ستر سالہ جدوجہد اور آغاز سفر (شیخ خالد زاہد)

ہم نے خود کو ہمیشہ سے غیر سیاسی رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور اس کوشش میں بہت کچھ لکھنے کےلیے ہونے کے باوجود اپنی باگیں کھینچ کر رکھیں ہیں لیکن صد افسوس کہ اس ملک کے کسی بھی شہر کے کسی بھی علاقے کی کسی بھی گلی کے کونے پر جا کھڑے ہوں وہاں سیاست زیر بحث ہوتی ہے یا پھر کوئی اپنے معاملات کی سیاست۔

سیاست سے پیچھا چھڑانا نہایت ہی مشکل کام ہے۔ گھر، تعلیمی ادارے، دفاتر، گلی، محلے اس سیاست کی زد میں ہیں۔ شا ید یہی وجہ رہی ہوگی کہ ہم میں کوئی دوبارہ محمد علی جناح یا علامہ اقبال پیدا نہیں ہوسکے۔ یہاں تو سب ہی قائد اعظم اور شاعر مشرق بنے پھرتے ہیں۔ یہ ثابت ہوگیا کہ کوئی کسی کو یا کسی کی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے جہاں کہیں تھوڑی بہت قدریں زندہ ہیں وہاں اتنا ضرور ہوتا ہے کہ منہ پر خاموشی سے سن لیتے ہیں لیکن پیچھے وہی کرتے ہیں جو کرنا ہوتا ہے۔ یہ مضمون جب لکھنے بیٹھا تو مقبول امور میں زرداری صاحب کا مک مکا، میاں صاحب کے دل کا دورہ، شہادت کے اعلی ترین مرتبے پر فائز ہونے والے محمد مرسی اور ہمارے قلمی بھائی محمد بلال ہیں۔

کیا یہ کہہ کر جان چھڑا لینی چاہئے کہ جب ستر سال میں یہ قوم، قوم نہیں بن سکی تو پانچ سال میں کیسے بنے گی۔ بات دل کو لگتی ہے اور عملی طور پر عمل کرنے کا تقا ضا بھی کرتی ہے۔ اس بات کو حتمی سمجھ کر پاکستان کا ایک ذہین طبقہ پاکستان سے دوسرے ممالک ہجرت کر گیا اور شاید خوش و خرم زندگی گزار رہا ہو لیکن پورا پاکستان تو ایسا کر ہی نہیں سکتا تھا اور نہ ہے۔

پاکستان میں پاکستان سے محبت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ یہ جذبہ حادثاتی طور پر اجاگر ہوتا ہے اور حالات کے معمول پر آ تے ہی واپس اپنی قبر میں سوجاتا ہے پھر وہی چور بازاری پھر وہی جھوٹ پھر وہی بدعنوانی پھر وہی قتل وغارتگری پھر وہی اپنی ہی پاک زمین پر ناحق خون کا گرنا۔ کتنے سیلاب آئے، کتنے ہی گھر دہشت گردی کی نذر ہوگئے، زلزلوں نے ہنستے بستے شہر کھنڈروں میں بدل کر رکھ دیے۔ غر ض یہ کہ وقت اور حالات اس قوم کو سدھارنے سے قاصر رہے ہیں۔ قوم نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی ریوڑ کی طرح ہیں جسکی جیسی مرضی ہو وہ اسے ہانک لے۔ اپنے ہی لوگوں کی لاشوں پر سیاست ہوتی رہی اپنے ہی لوگوں کو اپنے ملک کا دشمن بنایا جاتا رہا۔

پاک سرزمین کے حصول کا سفر 1947ء میں بھی تمام نہیں ہوا، یہ سفررہااور جاری ہے۔ “لےکر رہیں گے پاکستان، بن کر رہے گا پاکستان” جیسے نعروں نے دشمنوں کے اعوان ہلا کر رکھ دیے تھے جس کے باعث زمین کو ٹکڑا تو قدرت کی کرم نوازی سے مل گیا لیکن اس ٹکڑے کو وطن بنانے کا خواب آنکھوں میں سجائے تحریک پاکستان کے کارکنان سے لےکر بانیان تک آنکھوں میں سجائے دارِفانی سے کوچ کرگئے اور سمجھنے والوں نے مال غنیمت جان کر جو کچھ کیا وہ آج کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ہم آج بھی پاکستان کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ پاکستان آج تک غیر مرئی طاقتیں چلاتی رہی ہیں یعنی قدرت نے جہاں اپنے غضب ناک طریقوں سے ہمیں جوڑنے کی کوشش کی جوکہ وقتی طور پر کامیاب بھی ہوئیں لیکن دیر پا ثابت نہ ہوسکیں۔ اس جز وقتی کی بدولت قدرت پاکستان کی گاڑی آگے دھکیلتی رہی اور یہ قدرت کے ہی مرہون منت رہا ہے کہ ہم اپنے سے کہیں گنا زیادہ بڑے دشمن کو ہر محاذ پر شکست فاش دیتے چلے آئے ہیں۔

ہم دنیائے کرکٹ کو بڑے بڑے نام دےکر بھی کرکٹ کے عالمی اداروں میں اثر و رسوخ نہیں بناپائے، ہم نے اسکوائش کے کھیل میں بر س ہا برس حکمرانی کی اور روشن خان، جہانگیر خان اورجان شیر خان جیسے شکست نہ کھانے والے کھلاڑی دیے، ہماری افواج نے اقوام متحدہ کی امن افواج میں ہمیشہ ہر اول دستے کی طرح اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دنیا کہ امن کے لیے دہشت گردوں سے اعلان جنگ کیا اور ایسے بے تحاشہ کارہائے نمایاں پاکستان کے سینے پر تمغوں کی صورت سجے ہوئے ہیں لیکن افسوس صد افسوس ہم دنیا کی آنکھ کا تارا کبھی بھی نہیں رہے اورآج دنیا کی تلخی ہمارے لیے شدید ہوچکی ہے۔ایسے شدید حالات کے باوجود ہم ابھی تک ستر سال کے سفر کی تلخیاں سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں، ہم ابھی تک بطور قوم کسی حتمی فیصلے پر پہنچ ہی نہیں پارہے ہیں۔

ہمارے خطے کی صورت حال روز بروز بگڑتی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے ہمارے پڑوسی ممالک جن میں بھارت جو ہمیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، پہلے تو وہ کشمیر تک محدود تھا لیکن اب تو اس نے ہمارے ملک کی سرحدوں کی حدود بھی پار کرنی شروع کردی ہے یہ تو ہماری باہمت اور الولعزم افواج کی بہادری ہے کہ وہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں اور انہیں ان کے خیموں تک چھوڑ کر آتے ہیں۔ دوسری طرف افغانستان جس نے بھارت کے ساتھ خوب ہمارے خلاف گٹھ جوڑ بنائی ہوئی ہے اور گاہے بگاہے وہ بھی ہمیں نقصان پہنچا تا رہتا ہے اور ایک طرف ایران کیساتھ امریکہ کے کشیدہ ہوتے تعلقات، مشرق وسطہ بلواسطہ اس کشیدگی کی زد میں آسکتا ہے۔ صورت حال پر گہری نظر ڈالیں واضح نظر آرہا ہے کہ پاکستان کا کسی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیکن یہ سارا ڈرامہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی سازش دیکھائی دے رہا ہے۔

امریکہ میں اگلے سال انتخابات ہونے والے ہیں اور امریکی صدر ان انتخابات کو جیتنے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں جیسا کہ ہم نے بھارت کے انتخابات سے قبل ہونے والے ڈرامے خوب دیکھے ہیں۔ ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان دنیا کے لیے آج بھی کسی سونے کی چڑیا سے کم نہیں ہے تبھی تو تختہ مشق بنانے کی بھرپور سازشیں اور کوششیں جاری رہتی ہیں۔

آج پاکستان انتہائی مشکل معاشی حالات سے گزر رہاہے لیکن وقت ہم سے تقا ضا کر رہا ہے کہ اس سے بہتر موقع اب شاید آگے نہ مل سکے کہ پاکستان کو اپنی منزل سمجھ لیا جائے اور اس منزل پر بھرپور پڑاؤ ڈال دیا جائے اور ایسے تمام لوگوں کو جو آج تک پاکستان کو نوچ نوچ کر کھاتے رہے ہیں ان سے وہ ساری لوٹی ہوئی دولت نکلوائی جائے اور قانون کے مطابق ان کے ساتھ برتاؤ کیا جائے تاکہ آنے والے وقتوں میں کوئی ایسا کرنے کا سوچ بھی نہ سکے، یہ ہمارا قومی فریضہ ہے۔

یہ ہم پر ہمارے آباؤ اجداد کا قرض ہے کہ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان بنائیں۔ وزیر اعظم پاکستان پر عزم ہیں کہ وہ پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کر کہ ہی دم لیں گے لیکن وہ بار بار میڈیا کے ذریعے عوام کو یہ باور کروا رہے ہیں کہ ان کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ عوام اب تو سمجھ لیں کہ جو لوگ جیلوں میں ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس ملک کا پیسہ کھایا ہے اور پاکستان کو بدترین حالات کی طرف دھکیلا ہے۔ ہم منزل پر پہنچ چکے ہیں ستر سالہ جدوجہد ختم ہونے کو ہے لیکن ہم سب کا ایک ہونا ایک قوم ہونا پاکستانی ہوئے بغیر یہ کبھی ممکن نہیں ہوسکے گا۔

Facebook Comments