کتاب زندگی ہے (رمشا افتخار)

کتابیں ہماری زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے، “اگر ایک کتاب،ایک قلم،ایک استاد اور ایک شاگرد مل جائے تو دنیا بدل سکتی ہے” ساری زندگی انسان کتابوں سے جڑا رہتا ہے۔چند اوراق کو جوڑ دیا جائے تو کتاب بن جاتی ہے۔

ہر کتاب کی اپنی ایک دنیا اور ایک کہانی ہوتی ہے۔بچپن کا بھی عجیب دور تھارات کو اماں اور دادی کا گھٹنا نہ چھوڑنا جب تک وہ کہانی نہ سنا دیں۔

جادو کی دنیامیں رہنا اور خود کو شہزادہ اور شہزادی سمجھنا۔ جب ہوش سنبھالاتو معلوم چلا کہ ایسی کوئی دنیا ہی نہیں۔ زبردستی ہمارا ٹانکا کتابوں سے جوڑ دیا گیا لیکن پھر یہ ٹانکا کب دل سے جڑ گیا ہمیں معلوم بھی نہ ہوا۔

کتابوں سے زیادہ کوئی بھی وفادار دوست ثابت نہیں ہو سکتا اگر آپ کی دوستی کتابوں سے ہے تو آپ کبھی بھی تنہا نہیں ہوں سکتے۔ کتابیں پڑھنے سے انسان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے اسے کے حوصلے بلند ہوتے ہیں وہ کائنات کے بارے میں تجسس سے جاننا شروع کرتا ہے۔  کتانیں علم،معلومات،غم،خوف،واقعات ،تجربات،تاریخ، پیار،کہانیوں ،نصیحتوں اور دعاؤں سے بھرپور ہوتی ہیں۔ کتابوں سے انسان کو نئی چیزیں،نئی نئی معلومات اور مشکلات کو حل کرنے کے نئے نئے طریقے ملتے ہیں۔ ہم دنیا کو زیادہ اچھے اور بہتر طریقے سے سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ انسان گھر بیٹھے کتابوں کے ذریعے پیرس کے ایفل ٹاور، آگرہ کے تاج محل،پیسا کے جھکے مینار، سان فرا نسکو کے گولڈن گیٹ برج اور روم کے Colosseum کی سیر کر سکتا ہے۔

جب ہم کتاب پڑھتے ہیں تو ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے ہم اپنے دوست سے بات کر رہے ہواور جب ہم کتاب کا آخری صفحہ پلٹتے ہیں تو ہمیں انجانی خوشی کے ساتھ دکھ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنا دوست کھو رہے ہیں۔ اچھی کتابیں،اچھے دوست اور خوشگوار نیند یہی تو آئیڈیل زندگی ہے۔ ہمیں کتابوں کا چناؤ عقلمندی سے کرنا چاہیے کیونکہ بعض کتابیں سانپ سے زیادہ زہریلی اور بچھو سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ ہمیں اچھی،معیاری اور معلوماتی کتابیں پڑھنی چاہیے۔جیسے اشفاق احمد کی کتاب زاویہ،بانو قدسیہ کا راجہ گدھ اور ہاشم ندیم کا بچپن دسمبر وغیرہ۔

کتابیں ہماری ٹینشن کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب ہم کتاب پڑھتے ہیں تو ہم پرسکون ہو جاتے ہیں ہمارے مسلز ریلکس ہو جاتے ہیں دل ایک انجانی خوشی سے سرشارہوجاتاہےاور بلڈ پریشر بھی نارمل رہتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں بل گیٹس سو فٹ وئیر کمپنی کا ٹائیکون کیسے بنا۔یہ سب معلومات ہم کتابوں کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں اور ان معلومات کو ہم اپنے اندر ذخیرہ کرسکتے ہیں جس سے وہ اس صدی کا عظیم انسان بنا۔ آج سے ہم عزم کرتےہیں کہ ہم بھی کتابوں سے دوستی کریں گےاور ان سے استفادہ حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔

Facebook Comments