محبت کے سوداگر ( ثنا نقوی)

بھاری بھرکم تالا اس بوسیدہ دروازے پر لگا تھاجو ہمیشہ دوسروں کے لیے کھلا رہتا تھا۔ دل بوجھل تھا اور آنکھیں نم، میں نے حلق سے بمشکل نکلنے والی بھاری سی آواز میں ملازم سے تالا کھولنے کوکہا۔ اس نے دو سے تین بارچابی الٹی سیدھی کر کے گھمائی اور زنگ آلود تالے کو کھول کر دروازے کو ہلکا سا دھکا دے کر کھول دیا۔

قدم اندررکھتے ہی مشکل سے اپنا وجود قائم رکھنے والی چھتوں سے ماضی کی یادوں کی بارش برسنے لگی۔
جہاں روشنیوں کا بسیراتھا وہاں اب اندھیرے حاکم تھے، قہقہوں کی صدائیں سناٹوں کے زنداں میں قید ہو چکی تھیں۔ جہاں گھر کا ساز و سامان بڑی نفاست سے سجا ہوتا تھا وہاں اب بے ترتیبی براجمان تھی۔ بائیں جانب کے کمرے میں رکھا شیشے کا مرتبان جس میں مختلف رنگ و نسل کی مچھلیاں بستی تھیں اس کا پانی سوکھ چکا تھا۔ مکینوں کے نہ ہونے سے مکان میں زندگی کے تمام آثار ختم ہوچکے تھے۔ دائیں طرف کو مڑنے والی راہداری میں گہرے نیلے رنگ کے گلدان جن میں لگے مصنوعی پھول اب جالوں کی نذر ہو چکے تھے اب بھی  موجود تھے۔ ان گلدانوں سے بڑی حسین یادیں جڑی تھیں، ان کو سجانے کے لیے ہم نے کتنی محنت کی تھی۔ کچے چاولوں کو رنگوں میں بھگو کر ان سے گلدانوں پر نقش و نگاری کی تھی اور بعد میں گھر میں پالاہوا مرغا وہ ایلفی زدہ چاول کھا کر مر گیا تھا۔ مرغے کے مالک نے نئے آرٹسٹ کے جان لیوا آرٹ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ کئی دن یہ قصہ اس گھر میں ہونے والی ہر محفل میں بیان ہوتا رہا اور قہقہوں کا سبب بنا تھا۔ بہتے ہوئے آنسوؤں کے بیچ میرے چہرے پر تھوڑی سی دیر کے لیے مسکراہٹ بکھر گئی۔

 آنسوپونچھتے ہوئے میں کمرے کی جانب بڑھی جہاں میری نظر دیوار پر گولڈن فریم میں لٹکی ہوئی درمیانے سائز کی تصویر پر پڑی جوگرد سے اٹی تھی۔ میں نے ایڑیاں اٹھا کرتصویر تک رسائی حاصل کی اور دیوار سے اتار کرفریم کو اپنے دوپٹے کے پلو سے صاف کیا۔ گرد صاف ہوتے ہی خوبصورت نقوش والا چہرہ نمایاں ہو گیا۔ بڑی بڑی گہری آنکھیں جن میں محبت اور خوشی ہمیشہ جھلکتی رہتی تھی اس تصویر میں بھی بالکل ویسی ہی نظرآرہی تھیں۔ مجھے یوں لگا وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی ہیں۔ دبلی پتلی سی دلہن سرخ جوڑے میں بہت حسین لگ رہی تھی، اس شادی کے پیچھے بھی بہت سی تلخ اور شیریں یادیں تھیں۔ محبت کی شادی کرنے والے شاید محبت کے حقیقی معنی سے واقف تھے اسی لیے زندگی کے تمام نشیب و فراز میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے او ر محبتیں ہی بانٹتے رہے۔

گھر کی دیواروں کا ہلکا گلابی رنگ جو گھروالوں کی زندہ دلی کا ثبوت تھا بارشوں کے پانی سے دھل کر کہیں کہیں سے سفید ہو چکاتھا۔ دیواروں کا اڑا ہوا رنگ بچھڑ جانے کے کرب کی نشاندہی کر رہا تھا۔ گھر کا سامان جو دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث بوسیدہ ہو چکا تھا یہ گواہی دے رہا تھا کہ جان دار ہو یا بے جان خیال رکھنے والے پیاروں کے چلے جانے کے بعد کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔

کمروں کی زیارت کے بعد میں لان میں آگئی۔ زیارت کا لفظ یہاں اس لیے لکھا کیوں کہ مجھے لگتاہے ہروہ جگہ مقدس ہے جہاں ہر آنے والے کی قدر کی جائے، جہاں ہرخاص و عام سے ایک جیسا سلوک رکھا جائے۔ ہر کسی کو اس کے اصل میں قبول کیا جائے، کسی بے آسرا یا مصیبت زدہ کے لیے درد وا کر دیے جائیں، دوسروں کے لیے خوشیوں کا سامان کیا جائے۔
لان میں لگے پودے ان شفیق ہاتھوں کے لمس کے پیاسے لگ رہے تھے اوربارش کے پانی کے مرہون منت جینے کی بھرپورسعی کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ موتیا کا پودا جس پر ایک دو پھول ہی موجود تھے اور وہ بھی دھوپ سے آدھے جل چکے تھے انہیں دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ وہ کتنی خوش لباس تھیں، سجنے اور سنورنے کا بہت شوق تھا ان کو، اکثر وہ موتیے کے پھولوں کو بندوں کی جگہ کانوں میں سجا لیتی تھیں، گہرے رنگ کی لپ اسٹک لگاتی تھیں۔ کوئی کچھ بھی کہتا رہے وہی کرتی تھیں جس سے ان کو خوشی ملتی تھی اور شوہر سے ملنے والی پذیرائی سے مزید با اعتماد ہو جاتی تھیں۔ ان کے شوہر بھی خوشبوؤں کے دلدادہ تھے۔ دونوں کے پاس پرفیومزکی بڑی کولیکشن تھی ہر نئی خوشبو خرید تے اوردوسروں کو بھی تحفے میں دیتے رہتے تھے۔رشتوں اور محبت کو نبھانے کی درس گاہ کے صحن میں کھڑے میں نے نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور دوسروں کے دلوں میں گھر کر کے اپنا گھر ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے جانے والے اس زندہ دل جوڑے کے لیے دعا کی، جن کے دم سے یہاں رونقیں تھیں، جو امن پسند تھے وہ وہاں بھی امن اورسکون میں رہیں۔

اس مختصر سے دورے کے بعد میں میرے قدم پاس ہی موجود اپنے گھر جی جانب رواں تھے اورمیں یہی سوچ رہی تھی کہ جہاں سے ہمیشہ خوشیاں اور پیار ملتا تھا آج بھی میں وہاں سے خالی ہاتھ نہیں آئی تھی بلکہ ایک درس ملا تھا کہ لوگ مکینوں سے ملتے ہیں مکانوں سے نہیں۔ اگر مکانوں سے ملا جاتا تو آج بھی یہاں ویسی ہی رونقیں ہوتیں، ویسی ہیں محفلیں سجتیں، مکان تو وہیں موجود تھا مکین جا چکے تھے۔ قیمتی انسان ہوتے ہیں چیزیں نہیں، چیزوں کی معیاد ختم ہو جاتی ہے لیکن انسان کی معیاداس کے چلے جانے کے بعد بھی اس کے کردار اس کے اخلاق کی صورت میںقائم رہتی ہے۔ در و دیوار روشن ہونے سے بہترہے کہ دل و دماغ روشن ہو جہاں ہر کسی کو ہر حال میں قبول کیا جائے، گھروں کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ خود کو بھی سنواریں لوگوں کے ساتھ ایسے رہیں کہ ہمیشہ کے لیے چلے جانے کے بعد بھی دوسروں کے دلوں سے کہیں نہ جائیں۔ ان کے دلوں، یادوں اور دعاو ¿ں میں ہمیشہ زندہ رہیں۔

Facebook Comments