غلامی ایک ایسا لفظ ہے جسے نہ صرف صدیوں بلکہ قیام دنیا سے ہی حقارت اور تنزلی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ روایت نہ صرف دیہی علاقوں بلکہ شہری اور اکثر ماڈرن علاقوں سے وابستہ ہے، جہاں ہر غلام کو انسانی لحاظ سے نیچے رکھا جاتا ہے۔ غلامی کا رواج امریکی ریاست سے چلتے چلتے دنیا کے ہر کونے میں جا بسا ہے۔ جہاں نہ صرف اس پیشے کو سرانجام دینے والے افراد کو مصیبتوں کا سامنا ہوتا ہے بلکہ ان کے خاندان کے کئی افراد نسل در نسل حیوانیت پر مبنی سلوک کی زد میں رہتے ہیں۔ ہم صدیوں سے یہ لفظ غلامی تو بہت سنتے آ رہے ہیں لیکن! یہ کن اہم مراحل سے گزر کر وجود میں آیا اس سے ہم سب غافل ہیں۔

قدیم تہذیبوں میں جیسا کہ عرب ہیں وہاں غلامی رائج تھی۔ غلاموں کے لیے عربی زبان میں لفظ ”عبد“ استعمال کیا جاتا تھا۔ جس کا استعمال اپنے حقیقی مفہوم میں خدا کے مقابلے پر اس کے بندے کے لیے کیا جاتا تھا۔ مجازی طور پر آقا کو اس کے غلام کا خدا تصور کیا جاتا تھا۔ مالک کے لیے مجازی طور پر ”رب“ کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ ان غلاموں کی خریدو فروخت جانوروں، بے جان اور بے معنی اشیاءکی طرح کی جاتی تھی۔ مالک کو اپنے غلام پر مکمل حقوق حاصل تھے۔ ملکیت کا یہ حق مقدس سمجھا جاتا تھا۔ غلام کی کسی بھی غلطی پر مالک اسے موت کے گھاٹ اتار سکتا تھا۔ جیسا کہ وڈیرے ٹائپ کلچر میں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے جہاں مالک کے آگے اس کے غلام کا سر ہلکا سا بھی اٹھے تو پورے علاقے میں ایک وبالی صورتحال نافذ ہو جاتی ہے۔ ایک غلام جو کہ ایک انسان بھی ہے اس کو ایک جانور تصور کیا جاتا ہے اور مالک جب کہ وہ بھی ایک انسان ہے اسے خدا تصور کیا جاتا ہے۔

گزرے زمانے میں ”غلامی“ کا ایک طویل چکر تھا اس چکر کے مطابق  یہ بیان اکثر منسوب کیا جاتا ہے کہ،  ”دنیا کی بڑی تہذیبوں کی اوسط عمر دو سال رہی ہے۔ ایسی ہر قوم چند مخصوص مراحل سے گزرتی ہے۔ پہلے غلامی سے مذہبی عقائد تک، پھر مذہبی عقائد سے عزم اور پھر حوصلے تک۔ پھر عزم اور حوصلے کے سہارے آزادی حاصل کرنے تک۔ پھر آزادی سے خوشحالی اور پھر خوشحالی سے خودغرضی تک۔ خود غرضی لاتعلقی کا سبب بنتی ہے اور جس سے قوم بے حس ہوجاتی ہے۔ بے حسی انحصار لاتی ہے اور انحصار دوبارہ غلامی تک پہنچا دیتا ہے اور غلامی ہمارے معاشرے کا بدترین دور رہا ہے جس کا نتیجہ صرف تذلیل ہے“۔ پچھلی تاریخ کے مطابق 1986 سے لے کر اب تک، 2 دسمبر انسداد غلامی ”یونائٹیڈ نیشنز انٹرنیشنل ڈے“ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ لفظ ”سلیو“ یعنی غلامی اصل میں ایسٹرن یورپ کے ایک سلیونک آبادی سے قیام میں آیا تھا۔ جو اکثر درمیانی عمروں میں ہی غلامی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے تھے۔ایک درمیانی آمدنی کے لحاظ سے1850میں امریکہ میں ایک غلام کی ماہانہ تنخواہ400 ڈالر یعنی (12000 ڈالر آج کل کے روپے کے حساب سے) تھی۔

غلامی انسداد1833 ءمیں برٹش امپائر کے دور میں وجود آیا تھا لیکن دور جدید کے لحاظ سے بوجھ پرستی اور انسانوں کو گدھے کی طرح استعمال کرنے کے خلاف بل پاس ہوا۔ لفظ ”غلامی“ کنگ جیمس بائبل (King James Bible) کے دور میں قائم ہوا تھا۔ امریکی خبر رساں کے مطابق آج کے دور میں بھی تقریبا 30,000 سے زائد غلام محنت اور مشقت کی تکالیف برداشت کرتے ہیں جو کہ گزرے زمانے سے بھی کئی زیادہ ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ایسا زیادہ تر بیرون ممالک میں بہت زیادہ ہے۔  قوموں کی غلامی تین طرح کی ہوتی ہے۔ کسی قوم کو غلام بنانے کا سب سے کارگر طریقہ جنگ رہا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نا کام ہو جاتا ہے کیونکہ لوگ اپنے آقاوں سے نفرت کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی انہیں مار بھگاتے ہیں۔ ایسی حکمرانی میں فوجی اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

حکمرانی کا دوسرا طریقہ مذہب ہے جہاں لوگوں کو قائل کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ معبود یا پیر کی خوشنودی کے لیے خرچ کریں اس طریقے میں کمزوری یہ ہے کہ کوئی فوجی طاقت اسے اکھاڑ پھینک سکتی ہے یا کوئی فلاسفر لوگوں کو گمراہ کر سکتا ہے۔ غلام بنانے کا تیسرا طریقہ معاشی حکمرانی ہے اس میں بظاہر کوئی زبردستی نہیں کی جاتی اور لوگوں کو غلامی کا احساس نہیں ہوتا۔ ان سے ٹیکس یا سود قانونی طریقے سے وصول کیا جاتا ہے اور لوگ یقین رکھتے ہیں۔ یہ طریقہ اگرچے سست رفتار ہے مگر دیر پا ہوتا ہے۔ لوگوں پرنہ مذہبی پابندی ہوتی ہے نہ سفر کرنے کی اور نہ ہی آزادی خیال کی۔ وہ الیکشن میں چناو کی بھی آزادی رکھتے ہیں انہیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ انہیں غلام بنایا جا چکا ہے اور ان ہی کے اپنے لوگ عوام کی دولت آقاوں تک منتقل کرتے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ دور غلامی چاہے جیسا بھی ہو، کچھ عیاں ہوتا ہے اور کچھ خفیہ، آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں شائد یہ خفیہ ہے کیونکہ  حکمرانی ایک ایسا دور ہے جس میں شاید غلام کو اس چیز کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ غلام ہے لیکن وہ ضرور کسی نہ کسی شش و وپنج کا شکار ہوتا ہے۔

یہاں غلامی اور اس کے مقاصد کا بیان کرنا صرف یہی تھا کہ کیسے غلامی کا چکر زیر منظر آیا اور کن طریقوں سے گزر کر غلامی اپنے وجود میں آئی۔ غلامی کا مقصد یہ نہیں ہے کہ انسان کو انسان سمجھنے کے بجائے اس کے ساتھ جانوروں کا سا سلوک کیا جائے۔ اپنی پہچان ایسے بنائیں کہ ہمیں کوئی خفیہ طریقے سے بھی غلام نہ بنا پائے کیونکہ غلامی موت سے بدتر ہے۔

Facebook Comments