میں بس کے انتظار میں برائے نام بنی ایک برآمدہ نما انتطار گاہ میں آن بیٹھا۔ یہاں دھول مٹی، چند سٹیل کی کرسیوں اور ایک چھوٹی سی ٹک شاپ کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ ٹک شاپ پر کھڑے ایک صاحب سر پر ٹوپی اور چہرے پر خوبصورت داڑھی سجائے چپس اور نمکو کے پیکٹوں پر پڑنے والی دھول کو صاف کرنے میں مگن تھے۔ اکا دکا بھیک مانگنے والے جن میں کچھ بچے اور چند جوان خواتین تھیں، ادھر سے گزرتے عادتاً ہاتھ پھیلاتے اور پھر خالی ہاتھ لیے ہی آگے بڑھ جاتے تھے۔ ان میں اکثر پیشہ ور بھکاری تھے جنہیں چند ٹکوں کے عوض اس نیچ کام پر لگا دیا گیا تھا۔

یہ ایک پرانا بس اڈہ تھا جس کی خستہ حالی عہد رفتہ کو پکارتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ ایک جانب چند افراد آپس میں گتھم گتھا تھے، غالباً ان کے تنازعے کی وجہ وہ مسافر تھا جسے دونوں فریقین اپنی اپنی لاری میں بٹھا کر اپنی دیہاڑی پکی کرنا چاہتے تھے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ہر بس اڈے پر ایسے بیسیوں واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں، میں نے سوچا۔ کیونکہ یہ لوگ جنہیں ہاکر کہا جاتا ہے، سواریوں کے بدلے بس مالکان سے معمولی دیہاڑی وصول کرتے ہیں جن سے ان کے گھر کا چولہا جلتا ہے۔ برآمدے کے بائیں جانب قطار در قطار کھڑی بسیں جو کچھ روانگی کے لیے تیار تھیں اور کچھ کی ابھی صفائی ستھرائی جاری تھی جب کہ اس برآمدے کے دائیں جانب ایک سڑک تھی جہاں بے ہنگم ٹریفک دھول اڑاتی اور بلا ضرورت ہارن بجاتی گزر رہی تھی۔ سڑک کنارے چند ریڑھی والے جو مختلف کھانے کی اشیائ، جن میں زردہ پلاو¿، سموسے اور بھنے ہوئے چنے وغیرہ تھے، لیے ہوئے آوازیں لگا رہے تھے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ ان کی جانب متوجہ ہو سکیں۔ غربت زدہ چہرے اور حسرت بھری آنکھیں لیے یہ لوگ قریب سے گزرنے والے ہر شخص کو یوں دیکھتے جیسے ان کا رزق اس شخص کے ہاتھوں پر لکھا ہو۔ خدا نے رزق کی تقسیم بھی عجیب رکھی ہے، نہ حسن دیکھتا ہے نہ خاندان اور نہ ہی ذہانت، بس بے نیازی سے تقسیم کرتا چلا جاتا ہے۔

بس کی روانگی میں ابھی کچھ وقت باقی تھا، سو میں اسی طرح کرسی پر بیٹھا گردوپیش پر ہی غور کر رہا تھا کہ اچانک مجھے ان سٹیل کی کرسیوں کے پاس ہی ایک بھکارن فرش پر ایسے سوئی ہوئی نظر آئی جیسے یہ فرش نہ ہو کوئی مخمل کا بستر ہو۔ جوانی کی سرحدوں کو پار کرتی ہوئی یہ ادھیڑ عمر عورت، گردوپیش سے بے نیاز گہری نیند میں تھی۔ میں نے سوچا کہ کیسی عجیب دنیا ہے، کسی کو مخملی بستر پر بھی نیند نہیں آتی اور کوئی ہے کہ گندے فرش پر بھی بنا بستر کے محو استراحت ہے۔ اس دوران پاس سے گزرنے والے لوگ اس سے یوں بچ کر گزر رہے تھے جیسے وہ کوئی اچھوت ہو یا کوئی ایسا نجس جانور، جس سے ان کی پاکیزگی پر داغ لگنے کا خدشہ ہو۔ یہ لوگ اسے بس ایک نظر حقارت سے دیکھتے اور بعض تو کچھ فقرے بھی اس پر کستے اور پھر ہنسنے لگتے۔ نجانے کیوں لوگ صاف ستھرے کپڑے اور جیب میں رکھے چند ٹکوں کی بنیاد پر ہی خود کو اشرف سمجھنے لگتے ہیں؟ وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جیب میں رکھے چند کاغذ کے نوٹ اور اجلے کپڑے کسی کو اشرف بنانے کے ضامن نہیں بلکہ خلوص نیت، احساس اور انسانیت کی خدمت ہی وہ عوامل ہیں جن کی بنیاد پر انسان دیگر انسانوں سے اشرف بنتا ہے مگر مادیت پسندی کے اس دور میں بھلا یہ سب کہاں سے ڈھونڈا جائے؟

گنڈیری والے….، گنڈیری والے….! اچانک ایک کمزور سی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ دیکھا تو وہی بھکارن نیند سے جاگ کر پاس سے گزرنے والی گنڈیریوں کی ریڑھی کو پکار رہی تھی۔ ریڑھی والے نے اسے یوں گھور کے دیکھا جیسے وہ گنڈیریوں پر بیٹھنے والی کوئی مکھی ہو جو اس کی گنڈیریوں کو گندا کرنے لگی ہو لیکن جوں ہی بھکارن نے اسے دس روپے کی گنڈیریاں دینے کو کہا تو ریڑھی والے کے غربت زدہ چہرے پر امید کی کرن لہرائی۔ یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ انسان کے رزق کا وسیلہ کوئی بھی بن سکتا ہے۔ چاہے وہ یہ بھکارن ہو جو دس روپے کے بدلے ریڑھی والے کے چولہے کو جلانے میں اپنا کردار ادا کر رہی تھی یا پھر وہ ریڑھی والا جو اس بھکارن کی بھوک کو مٹانے کا سبب بن رہا تھا۔ فرش پر بیٹھے بیٹھے ہی اس نے ایک میلی پوٹلی سے دس روپے نکالے اور گنڈیری والے کو دیے تو اس نے کچھ منہ بناتے ہوئے دور سے ہی اسے چند گنڈیریاں ایک شاپر میں ڈال کر پکڑا دیں۔ بھکارن اب ایک کرسی کے مزید قریب ہو گئی تھی اور میلے ہاتھوں کے ساتھ گنڈیریوں والا شاپر ٹٹول رہی تھی۔ ٹک شاپ پر بیٹھے دو آدمی اس بھکارن کے جسم کو مسلسل عجیب نظروں سے گھور رہے تھے جیسے وہ میلا کچیلا ہونے کے باوجود ان کے لیے دلچسپی کا باعث ہو۔ جنس مخالف کی کشش جب ہوس میں بدلتی ہے تو پھر وہ ظاہری میلاپن اور حسب نسب نہیں دیکھتی بلکہ اسے تو بس اپنے مذموم مقصد کی کسی بھی طریقے سے تکمیل چاہیے ہوتی ہے مگر بھکارن ان سب سے بے پروا گنڈیریوں کی جانب متوجہ تھی۔

اچانک کہیں سے ایک چھوٹا سا سفید کتا آن نکلا اور اس بھکارن کے پاس دم ہلاتا ہوا آیا اور اسے سونگھنے لگا۔ پھر اس نے گنڈیریوں والے شاپر کی طرف منہ بڑھایا اور انہیں سونگھنے لگا۔ بھکارن نے اس سفید کتے کو اپنی جانب کھینچا اور پھر اسے اپنی گود میں یوں بٹھا لیا جیسے وہ کوئی چھوٹا سا بچہ ہو۔ ٹک شاپ والے صاحب سمیت وہاں بیٹھے دو تین لوگ اس منظر سے لطف اندوز ہوکر قہقہے لگانے لگے۔ کتا جو اب بھکارن کی گود میں بیٹھا تھا مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ اس کی اپنی بچھڑی ہوئی اولاد ہو جو اب بھکارن کو آن ملی ہو۔ بھکارن نے، جو گنڈیریوں کو چھوڑ کر اس کتے کی گردن اور کمر سہلا رہی تھی، اچانک کتے کو چومنا شروع کر دیا اور اس کے سر پر یوں انگلیاں پھیرنے لگی جیسے کسی چھوٹے بچے کے بال بنا رہی ہو۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جسے اس عورت کی اولاد کو اس سے جدا کر دیا گیا ہو، اب اس کی مامتا کسی بھی مخلوق کے بچے کو دیکھ کر جاگ جاتی تھی یا شاید وہ عورت اولاد سے ہی محروم تھی۔ میں اس کے قریب جا کر اس سے یہ سب پوچھنا چاہتا تھا مگر اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے اور سامنے بیٹھے ان لوگوں کی وجہ سے اس پر عمل نہ کر سکا۔ میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے اس بھکارن کو غور سے دیکھا، جو اب اس کتے سے باتیں کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے سر اور گردن کو بھی چوم رہی تھی۔

بھکارن کا چہرہ نہایت پرسکون اور اس کی آنکھیں روشن تھیں مگر اس روشنی میں اس کی حسرتیں اور تلخ ماضی صاف چمک رہا تھا۔ میں حیرت سے کبھی اس بھکارن کو دیکھتا جو کتے کو گود میں بٹھائے چومتی چلی جا رہی تھا اور کبھی ان ہنسنے والوں پر افسوس کرتا، جو ٹک شاپ کے سامنے پڑی کرسیوں پر بیٹھے آپس میں کچھ جملوں کا تبادلہ کرتے اور پھر قہقہ لگا کر ہنسنے لگ جاتے۔ کاش وہ بھی جان لیتے کہ وقت بڑا ظالم ہے، جب پلٹتا ہے تو شاہ کو گدا اور گدا کو شاہ بنا دیا کرتا ہے۔ شاید اب وقت سے عبرت حاصل کرنے والے دانا بہت کم رہ گئے ہیں، میں نے خود کو بتایا۔

وہ بھکارن کچھ دیر یونہی کتے کو چومتی رہی اور پھر کتا اس کی گود سے نکل کر ادھر ادھر گھومنے لگا۔ اس دوران بھکارن نے گنڈیریوں والا شاپر کھولا اور ابھی آدھی گنڈیری ہی کھائی تھی کہ وہ کتا پھر سے اس کے پاس آن بیٹھا۔ شاید کتا بھی بھوکا تھا اور وہ شاپر کی آس پر اس کی جانب پھر سے آن بیٹھا تھا۔ بھکارن نے گنڈیریوں والا شاپر اٹھایا اور کتے کے آگے رکھ کر خود چپ چاپ اسے دیکھنے لگی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی ماں اپنے بھوکے بچے کے سامنے کھانا رکھ کر اسے دیکھ رہی ہو۔ وہ اپنی بھوک بھول کر اس بچے کی بھوک کو محسوس کر رہی تھی۔ ہر ماں کی بھوک اس کے بچے کی بھوک مٹنے پر ہی مٹ جایا کرتی ہے چاہے وہ خود ایک نوالہ بھی نہ کھائے۔ کتے نے شاپر کو پہلے چاٹا اور پھر اس میں موجود دو ایک گنڈیریوں کو بھی کاٹنے کی کوشش کی لیکن پھر اچانک سے اٹھ کے چل دیا جیسے کوئی بچہ من پسند کھانا نہ پا کر روٹھتا ہو۔ بھکارن اس کے جانے کے بعد اسے دیر تک دیکھتی رہی اور پھر شاپر اٹھا کر اس میں موجود گنڈیریوں کو دوبارہ کھانے لگی۔ وہ اس بات سے بے پرواہ تھی کہ ایک کتا اس کی گنڈیریوں کو چبا کر گیا ہے۔

کیسا عجیب منظر تھا، بھکارن کتے کا جھوٹا کھا رہی تھی، شاید واقعی بھوک کا کوئی مذہب اور کوئی اخلاق نہیں ہوا کرتا۔ ٹک شاپ والے صاحبان جو اس سارے منظر کو بغور دیکھ رہے تھے، بھکارن پر خوب ہنسے اور کچھ نازیبا جملے بھی اس پر کسنے لگے لیکن وہ بھکارن خود میں مگن اپنی بھوک ان گنڈیریوں سے مٹانے میں محو تھی۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ یہاں صرف وہی بھکارن ہی اصل انسان تھی، باقی سب انسانوں کے روپ میں کچھ اور ہی مخلوق دکھائی دے رہے تھے جو اجلے لباس میں اپنے من کے ننگے اور بھوکے پن کو چھپائے ہوئے تھے۔ جو انسانیت کے دعویدار اور احساس و جذبات کے داعی تھے مگر اس لمحے ان سے کئی گنا زیادہ وہ بھکارن انسانیت سے بھرپور اور دکھاوے سے دور نظر آ رہی تھی۔ جس نے ایک بھوکے کتے کی بھوک کے لیے اپنی بھوک کو ایک طرف کر دیا تھا اور پھر واپس اسی کتے کے جھوٹے کو صاف کر کے کھانے لگی تھی کیونکہ اسے معلوم تھا، ارگرد کے اشرف المخلوقات اسے نفرت کے سوا کچھ دینے کے قابل نہیں۔

Facebook Comments