سرگودھا کے گاوں موری وال اور ابل کے درمیان برگد کا ایک بہت پرانا درخت ہے جو ساڑھے تین ایکڑ سے بھی زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اسے ایک بزرگ مرتضیٰ شاہ نے اپنے شاگرد بابا روڈھے شاہ کے ساتھ لگایا تھا۔ اسے روڈھے شاہ کی مائی بوڑھ بھی کہا جاتا ہے۔ اندازاً اس درخت کی عمر چھے سو سے سات سو سال تک ہے۔ اس درخت کے نیچے اتنی وسیع جگہ ہے کہ یہاں نہ صرف لوگ آرام کرتے ہیں بلکہ اپنے مویشی بھی باندھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک قبرستان بھی ہے۔ اس قدیم برگد سے متعلق بہت سے توہمات ہونے کی بِنا پر مقامی لوگ نہ تو اسے کاٹتے ہیں اور نہ ہی اس پر چڑھتے ہیں۔ لوگوں کے مطابق جب بھی کسی نے اس درخت کی کوئی شاخ کاٹی ہے، اسے سخت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ درخت کے بڑھنے کی وجہ سے لوگ اپنی جگہ تو چھوڑ دیتے ہیں لیکن کوئی اسے کاٹتا نہیں ہے۔

دربار کے متولی کے مطابق بوڑھ کے اس درخت کو نقصان پہنچانے والے کو ہمیشہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کبھی اس درخت کے پیچھے چار بھائی رہتے تھے۔ جب برگد کی جڑیں ان کے گھر میں جا پہنچیں تو میرے روکنے کے باوجود انہوں نے وہ جڑیں کاٹ دیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چاروں عمر بھر بے اولاد رہے۔ مزار کے متولی نے یہ بھی بتایا کہ لوگ اپنی منّتیں مرادیں پوری کروانے کے لیے بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ کاروبار کی بہتری ہو یا کسی کو بیرون ملک جانا ہو، یہاں آکر درخت کے تنے اور ٹہنیوں کے ساتھ منّتوں کے دھاگے باندھتے ہیں۔ دعا قبول ہونے کے بعد اپنی منّتیں چڑھا کر دھاگے کھول جاتے ہیں۔

جہالت اور کم علمی کا ایسا مظاہرہ اگر کسی پڑوسی ملک میں ہوتا، جہاں لوگ اسلام کی روح سے ناآشنا ہیں، تو شاید اسے ہضم کیا جا سکتا تھا مگر ایک ایسے ملک میں، جو خالصتاً اسلامی ملک کہلاتا ہے اور جہاں دین کی ترویج میں کسی قسم کی رکاوٹ بھی نہیں ہے، وہاں ایسے جاہلانہ اقدامات شرکیہ ہونے کے ساتھ لوگوں کی کم علمی اور ہندووانہ رسومات کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ درباروں، مزاروں اور ان میں مدفون بزرگان کے بارے تو ہمہ اقسام کے عقائد دیکھنے کو ملتے تھے لیکن ایک قدیم درخت سے لوگوں کے ایسے عقائد اور وابستگی قابل تشویش ہے۔ برگد کا درخت اپنی طویل عمری، چھتنار اور پُراسرار شکل وشباہت کی بِنا پر صدیوں سے انسان کو اپنی طرف کھینچتا چلا آ رہا ہے۔ ہندومت اور بدھ مت کے علاوہ بھی دیگرکئی معاشروں میں اسے ایک خاص روحانی اہمیت حاصل ہے۔ اسی بِنا پر دیگر مذاہب کے لوگ اس کی پوجا بھی کرتے ہیں اور اسے دیوتا اور بھگوان مانتے ہیں۔ برگد کا درخت ہندومت میں موت اور زندگی کے دیوتا ”یاما“ سے منسوب ہے۔ اسی لیے اسے بر صغیر میں زیادہ تر قبرستانوں کے قریب دیکھا جاتا ہے۔

شادی شدہ ہندو خواتین اپنے شوہروں کی زندگی اور حفاظت کے لیے ایک خاص روزہ رکھتی ہیں جسے ”شبھ راتری ورات“ کہا جاتا ہے، اس کا ایک اہم رکن برگد کے درخت کے ساتھ دھاگا باندھنا ہے۔ مزید ہندومت میں برگد کے پتّوں کو ان کے دیوتا کرشن کی آرام گاہ سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ کو جب گیان ملا تو وہ سات روز تک برگد کے درخت کے نیچے مراقبے میں رہا تھا تاکہ اس گیان کو اپنے من میں اتار سکے۔ اسی طرح فلپائن میں برگد کے درخت کو مختلف روحوں اور شیطانوں کا مسکن سمجھا جاتا ہے، جن میں سے ایک ایسا بھی ہے جس کا آدھا دھڑ گھوڑے اور آدھا انسانوں جیسا ہے۔ بچوں کو اس بات سے سختی سے روکا جاتا ہے کہ وہ برگد کے درخت کی جانب کسی بھی قسم کا اشارہ کریں خصوصاً جب وہ کسی نئی جگہ جائیں۔ فلپائن کے لوگ برگد کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ ان کا خیال ہے کہ برگد میں موجود غیرمرئی مخلوق ان کو بخار، موت یا کسی ناگہانی آفت میں مبتلا کر سکتی ہے۔

برگد کا سائنسی نام فائیکس بینگلینسز ہے۔ یہ درخت ایک وسیع علاقے میں پھیلتے ہیں اور ان کی جڑیں بہت دُور دُور تک جاتی ہیں۔ چوںکہ ان کی شاخیں طویل اور وسیع ہوتی ہیں اسی لیے انہیں سہارا دینے کے لیے ان میں سے جڑیں نکل آتی ہیں۔ جی سی یونیورسٹی کے شعبہ¿ نباتات کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر ظہیرالدین خان کے مطابق، برگد چوںکہ نہایت گھنا اور بڑا ہوتا ہے، اس وجہ سے اسے پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ جب انہیں زمین سے مطلوبہ مقدار میں پانی نہ ملے تو یہ اپنی شاخوں سے کچھ جڑیں نکال کر ہوا میں موجود نمی جذب کرنے لگتا ہے۔ کشش ِ ثقل کی بِنا پر پھر یہی جڑیں زمین میں دھنس کر برگد کی شاخوں کے لیے ستون کا کردار ادا کرنے لگتی ہیں۔ برگد کے درخت میں پائے جانے والے دودھیا پانی کو لیٹکس کہا جاتا ہے، جو صدیوں سے مختلف بیماریوں کے علاج میں استعمال ہو رہا ہے۔ وطن عزیز میں اس قدیم درخت کو ایک قومی ورثہ سمجھ کر اس کی حفاظت کرنا اور اس کے غیرمعمولی حجم کی بِنا پر اسے خاص اہمیت دینا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن دیگر مذاہب کی طرح انہیں مددگار تصور کرنا ایک قبیح عمل ہے۔

غیر اللہ سے کسی بھی قسم کی توقعات رکھنے اور منّتیں، مرادیں مانگنے کا تصور بلاشبہ شرک میں شامل ہے۔ حدیبیہ کے مقام پر بیعت ِ رضوان جس درخت کے نیچے ہوئی، حضرت عمرؓ نے اسے کٹوا دیا تھا کیوںکہ لوگوں کی غیرمعمولی وابستگی نے یہ اندیشہ پیدا کر دیا تھا کہ کہیں اس درخت کو مقدس سمجھ کر اسے مددگار نہ سمجھا جانے لگے۔ قرآن پاک کی سورت الزمر میں اللہ تعالی فرماتا ہے، ”اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہو جائیں گے اور تم زیاں کاروں میں ہو جاو گے“۔ اسی طرح سورت لقمان میں ارشاد باری تعالی ہے، ”بے شک شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے“۔ سورت النسا میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ”خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا جس گناہ کو چاہے معاف کر دے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا، اس نے بڑا بہتان باندھا“۔

شرک کی مذمت میں کئی احادیث بھی موجود ہیں۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے نہ جا ملیں اور میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں“۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داود) ایک اور جگہ عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”جس آدمی کو اس حال میں موت آئی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو پکارے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا“۔ (صحیح البخاری)

اس کے علاوہ حیات ِ صحابہ اور بزرگان ِ دین کی زندگیوں میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ توہمات، شرکیہ رسومات اور اس جیسے دیگر عوامل کی کتنی شدت سے تردید کی گئی ہے۔ لہٰذا، ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کو اس ہندووانہ رسم سے نکال کر حقیقت کی جانب مائل کیا جائے اور اس درخت کو ایک نایاب وقدیم ورثہ سمجھنے کے سوا، اس سے کسی قسم کی امید اور توقعات لگانے سے گریز کیا جائے۔ وگرنہ یہ بعید نہیں کہ لوگ مزاروں کے بعد قدیم درختوں کو بھی روحانیت کا مظہر سمجھ کر ان سے مدد مانگنے لگیں۔

Facebook Comments