موسمیاتی تبدیلیوں اور بیماریوں سے بچاکے لیے درخت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تحفہ ہے، اسی وجہ سے اسلام میں درختوں کو کاٹنے سے منع فرمایاہے اور اللہ نے خود درختوں کو زمین کی زینت قراردیاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شجرکار ی انسانیت کی بہترین خدمت ہے۔ اس کا فائدہ کسی ایک انسان یا لاکھوں انسانوں کو ہی نہیں پہنچتا بلکہ اس سے ہر طرح کے چرند پرند بھی درختوں کے سائے اور اس کی ٹھنڈی ہواوں سے اپنی زندگیوں میں سکون پاتے ہیں۔ آلودگی سے تحفظ اور بیما ریوں سے بچاو کا کسی حدتک ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے شجرکاری کیوں کہ ان درختوں سے آنے والی ہواوں سے مختلف امراض میں شفا ملتی ہے۔

درختوں کے ہونے سے ہی بارشیں ہوتی ہیں جس کو شہر قائد کے لوگ اب ترسنے لگے ہیں۔ درختوں کا سب سے بڑ افائدہ تو یہ ہے کہ درخت ہمیں آکسیجن دیتے ہیں جس کی وجہ سے ہم سانس لیتے ہیں اسی لیے شجرکاری کی اہمیت اور افادیت سے عوام کو واقف کروانا اب ہر اس شخص کی ذمے داری ہے جو درختوں کی اہمیت سے خود واقف ہو۔ پھل کو انسان کی ابتدائی خوراک کہا جاتاہے جس کے اندر پائے جانے والے فوائد سے اب ہر ایک انسان واقف ہوچکاہے یہ سب ہمیں درختوں سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔ ماہرین تو یہ کہتے ہیں کہ ملک کا پچیس فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا بہت ضروری ہے مگر افسوس کے پاکستان کا صرف دو سے تین فیصد حصہ ہی جنگلات پر مشتمل ہے۔ قرآن کریم میں اللہ پاک فرماتاہے کہ، ”پس ذرا انسان اپنے کھانے کو ہی دیکھ لے کہ ہم نے اوپر سے پانی برسایا پھر ہم نے زمین کو عجیب طرح سے پھاڑا پھر ہم نے اس میں غلے اگائے اور انگوراور ترکاریاں اور زیتون اورکھجور اور گھنے باغات اور میوے اورچارہ سب کچھ ت تمھارے اور تمھارے مویشوں کی خاطر لگایا“۔

حضورکریمﷺ کا فرمان ہے کہ، ”قیامت برپا ہورہی ہو اور تمہیں درخت لگانے کی نیکی کا موقع مل جائے توفوراًنیکی کرڈالو“۔ اس لیے تو کہاجاتاہے کہ شجرکاری کسی ایک کی نہیں بلکہ ہر ایک کی ذمے داری ہے اور اس ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے ہرانسان کو اپنے حصے کا ایک پودا ضرور لگانا چاہیے ہم دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے درختوں کو یہ سمجھ کر کاٹا کہ سڑکوں کو اور اپنے گھروں کو کشادہ کردیا جائے جن لوگوں نے درختوں کی کٹائی صرف اس لیے کی کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے درختوں سے آمدنی حاصل کریں۔ پھر ان خالی زمینوں پر قابض ہوجائیں اور جن لوگوں نے درختوں کو اس لیے کاٹا کے ان کے گھروں کے آنگن بڑے ہوجائیں تو یہ سب کچھ ایسے لوگوں کے لیے اب نشان عبرت بن چکا ہے کہ جب ان کی گاڑیاں ان ہی موٹر ویز سے گزرتی ہے تو وہ ہی نہیں بلکہ وہ اپنی لگژری گاڑیوں کو بھی درختوں کی چھاوں میں رکھ کر چلاتے ہیں۔

ایسے لوگ جو ان درختوں کو کاٹتے رہے تو ان کو احساس ہی نہ ہوپایا کہ کب ان کے جسموں کو موسمیاتی تبدیلیوں نے آکر گھیرا اور بیمارکرنا شروع کردیا اور پھر یہ ہی لوگ گرم موسموں میں اپنے بچوں کو لے کر مری اور دیگر ٹھنڈے مقامات پر لیکر جانے لگے۔ ان میں سے بیشتر لوگ وہ ہیں جو ان لاکھوں درختوں کے قاتل تھے جن کی وجہ سے پوری قوم ہی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں آنے لگی ہے۔ ماضی میں ترقی کے نام پر درختوں کی کٹائی کرنے والے اس بات کا اقرار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے ہاتھوں سے ایک ایسا گناہ سرزد ہوچکاہے جس کا خمیازہ قوم کے ہر ایک فرد جو بھگتنا پڑرہاہے لیکن میں سمجھتاہوں کہ لکیر پیٹنے سے بہتر ہے کہ ہر شخص صرف ایک پودابھی لگائے تو اس ملک میں اتنے درخت ہوجائیں گے کہ ہمارا ملک ایک بارپھر سے ہرا بھرا اورسرسبز وشاداب ہوجائے گا۔

ہم میں سے ہر ایک یہ بات جان چکاہے کہ جن علاقوں میں درخت زیادہ ہوتے ہیں وہاں کے لوگ بھی نہایت ہی خوبصورت اور صحت مند ہوتے ہیںکیوں کے درخت وہاں کے بسنے والوں کو ذہنی تناو اور مختلف بیماریوں سے بچا کر ہر لمحہ تروتازہ رکھتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے بھی حکومت بنانے سے پہلے شجرکاری کو بہت اہمیت دی تھی اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ پورے ملک میں اربوں درخت لگائیں گے مگر ہم نے دیکھا کہ حکومت اپنے پہلے ہی سال میں اپناوعدہ وفا نہ کرسکی ہے مگر امید یہ ہی ہے کہ وہ اس جانب ضرور توجہ دے گی کیوں کہ بہت سے لوگوں نے حکومت کا اس لیے بھی ساتھ دیاتھا کہ وہ حکومت کی جانب سے شجرکاری مہم کے بیانات سے بہت خوش تھے مگر افسوس کے ساتھ جب ہماری حکومت نے درختوں کو لگانے کے لیے جو ٹارگٹ بنایا تھا اور جس انداز میں بہت سی فلاحی تنظیموں نے جو کچھ کہا اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ سب کچھ میڈیا کے لوگوں کو دکھانے تک محدود تھا۔

یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ایک درخت کٹ تو منٹوں میں جاتاہے مگر ایک پودے سے درخت بننے کے لیے سالوں درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے جب تک ہر شخص اپنی انفرادی کوشش سے درختوں کی تعداد نہیں بڑھائے گا یہ ملک کبھی بیماریوں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نہیں نکل سکے گا اس کے علاوہ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت پاکستان کو فوری طور پر اس معاملے کی جانب توجہ دینی ہوگی یہ وہ معاملہ ہے جس کا بوجھ صرف محکمہ جنگلات پر ڈالنا کافی نہیں ہے بلکہ اس کی ذمے دا ری اب ہر محکمہ پر ہی ڈالنی ہوگی خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہوں کیونکہ محکمہ کوئی بھی ان درختوں کے نہ ہونے نہ ان لوگوں کو بھی پریشان کرکے رکھ دیاہے۔ جن کے گھروں میں ہر وقت اے سی لگے ہوتے ہیں ان لوگوں کو یہ احساس اب شدت سے ستانے لگاہے کہ گھروں میں لگے اسی سی اور ٹھنڈے ائیر کولر ان کے زندہ رہنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے جن علاقوں میں درختوں کی بھرمار تھی وہاں سیلاب کے دنوں میں جانی اور مالی نقصانات کا اندیشہ نہیں ہوتا تھا آج درختوں کے کٹنے سے پانی کا تیز بہاو سیدھا اور بغیر کسی روک ٹوک کے بستی کی بستیاں اجاڑ دیتاہے اور یہ نہیں یہ درخت صرف سیلاب کو ہی نہیں روکتے تھے بلکہ یہ ہی درخت بارشوں کا سبب بھی بنتے رہے۔ یہ ایک ایسا نظام قدرت ہے جس کے رازکوآج کا ترقی یافتہ انسان سمجھ نہ پایا اور درختوں کو کاٹ کر اپنے ہی پیروں پر کلہاڑا مارتارہا، جس طرح سے آج ایک انسان کو یہ سمجھ میں آچکا ہے کہ ای سی اور ٹھنڈے ائیر کولر ہمیں وقتی سکون تو دے سکتے ہیں مگر یہ کسی بھی لحاظ سے ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں اور ان سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے نہیں بچاسکتے۔ بالکل اسی طرح سے اب یہ سمجھ میں آنا بھی بہت ضروری ہے کہ پاکستان میں شجرکاری کو جب تک ایک بنیادی اہمیت اور مقام نہیں ملے گا شجرکاری کا خواب اس قدر جلد پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پائے گا۔

Facebook Comments