بچہ آپ سے سیکھتا ہے (آصف اقبال)

ہمارے بڑے بوڑھے ایک جملہ کہا کرتے تھے، ”اولاد کو کھلاو سونے کا نوالہ مگر دیکھو شیر کی آنکھ سے“۔ اس کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ اولاد کو ہر ہر آن، ہر گھڑی ایک نظر سے نہ دیکھا جائے، جب سختی کا موقع ہو تو اس پر سختی کی جائے اور جب بہلانے پھسلانے کا موقع ہو تو اس کے مطابق رویہ اختیار کیا جائے۔ اگر خلاف موقع رویہ اختیار کیا گیا تو یقینا اولاد والدین کے گرفت سے باہر ہو چکی ہوگی۔

دنیا میں اللہ کہ جتنی نعمتیں ہیں، ان میں ہر نعمت اپنی جگہ گراں قدر اور قیمتی ہے۔ اگر بندہ ساری زندگی سر بسجود رہے، تب بھی اس رب لم یزل کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر بجا لانے سے قاصر رہے گا لیکن ان تمام نعمتوں میں ایمان اور زندگی کے بعد سب سے بڑی جو نعمت ہے وہ ”اولاد کی نعمت ہے“۔ اولاد انسان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا قرار ہوتی ہے، اسی سے خاندانی سلسلہ باقی رہتا ہے۔

اولاد کی چاہت ایک فطری خواہش ہے، جو اللہ رب العزت نے انبیاءعلیہم السلام کے اندر بھی رکھی ہے۔ جیسا کہ سورة الصافات میں اللہ رب العزت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت ذکر کیا کہ، ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے کی عمر میں ہیں، بظاہر اولاد کی کوئی امید نہیں لیکن دل میں آرزو لیے رب کی بارگاہ میں اپنی فریاد رکھ رہے ہیں اور یہ فریاد سنی جارہی ہے اور بالآخر ”وبشرنہ باسحاق“ کہہ کر اولاد کی نعمت سے نوازا جا رہا ہے۔دوسری طرف حضرت زکریا علیہ السلام ہیں، بوڑھے ہوچکے ہیں۔ بظاہر اولاد کا کوئی امکان نہیں مگر جب حضرت مریم علیہا السلام کے پاس بے موسم پھل نظر آئے تو امید کی کرن پیدا ہوئی اور بارگاہ خدا میں تمنا ظاہر کی تو حضرت یحییٰ علیہ السلام سے نوازے گئے۔ معلوم ہوا کہ اولاد کی خواہش تقوی اور للہیت کے خلاف نہیں ہے مگر اس نعمت کے حصول کے بعد اس نعمت کی حفاظت یہ بنیادی مقصد ہے۔

یاد رکھیں! والدین کے لیے اولاد کے مزاج کو سمجھنا نہایت ضروری ہے وگرنہ ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہنکایا جائے تو سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ اگر اولاد جائز خواہشات رکھتی ہے تو اسے ضرور پورا کرنے کی کوشش کریں، اپنی سہولت کی خاطر اس کے جذبات کو مجروح نہ ہونے دیں۔ اگر ایسا نہ کیا اور ہر بات کا جواب ”نہیں“ سے دیا تو سوچ لیں کہ وہ آپ کے جذبات اور احساسات کے وقت آپ کے سوالوں کا جواب ”نہیں“ سے دینے کا عادی ہوتا جائے گااور اگر اولاد ناجائز مطالبات منوانے کی ٹھان لے، تو فورا انکار کی راہ اختیار نہ کریں بلکہ اس کی آرزووں اور تمناوں کو اس طرح دبادیں کہ آپ کی اولاد یہ ہرگز محسوس نہ کرے کہ میری بات نہیں مانی جاتی، میرا خیال نہیں رکھا جاتا۔

ایک دوسری اہم بات یہ ہے کہ ”بچہ آپ سے سیکھتا ہے“ یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب آپ اس کو سکھانے کے لیے تیار ہوں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اولاد کو وقت دیں۔ ان کے پاس بیٹھیں، ان کو اپنے پاس بٹھائیں، حتی الامکان بچوں کو اپنے سے دور نہ رکھیں ۔ اگر آپ اپنے بچوں کو خود سے دور کریں گے، تو وہ دوسری چیزوں میں انسیت تلاش کرے گا کیوں کہ بچے کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ وہ ممانست چاہتا ہے۔ وہ کسی کا ساتھ چاہتا ہے۔ اگر اچھوں کا ساتھ میسر نہ آئے تو بروں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے، اس طرح وہ دوسرے کے ہاتھوں کا کھلونا بن سکتا ہے۔ جیسا کہ موجودہ دور میں بچے ٹی وی، نیٹ، اس سے آگے اب فیس بک اور دوسری ایسی سرگرمیوں کو اپنا مسکن سمجھتے ہیں، جو ان کے عمر کے مناسب نہیں ہوتی۔ اس کی بنیادی وجہ والدین کا اپنے بچوں کو وقت نہ دینا ہے، اس لیے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو کہ موجودہ معاشرے میں بچوں کی صحیح تربیت کا کریڈٹ جہاں والدین کو جاتا ہے تو وہیں ان کے بگڑنے کی ایک بہت بڑی وجہ خود والدین ہوتے ہیں۔

Facebook Comments