ڈالر بہت سے ممالک کی زر مبادلہ کی کرنسی ہے، جن میں امریکہ بھی شامل ہے۔ اس وقت امریکی ڈالر کی قیمت ڈیڑھ سو سے زائد پاکستانی روپے ہو چکی ہے۔ جن ممالک کی کرنسی ڈالر کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے اور وہ ڈالر کو معیاری سکہ فرض کر کے بین الاقوامی تجارت کرتے ہیں انہیں ڈالری ممالک جبکہ وہ ممالک جن کی کرنسی انگریزی پونڈ کے مطابق کم یا زیادہ ہوتی ہے انہیں سٹرلنگ ممالک کہتے ہیں۔

ان ڈالری ممالک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر، سونے یا ڈالر کی شکل میں ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹس میں بھی لگ بھگ %62خریدو فروخت اسی کرنسی میں ہوتی ہے۔ اسی لئے ہر ڈالری ملک کو اپنے خزانے میں اتنے ڈالرز رکھنے ہوتے ہیں جتنے درآمدات اور قرضوں کی ادائیگی کیلئے ضروری ہوں۔ یہ توازن برآمدات سے حاصل آمدنی، ٹیکس اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارت، غیر ملکی سرمایہ کاری وغیرہ کی صورت میں قائم رہتا ہے۔ تاہم اگر کسی بھی وجہ سے یہ توازن بگڑتا ہے تو خزانے سے ڈالر کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور مقامی کرنسی کی قیمت گرا کر اس عدم توازن کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے، تو خزانے سے ڈالر کم ہونے اور مقامی کرنسی کی قدر گرنے کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان آتا ہے۔کسی بھی کرنسی کی قدر اس کی رسد اور طلب پر منحصر ہوتی ہے۔ جب کسی کرنسی کی رسد میں کمی واقع ہوتی ہے اور طلب میں اضافہ ہو تو اس کی قدر بڑھ جاتی ہے۔ یہی صورتحال ڈالر کی بھی ہے۔

ڈالر کی قیمت کا تعین کرنے کے تین طریقے ہیں، پہلا تو یہ کہ غیر ملکی کرنسیز میں ڈالر کتنا خریدا جا سکتا ہے۔ زر مبادلہ کی مارکیٹوں میں فوریکس ٹریڈرز اس ریٹ کا تعین کرتے ہیں۔ وہ طلب اور رسد کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر ریٹ متعین کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سارے دن ڈالر کی قیمت میں اونچ، نیچ چلتی رہتی ہے۔ دوسرا طریقہ مالیاتی بانڈز کی قیمت کا ہے، جنہیں باآسانی ڈالر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جب مالیاتی بانڈز کی طلب بڑھے گی تو ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو جائے گا۔ تیسرا طریقہ زر مبادلہ کے ذخائر کے ذریعے قیمت کا اندازہ لگانا ہے، یعنی غیر ملکی حکومت نے کتنے ڈالر اپنے پاس محفوظ رکھے ہوئے ہیں، یہ کہ اگر سٹیٹ بنک کے پاس بڑی تعداد میں ڈالر ہوں لیکن وہ زرمبادلہ کے ذخائر بچانے کیلئے اسے مارکیٹ میں ریلیز نہ کریں تو ان کی رسد کم ہوگی اور اس عمل سے امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو جائے گا۔کسی بھی ملک کی کرنسی کا مستحکم ہونا، ملکی معیشت کا مستحکم ہونا ہے، اور معیشت کا استحکام، خوشحالی، ترقی کی صورت میں سامنے آتاہے۔

دوسری جنگ عظیم ہوئی تو دنیا کی سب قومیں مقروض ہوگئیں، خود امریکہ پر قرضہ تینتالیس بلین ڈالر سے بڑھ کر دو سو ستاون بلین ڈالر ہوگیا تھا! جاپان کے قرضے میں ساڑھے %350اضافہ ہوگیا، کینیڈا پر تقریباََ چار سو فیصد، جرمنی دیوالیہ ہو کے رہ گیا،روس، برطانیہ اور فرانس تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے تھے، الغرض پوری دنیا معاشی و اقتصادی بحران کی لپیٹ میں تھی۔ جنگ کے بعد دنیا دو اکنامک گروہوں میں تقسیم ہوگئی، ایک طرف سرمایا دار انہ اجاراداری جو امریکہ کے پاس تھی اور کمیونسٹ کی سرداری روس کے پاس چلی گئی۔ یوں ان کے درمیان مستقل سرد جنگ شروع ہوگئی تھی۔ امریکہ جو کہ چند ہاتھوں میں یرغمال ہے چنانچہ اس وقت انہوں نے پوری دنیا کے معاشی نظام پر غلبے کیلئے اور نیو ورلڈ آرڈر قائم کرنے کیلئے چند اقدامات کئے جن میں پہلا قدم پوری دنیا کی معیشت کو ایک بنک کے ذریعے کنڑول کرنا، دوسرا اقدام علاقائی معیشت کو کنڑول کرنے کیلئے یورپی یونین اور NAFTA جیسی تنظیموں کا قیام، تیسرا اقدام ورلڈ سینٹرل بنک کے طور پر بی آئی ایس، آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور ڈبلیو ٹی او کے تحت GATT کا قیام1994میں گیٹ ٹریٹی بنائی گئی، جس کی رو سے ملکوں کے درمیان ٹیرف ختم کئے گئے، سوویت کے ختم ہونے کے بعد امریکہ اور اس کی مگر مچھ اتحادی حکومتیں ایک پروگرام کے تحت عوام کی دولت ضبط کرنے میں لگی ہیں، یہ کام افراطِ زر پیدا کر تا جا رہا ہے اور اس کا نشانہ بقول برازیل کے معروف راہ نما تیسری دنیا کے یا ترقی پذیر ممالک ہیں۔ جس سے وہ اپنا نیا ورلڈ آرڈر قائم کر سکیں گے۔ بنک آف انگلینڈ کے سابق ڈائریکٹر کینز نے کہا تھا کہ افراطِ زر کو مسلسل بڑھا کر خفیہ طور پر دولت کا بڑا حصہ ضبط کر لیا جاتا ہے۔ اس کے تحت دیکھا جائے تو اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے امریکہ اور اس کی اتحادی طاقتیں تیسری دنیا میں مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی مرضی کے کٹھ پتلی حکمران مسلط کئے رکھتی ہے بصورت دیگر ان ممالک پر مختلف طریقوں سے دباؤ بڑھاتی ہے یا مختلف سازشوں کے ذریعے اس کی معیشت کو کبھی پابندیوں کے ذریعے تو کبھی انجانی جنگ چھیڑ کر نقصان پہنچاتی ہے۔

ماضی میں وینز ویلا، برازیل سمیت پورا لاطینی امریکہ ہی اس کا شکار رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ عراق، شام، مصر، ایران، شمالی کوریا، لیبیا وغٖیرہ کو تباہ کیا جاچکا ہے۔ اب امریکہ کا نشانہ پاکستان ہے، جیسا کہ تارپلے نے افغان جنگ کے فوراََ بعد کہا تھا Afghanistan Is just a staging area but the target is Pakistan not Afghanistan.

اس سازش کے تحت پاکستان پر یکے بعد دیگرے شدید قسم کے معاشی حملے کئے جا رہے ہیں۔ افسوس جس میں ہمارے اپنے لوگ ہی ان کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ کس طرح پاکستان میں لوگوں کی ضروریات زندگی کو مصنوعی طریقوں سے بڑھایا گیا، پچھلے دو ادوار میں چونکا دینے کی حد قرضوں کی وصولی، اندرون خانہ بڑے پیمانے پر نوٹ چھاپ کر دانستہ افراطِ زر میں اضافہ کرنا،منی لانڈرنگ، دہشتگردی اور سیاسی عدم استحکام، معاشرتی عدم برداشت کو بڑھاوہ دیا گیا۔دنیا کا کوئی بھی ملک اسلحہ یا طاقت کے زور پر نہیں چل سکتا، اس کیلئے معاشی استحکام بھی ضروری ہوتاہے۔ روس کے پاس دفاعی طاقت کی کوئی کمی نہ تھی مگر معاشی طور پر کمزور ہوگیا تھا،اسی وجہ سے سوویت یونین ٹوٹی۔ پاکستان کو بھی ایسے ہی حملوں کا سامنا ہےاور موجودہ حکومت اس مخفی جنگ کے ساتھ بر سر پیکار ہے۔ عمران خان کا شنگھائی تعاون تنظیم میں کھلے عام کہنا کہ ڈالر میں ٹریڈ بند کی جائے ان کی دیدہ دلی اور حب الوطنی کا عکاس ہے۔ پاکستان کو چاہئے کہ برآمدات کو بڑھا کر زر مبادلہ میں اضافہ کرے اور آئی ایم ایف، ورلڈ بنک جیسے مافیا سے جلد جان چھڑوائے۔ اپنے اخراجات کم کرے، اندرونی و بیرونی قرضوں سے پرہیز کریں، مشکل فیصلوں سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں، زر لطیف کی بجائے زر کثیف کو ترجیح دیں۔تجارت کیلئے ڈالر کی حیثیت ختم کرے۔

Facebook Comments