غرررررر، ایک عجیب و غریب آواز کے ساتھ بیچ سڑک پر میری بائیک رک گئی۔ کک مار کر گئیر ڈالا تو بالکل بھی آگے نہ بڑھی۔ اتر کر اسے آگے پیچھے کرنا چاہا تو اس میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ ہوا کیا ہے۔ خرابی کا کچھ اندازہ نہیں لگا پارہا تھا۔

جون کی ایک تپتی ہوئی دوپہر میں جب کہ سورج بالکل عین سر کے اوپر تھا، میں ایک سنسان سڑک پر یوں حیران و پریشان کھڑا تھا۔ رمضان کی وجہ سے روزہ بھی تھا، روزے میں پیاس کی شدت مزید سینے کو جلا رہی تھی۔ اف خدایا! اب کیا کروں؟ دور دور تک کسی دکان کا نام و نشان نہیں۔ آس پاس میں کوئی بھی دکھائی نہیں دیتا۔ اس سنسان نگر میں کون میری مشکل دور کرے گا۔

بے بسی اور کم ہمتی سے کچھ نہیں ہونے والا۔ کرنا ہے تو خود کچھ کرو۔ ہمت کرو اللہ آسانی فرمادے گا۔ میرے اندر سے آئی آواز نے مجھے مطمئن کردیا۔ فورا ہی میں نیچے کو جھکا اور بائیک کا معائنہ کرنے لگا۔ تھوڑا سا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ چین اتر کر کور میں پھنسی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ٹائر جام ہوا ہے اور آگے پیچھے نہیں بڑھ پا رہا۔ خرابی تو معلوم ہوگئی تھی مگر مسئلہ اب اسے دور کرنے کا تھا۔ ایک مرتبہ پھر آس پاس نظر دوڑائی کہ کہیں سے خدائی مدد آجائے مگر مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔

ضمیر نے پرانی بات پھر سے دوہرا کر مجھے متنبہ کیا۔ دماغ کو زور دیا تو یاد آیا کہ بائیک کے سائڈ کور میں کچھ ضروری اوزار موجود ہوا کرتے ہیں جو ایسی صورتحال سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ چابی سے کور کھولا تو وہاں سے پیچکش، پانہ اور پلاس کے علاوہ چند اور اوزار نکل آئے جو کہ میری ضرورت کو پوری کرنے کے لیے کافی تھے۔ ان کی مدد سے چین کور کھولا۔ پلاس کی مدد سے غراری کے نیچے پھنسے چین کو باہر نکالا اور اسے پھر سے غراری پر چڑھا دیا۔ چین کی درستگی سے فارغ ہوکر بائیک اسٹارٹ کی تو خوب چلنے لگی۔ خرابی دور ہوچکی تھی اور بائیک بالکل ٹھیک ٹھاک چل رہی تھی۔ اب میں تازہ ہوا کے جھونکے کھاتے ہوئے سڑک پر رواں دواں تھا۔

چلتے چلتے دل میں بات آئی کہ انسان اگر ہمت کرے تو کچھ مشکل نہیں رہتا۔ ساری مشکلیں کم ہمتی کا شاخسانہ ہوتی ہیں۔ اگر میں بھی کم ہمتی کا مظاہرہ کرتا تو یقینا ابھی سڑک پر کھڑا پسینے میں شرابور ہوکر شکوہ شکایات زبان سے بہائے جارہا ہوتا۔ فلاں فلاں کو کوس کر اپنی پریشانیاں اور بڑھادیتا۔ تھوڑی سی ہمت کی، اللہ پر بھروسہ کیا تو ساری پریشانی ختم ہوگئی۔ ساری الجھن دور ہوگئی۔ زندگی کے مختلف مراحل میں انسان کبھی ایسے صحرامیں کھڑا ہوجایا کرتا ہے، جہاں اسے مایوسی اور ناامیدی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا، جہاں اسے اپنی ناکامی کا سو فیصد یقین ہوجاتا ہے مگر کامیابی کا ایک فیصد بھی یقین نہیں ہوتا۔ ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ اب زندگی ختم ہوگئی ہے، اب کوئی راستہ باقی نہیں بچا، اب آگے کوئی روشنی نہیں۔ مگر حقیقت میں یہی وہ موقع ہوتا ہے جہاں سے زندگی شروع ہوتی ہے۔ اسی موڑ پر آکر جب کے انسان ناامیدی کے اندھیریوں میں مایوسی کا شکار ہوتا ہے، اللہ اپنی قدرت کا مظاہرہ فرماتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں اللہ بندے کو نوازتا ہے۔ بس تھوڑا صبر اور تھوڑی ہمت چاہیے ہوتی ہے، اللہ پر توکل اور یقین سے سینہ سجانا ہوتا ہے، اس سے آگے کامیابی ہی ہوتی، سر بلندی اور کامرانی کی منزل یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے اپنے رب کو اپنے عزم و ارادے ، اپنی ہمت کے ٹوٹنے کے بعد پہچانا ہے۔ اللہ نے مجھے وہاں اپنی قدرت دکھلائی جہاں میں مایوس ہوگیا۔ جہاں میں نے ہمت ہاری وہاں اللہ نے میرا ہاتھ تھام لیا۔

Facebook Comments