گرمیوں کے شروع ہوتے ہی ہمیں یہ کلمات عام سننے کو ملتے ہیں کہ ”آج بہت گرمی ہے“، ”آج تو سورج آگ برسا رہا ہے“۔ ”اف! یہ گرمیاں تو نہ ہی ہوتیں“۔ کچھ تو گرمی کی درگت بنانے کے ساتھ ساتھ منہ سے کفریہ کلمات ادا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور گرمی کی شدت سے ہر وقت نالاں ہی نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگ حقیقتاً موسم گرما کے مثبت اثرات اور فوائد و ثمرات سے بے بہرہ ہوتے ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو موسم گرما اپنے اندر بہت سے مثبت پہلو بھی رکھتا ہے جن کا ذکر ہم قرآن و حدیث اور سائنسی تحقیقات کی روشنی میں کریں گے اور جانیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی دوسری بہت سی نعمتوں کی طرح یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے جس کا شکر بجا لانا ہم پر واجب ہے۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں

قرآن مجید میں گرمی (الحر) کا ذکر تقریباً چھ مقامات پر آیا ہے جس طرح سورة النحل آیت :81 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ”اللہ ہی نے تمہارے لیے اپنی پیدا کردہ چیزوں میں سے سائے بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے پہاڑوں میں غار بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے کرتے بنائے ہیں جو تمہیں گرمی سے بچائیں اور ایسے کرتے بھی جو تمہیں لڑائی کے وقت کام آئیں۔ وہ اسی طرح اپنی پوری پوری نعمتیں دے رہا ہے کہ تم حکم بردار بن جاو“۔ پھر سورة القریش آیت: 2 میں فرمایا، ”انہیں سردی اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے لیے“۔ سورة التوبہ آیت:81 میں فرمایا، ”انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرنا ناپسند کیا اور انہوں نے کہا کہ اس گرمی میں مت نکلو، کہہ دیجئے کہ دوزخ کی آگ بہت ہی سخت گرم ہے، کاش کہ وہ سمجھتے ہوتے“۔

آپﷺ سے بھی گرمی اور خاص طور پر جہنم کی گرمی کے متعلق بہت سی احادیث مبارکہ صحیح سند سے ہم تک پہنچتی ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا، ”جب گرمی کی شدت ہو تو اسے نماز سے ٹھنڈا کرو، پس بے شک جہنم کی گرمی اس سے کہیں شدید ہے“۔ احادیث کی کتب کے مطالعے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی کبھی کبھار اس گرمی کی شدت سے نالاں ہوتے تو آپ ﷺ سے اس کی شدت کا ذکر کرتے تو آپ ﷺ انہیں جہنم کی آگ کی گرمی کی یاد دلاتے تو ان کا دل جہنم کی آگ کی گرمی کی شدت اور ہیبت سے بھر جاتا اور دنیا کی گرمی انہیں اللہ کی نعمت لگنے لگتی کہ یہ انہیں جہنم کی آگ کی یاد دلاتی ہے۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے لوہا آگ(بھٹی) میں سے نکالا تو اس کی حدت کو دیکھتے رہے اور پھر رونے لگے اور اتنا روئے کہ ان پر غشی طاری ہو گئی۔ ان آیات اور احادیث کی روشنی میں اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے طرز عمل سے یہ پتا چلتا ہے کہ گرمی کی شدت ہمیں جہنم کی آگ کی یاد دلاتی ہے اور اس سے پناہ بھی مانگی گئی ہے اور بہت سی دعائیں حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ جہنم کی آگ سے پناہ مانگنے کی یہ دعا سکھائی گئی، ”اللھم اجرنی من النار“۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں گرمی کے موسم کے مختصرا ذکر کے بعد ہم اس کے سائنسی ترقی سے ثابت شدہ اور اپنی زندگی میں ہونے والے اس کے مثبت اثرات پر مختصرا جائزہ لیں گے۔

سائنسی حقائق

اگر ہم سب سے پہلے موسم گرما کے انسانی جسم پر مثبت اثرات کا جائزہ لیں تو ہم جانیں گے کہ ہمارے جسم میں موسم گرما کی وجہ سے ہونے والی سب سے بڑی تبدیلی جسم سے پسینے کا اخراج ہے۔ جس سے ہم جی بھر کر کوفت کا شکار ہوتے ہیں۔ جسم سے پسینے کا اخراج دراصل ہمارے جسم میں موجود سوئٹ گلینڈز کی بدولت ہے جن کی انسانی جسم میں تعداد تقریباً 2-4 ملین ہوتی ہے۔ جو کہ جسم کے مختلف حصوں سے پسینے کے خارج ہونے کا سبب بنتے ہیں مثلاً ہتھیلیوں، بغلوں، پاوں کے تلوے پیشانی اور ٹھوڑی وغیرہ پر پسینہ آنا۔ پسینے کا یہ اخراج سردیوں کے مقابلے میں گرمیوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ پسینے کا اخراج انسان کے جسم کے لیے کس قدر ضروری ہے سائنس اس بارے میں ہماری یوں رہنمائی کرتی ہے کہ پسینا آنے سے انسان کے جسم میں پانی کی کمی واقع ہو جاتی اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے جب پانی پینے کی مقدار کو بڑھایا جاتا ہے تو اس سے انسان کے جسم کے

اعضاءجن میں جگر، گردے اور معدہ کی وقتا فوقتاً صفائی ہوتی رہتی ہے جس سے ان کے کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔  سٹین فورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے مطابق ”زیادہ پانی پینا آپ کے گردوں کو صحیح طور پر کام کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے اور گردے جو کہ جسم کی صفائی اور جسم سے فالتو اور زہریلے کیمیکلز کو نکالنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پسینے میں نمکیات کی کافی تعداد کے اخراج کے ساتھ پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، کلورائیڈ اور ٹریس کیمیکلز جن میں زنک، سلفر اور کاپر کی بھی کافی مقدار پائی جاتی ہے اور ان کیمیکلز کا جسم میں ایک خاص مقدار سے زیادہ پایا جانا نقصان دہ ہے۔ ریسرچرز کی ایک اور تحقیق کے مطابق سجن کینسر کا باعث ایک پروٹین ہے جس کا اخراج بھی پسینے کے ذریعے عمل میں آتا ہے جس سے انسان سکن کینسر سے محفوظ رہتا ہے۔

موسم گرما کے اس کے علاوہ اور بہت سے فوائد انسانی جسم پر مرتب ہوتے ہیں جن کا احاطہ اس مختصر سی تحریر میں ممکن نہیں۔ اب اگر ایک اور رخ سے موسم گرما کے فوائد کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ ہے کہ گرمی کے موسم میں کپڑے جلد خشک ہو جاتے ہیں جس کی وجہ گرمیوں میں درجہ حرارت کا سردیوں کے مقابلے میں زیادہ ہونا ہے اس لیے پانی تیزی سے بخارات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح گرمیوں میں سمندروں، دریاو¿ں، ندی نالوں، تالابوں اور برف سے ڈھکی پہاڑوں کی چوٹیوں سے بخارات کا یہ عمل تیز تر ہو جاتا ہے۔ یہ بخارات اوپر بادلوں میں اکٹھےں ہو جاتے ہیں اور پھر یہ بادل جب پانی سے بوجھل ہو جاتے ہیں تو بارش کا سبب بنتے ہیں اس عمل کو واٹر سائیکل کہتے ہیں۔ اس کا ذکر قرآن مجید میں چودہ سو سال پہلے کر دیا گیا تھا جب کہ سائنس نے یہ عمل کچھ صدیوں پہلے ہی دریافت کیا ہے۔

قرآن مجید میں اس کا ذکر اللہ تعالٰی اس طرح فرماتے ہیں: ”اللہ تعالٰی ہوائیں چلاتا ہے وہ ابر کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالٰی اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کے ٹکرے ٹکرے کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں کہ اس کے اندر سے قطرے نکلتے ہیں اور جنہیں اللہ چاہتا ہے ان بندوں پر پانی برساتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں“۔سائنسی تحقیق سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ واٹر سائیکل زمین کی بقا کے لیے اور اس میں پانی کی مقدار کو پورا رکھنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ واٹر سائیکل کے ذریعے زمین پر برسنے والا پانی بخارات بننے والے پانی سے نہ صرف مختلف ہوتا ہے بلکہ یہ پانی صاف شفاف اور زمین میں پائی جانے والی ہر مخلوق کے لیے زندگی کی نوید ہوتا ہے۔

گرمیوں کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ ہم اس موسم میں پھلوں کے بادشاہ آم کا نہ صرف دیدار کرتے ہیں بلکہ ہم اس کے رنگ وبو اور اس کے مختلف ذائقوں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر کئی پھل جو کہ خاص اسی موسم کی ہی پیداوار ہیں اپنے خوشگوار رنگ وبو اور خوش ذائقوں سے جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ ان تمام پھلوں کا پکنا خوش ذائقہ اور خوش شکل ہونا دراصل سورج کے ہی مرہون منت ہے۔ سائنس سے یہ بات پتا چلتی ہے کہ پھلوں کو پکنے کے لیے 65-77F ٹمپریچر کی ۔ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اگر پھل روشنی کو ڈائریکٹ وصول کریں تو ان میں پکنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔

قرآن و حدیث اور سائنسی تحقیقات کے مختصر جائزے کے بعد یقیناً گرمی کے متعلق ہماری پہلی سوچ میں تبدیلی آئی ہوگی اور ہم اسے مصیبت سمجھنے کے بجائے اگر اس کے ثمرات پر نگاہ دوڑائیں تو زبان بے اختیار الحمد للہ کہنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ”پس تم رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاوگے“۔ پس گرمی کے مثبت اثرات پر غور کیجیے اور اپنے خالق کا شکر بجا لائیں۔

Facebook Comments