ایک مرتبہ حضرت جعفر طیارؓ ایک قلعہ کو فتح کرنے کے لیے تنہا اس قوت سے حملہ آور ہوئے کہ معلوم ہوتا تھا گویا وہ قلعہ ان کے گھوڑے کے تالو کے سامنے ایک کھونٹ کے برابر ہے۔ یہاں تک کہ قلعے والوں نے خوف سے قلعہ کا دروازہ بند کرلیا اور کسی کی تاب نہ ہوئی کہ مقابلہ کے لیے ان کے سامنے آئے۔ بادشاہ نے وزیر سے مشورہ کیا کہ اس وقت کیا تدبیر کرنی چاہیے، وزیر نے کہا کہ تدبیر صرف یہی ہے کہ آپ جنگ کے تمام منصوبوں اور ارادوں کو ختم کرکے اس باہمت شخص کے سامنے تلوار اور کفن لے کر حاضر ہوجائیے اور ہتھیار ڈال دیجیے۔

بادشاہ نے کہا آخر وہ تنہا ایک شخص ہی تو ہے ، پھر ایسی رائے مجھے کیوں دی جاتی ہے؟ وزیر نے کہا کہ آپ اس شخص کی تنہائی کو بے وقعتی کی نگاہ سے نہ دیکھیے، ذرا آنکھیں کھولیے اور قلعہ کو دیکھیے کہ سیماب (پارہ) کی طرح لرزاں اور کانپ رہا ہے اور اہل قلعہ کو دیکھیے کہ بھیڑوں کی طرح گردنیں نیچی کیے، سہمے ہوئے ہیں۔ یہ شخص اگرچہ تنہا ہے لیکن اس کے سینہ میں جو دل ہے وہ عام انسانوں جیسا نہیں ہے۔ اس کی عالی ہمتی دیکھیے کہ اتنی بڑی مسلح اکثریت کے سامنے تنہا ننگی تلوار لیے کس ثابت قدمی اور فاتحانہ انداز میں اعلان جنگ کررہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مشتق و مغرب کی تمام فوجیں اس کے ساتھ ہیں، وہ تنہا بمنزلہ لاکھوں انسانوں کے ہے۔

کیا آپ نہیں دیکھتے کہ قلعے سے جو سپاہی بھی اس کے مقابلہ کے لیے بھیجا جاتا ہے وہ مقتول ہوکر اس کے گھوڑے کی ٹاپ کے نیچے پڑا نظر آتا ہے۔ جب میں نے ایسی عظیم الشان انفرادیت دیکھ لی تو پھر اے بادشاہ ! آپ کی اس اکثریت سے کچھ بھی نہ بن پائے گا، آپ کثرت عدد کا اعتبار نہ کریں، اصل چیز جمعیت قلب ہے اور یہ قوت اس شخص کے قلب میں بے پناہ اور بہت زیادہ موجود ہے۔ یہ نعمت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اللہ تعالی کے راستے میں اپنے نفس کے گناہوں والی خواہشات کو کچلنے کے بعد اللہ تعالی کا محبت و عظمت بھرا تعلق حاصل ہوجاتا ہے اور اس نعمت کو تم حالت کفر میں ہرگز حاصل نہیں کرسکتے۔ لہذا تمھارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس جانباز مردمومن کے سامنے ہتھیار ڈال دو اور قلعہ کا دروازہ کھول دو کیونکہ یہ اکثریت بالکل بے کار ہے۔

Facebook Comments