نکالی اور اسے تھمادی۔ ”آپ تو بہت اچھی بچی ہیں۔ اچھی بچیاں دوسروں کو معاف کردیتی ہیں۔ دوسروں سے بدلہ نہیں لیتیں۔ ہمارے پیارے نبی کریمﷺ بھی دوسروں کو معاف کرتے تھے۔ وہ بھی کسی سے بدلہ نہیں لیتے تھے۔ ہمیں بھی اپنے پیارے نبیﷺ کی طرح بننا ہے۔ انہیں جیسے کام کرنے ہیں“۔ پیار بھرے انداز میں وہ صاحب بچی کو زندگی جینے کا سلیقہ سکھلا گئے۔

”بابا!“ درمیان میں بیٹھا سب سے چھوٹا بچہ بولنے ہی لگا تھا کہ بڑے بچے نے اسے درمیان میں ٹوک دیا۔ ”بابا! پہلے میری بات سنیے“، اس نے التجائیانہ انداز اختیار کرکے کہا۔ ”عمار بیٹا! آپ نے یاسر بھائی کو بولنے کیوں نہیں دیا۔ ابھی ان کی باری تھی۔ آپ اپنی باری میں بول چکے تھے۔ آپ تو اچھے بچے ہیں ناں۔ اچھے بچے تو دوسروں کی باری انہیں دیتے ہیں۔ دوسروں کی باری نہیں چھینتے“۔ اپنے ابو کی بات سن کر بچے نے اثبات میں سر ہلادیا۔

چلیں آپ یاسر بھائی سے معافی مانگیں، وہ معافی مانگنے کے لیے چھوٹے میاں کی طرف مڑا ہی تھا کہ چھوٹے نے بلند آواز سے کہا، ”بابا میں نے بھائی جان کو معاف کردیا ہے“۔ یہ سنتے ہی عمار کا چہرہ کھل اٹھا اور اس نے آگے بڑھ کر یاسر کو گلے سے لگالیا۔ یہ منظر دیکھ کر ان کے بابا نے بھی ”شاباش میرے بچوں“ کہہ کر انہیں اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔

اسی دوران فضا میں اذان مغرب کی صدائیں گونجنے لگیں۔ اذان کی آواز سنتے ہی وہ صاحب کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے، ”چلو بچو! اٹھو! اب اللہ کے گھر چلتے ہیں۔ اللہ پاک نے ہمیں اپنے گھر بلایا ہے۔ اچھے لوگ اذان سنتے ہی مسجد کی طرف چل دیتے ہیں۔ وہاں جاکر نماز پڑھتے ہیں، تلاوت کرتے ہیں اور اپنے پیارے اللہ کو خوش کرتے ہیں“۔ ”بابا ہم بھی اچھے بچے بنیں گے اور نماز پڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ ہم سے بھی خوش ہونگے ناں؟“ معصوم سا بچہ آنکھوں میں امید کے دیے جلاتے ہوئے بول پڑا۔

”جی بیٹا کیوں نہیں۔ اللہ تعالیٰ ضرور خوش ہوں گے اور تمہیں بہت انعامات دیں گے“، یہ سن کر وہ بچہ خوشی سے نہال ہوگیا۔ اسی کے ساتھ ہی وہ لوگ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے مگر مجھے حیرت کا بت بنا چھوڑ گئے۔ اولاد کی تربیت کا یہ حسین منظر میرے دل و دماغ میں سما گیا۔ میں نے تہیہ کرلیا کہ اولاد کی تربیت ایسی ہی کرنی ہے تاکہ ان کی دنیا و آخرت دونوں کو سنوارا جا سکے۔ ایک نئے جذبے اور نئے عزم کے ساتھ میں بھی مسجد کی طرف چل پڑا۔

Facebook Comments