دلچسپی کا امتحان (ساحر مرزا)

چلو اپنی اپنی کتابیں بند کرو اور آج کا سبق سناو۔ استادِ محترم شفیق مراد صاحب کی ٹھہری ہوئی آواز کمرہ جماعت میں گونجی۔ تمام طلبا اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے، کتابیں بستوں میں بند کردی گئیں۔ اب سبق سننا شروع کیا گیا۔ قاسم کی باری آئی تو اس نے ڈرتے ڈرتے کہا، استادِ محترم! غلطی ہوگئی، مجھے آج سبق یاد نہیں۔ استاد نے حیرانی سے اسے دیکھا اور پوچھا، ”کیوں آج پھر سبق یاد نہیں، ایسا کیوں؟“ قاسم نے شرمندگی سے کہا، ”استادِ محترم! قسم لے لیں، رات دیر تک یاد کرتا رہا مگر یاد نہیں کر پایا“۔ استاد نے تاسف سے اسے دیکھا پھر کچھ دیر بعد کہا۔ ”چلو! ایک طرف ہوجاو اور مجھ سے آدھی چھٹی میں ملنا“۔

تمام بچوں سے سبق سنا گیا۔ قاسم نے اس کے بعد کا تمام وقت ڈرتے ڈرتے گزارا کہ نہ جانے آدھی چھٹی کے وقت استاد کیا کہیں گے؟ الغرض آدھی چھٹی ہوئی اور وہ ڈرتے ڈرتے کمرہ جماعت سے نکل کر ڈھیروں دعاوں اور ’جل تو جلال تو‘ کا ورد کرتا ہوا لائبریری میں استاد شفیق مراد کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ سلام کر کے وہ مودب سا ایک جانب کھڑا رہا۔ استاد نے آہستگی سے جواب دیا۔ میز کے دوسری طرف سے نظریں اُٹھا کر اسے دیکھا اور سامنے رکھے رجسٹر پر کچھ لکھنے لگے۔ کچھ دیر میں اپنا کام ختم کر کے رجسٹر ایک جانب رکھا اور اس کی جانب متوجہ ہوئے۔

کچھ لمحے اسے غور سے دیکھتے رہے۔ معصوم صورت، بڑی بڑی اور گہری آنکھیں، جن سے ذہانت اور خوف جھلک رہا تھا۔ چہرے کی رنگت اُڑی ہوئی۔ وہ اسے دیکھتے ہوئے آہستگی سے، پیار بھرے لہجے میں اس سے گویا ہوئے۔ ”قاسم میاں! تمہیں سبق آخر کیوں یاد نہیں ہوتا؟“ قاسم کچھ دیر خاموش رہا۔ استاد نے پھر سے میٹھے ونرم لہجے میں پوچھا۔ ”میاں! کچھ کہو تو ماجرا سمجھ میں آئے، خاموش رہو گے تو کیا پتا چلے گا؟“

قاسم نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا، ”استادِ محترم! میں سبق یاد کرنے تو بیٹھتا ہوں مگر میرا دھیان نہیں لگ پاتا۔ میں پھر سے بھول جاتا ہوں“۔استاد شفیق مراد دھیرے سے مسکرائے اور کہنے لگے، ”قاسم میاں! ایک تو تم ڈرتے بہت ہو، جب سبق یاد کرنے سے ڈرو گے تو کیا خاک یاد ہوگا۔ بیٹا! تم سبق اس لیے یاد نہیں کرتے کہ تم وہ پڑھو، سیکھو یا اسے سمجھو کہ یہ کیوں لکھا ہے؟ اس سبق میں کیا ہے جو یاد کرنا ہے؟ بلکہ تم ہمہ وقت اسی سوچ میں رہتے ہوکہ اگر یاد نہ کیا تو صبح کمرہ جماعت میں سزا ملے گی اور تمہیں شرمندگی اُٹھانی پڑے گی۔ بولو ایسا ہی ہے ناں“۔ قاسم نے ڈرتے ڈرتے استاد کی جانب دیکھا اور نم آنکھوں کے ساتھ ہلکے سے اثبات میں گردن ہلا دی۔

استاد شفیق مراد مسکرائے اور اُٹھ کر قاسم کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، ”بیٹا؟ تمہارے ذہن کے لیے یہ سبق بہت معمولی ہے، تمہیں سبق اس لیے یاد کرنے کو نہیں کہا جاتا کہ تمہاری یادداشت کا امتحان مقصود ہے بلکہ درحقیقت یہ تمہاری دلچسپی کا امتحان ہے۔ علم تو بہت وسیع ہے، یہ انسان کو اس وقت عطا ہوتا ہے جب وہ اس میں دلچسپی کا امتحان پاس کرتا ہے اور پھر اسے پانے کے لیے شوق کی منزلیں طے کرتا ہے۔ بیٹا! تم سزا سے مت ڈرو، شرمندگی کے ڈر کو ساتھ لیے سبق یاد کرنے نہ بیٹھو بلکہ اسے دلچسپی سے پڑھو، سمجھو، پھر تمہیں یاد کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور وہ خود بہ خود تمہیں یاد ہوجائے گا۔ بس یادداشت کا سہارا مت لو بلکہ دلچسپی لو تاکہ کل تم بہت سا علم حاصل کرسکو“۔

قاسم حیرت و استعجاب سے استاد کی بات سن رہا تھا، جو بظاہر بہت آسان مگر درپردہ پیچیدہ بھی تھی مگر وہ اس میں دلچسپی لے رہا تھا۔ اس نے بمشکل جی کہا۔ استاد نے مسکراتے ہوئے کہا، ”جاو، آدھی چھٹی کا وقت کم ہے، کچھ کھا لو اور کھیل لو پھر جماعت میں جانا ہے“۔ قاسم انہیں سلام کر کے سست قدموں سے باہر نکل گیا۔ استاد اسے جاتا دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔

اگلے دن استاد شفیق مراد کمرہ جماعت میں اپنی مخصوص نشست پر بیٹھے ہیں۔ حاضری کے بعد انہوں نے بچوں سے کہا، ”بچو! آج کا سبق دہرا لو، پھر میں سنوں گا“۔ چند لمحوں بعد استاد نے پھر اسی طرح کہا، ”بچو! اپنی کتابیں بند کرو“۔ پھر مسکراتے ہوئے پوچھا، ”آج پہلے کون سبق سنائے گا؟“ اور سب نے دیکھا کہ سب سے پہلے ہاتھ اُونچا کرنے والا بچہ قاسم تھا۔ استاد کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔

Facebook Comments