گرمی کی آمد (نور بخاری)

موسم گرما کی آمد آمد ہے۔ موسم گرما اپریل کے مہینے سے شروع ہو جاتا ہے۔ اس موسم میں دن بڑے اور راتیں چھوٹی ہو جاتی ہیں۔ درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ سورج کی شعاعیں سیدھی پڑتی ہیں۔ اس کی تپش بڑھ جاتی ہے۔ جون جولائی کے مہینے میں تو گرمی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ 15جولائی سے جب ساون آتا ہے تو بارشیں شروع ہو جاتی ہیں۔ کبھی حبس اور گھٹن بڑھ جاتی ہے تو کبھی موسم معتدل سا ہو جاتا ہے۔

زیادہ تر لوگوں کو گرمی کا موسم نہیں پسند کیونکہ گرمیوں میں بھوک کم ہو جاتی ہے، سستی سی چھائی رہتی ہے، کوئی کام کرنے کا دل نہیں کرتا اور نیند سی طاری رہتی ہے۔ جلد بہت خشک ہو جاتی ہے۔ گرمی اکثر ذہن کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب ذہن گرمی اور خشکی سے متاثر ہوتا ہے تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ بہت سی بیماریاں متاثر کرتی ہیں۔

اس موسم میں حشرات الارض اپنے بلوں سے باہر آجاتے ہیں۔ مچھر مکھیوں کی بہتات ہو جاتی ہے۔ بجلی کی بار بار لوڈشیڈنگ ہونے سے لوگوں میں چڑچڑاپن حد سے سوا ہو جاتا ہے۔ یہ سب زیادہ تر بداحتیاطی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ گرمیوں میں تو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس موسم میں بے شمار قسم کے پھل ہوتے ہیں اور سبزیاں بھی۔ اس موسم میں تربوز، آم، آڑو، خوبانی اور دوسرے پھلوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے۔ زیادہ بھی سلاد کھانا چاہیے۔ گوشت کی نسبت سبزیوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے۔ کم سے کم بارہ سے اٹھارہ گلاس پانی پینا چاہیے۔ کوشش کی جائے کہ پانی زیادہ ٹھنڈا یا برف والا نہ ہو بلکہ تازہ پانی ہو۔ یخ ٹھنڈا پانی بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔ یہ وقتی طور پر تھوڑا سکون دے گا لیکن مسلز کو کم زور کر کے اندر گرمی پیدا کرے گا۔ اس موسم میں لیموں کی شکن جبین بنا کر پینی چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ جوسز، ٹھنڈے مشروبات، دودھ، دہی اور لسی کا استعمال کرنا چاہیے۔ اس سے ایک تو جلد تروتازہ رہتی ہے دوسرے بیماریاں بھی دور رہتی ہیں۔ روزمرہ کے معمولات بآسانی سرانجام دیے جا سکتے ہیں۔

گرمیوں کے موسم میں بازاروں میں جگہ جگہ شربتوں اور ٹھنڈے پانی کے ٹھیلے لگ جاتے ہیں تا کہ گرمی سے بے حال لوگ گرمی سے بچنے کا سدباب کرسکیں۔ گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی بازار میں لان کے کپڑے اور باریک کپڑوں کی ورائٹی آجاتی ہے۔ کوشش کی جائے کہ ہلکے رنگوں کے لباس بنوائے جائیں، ان سے گرمی کے احساس میں کمی واقع ہو تی ہے۔

تیز دھوپ میں باہر نکلنے سے احتیاط کرنی چاہیے۔ اگر بہت ضروری کام سے یا بوجہ مجبوری نکلنا ہی پڑے تو چھاتا لے کر یا ململ کے کپڑے سے سر، منہ ڈھانپ کر نکلیں۔ آنکھوں پر کوئی اچھا سا چشمہ لگا کر نکلیں نہیں تو سن سڑوک کا خدشہ ہے۔ بہتر ہے کہ گرمی سے بچنے کی کوشش کی جائے۔

ویسے تو گرمیوں کا موسم شجرکاری کے لیے بہت موزوں ہے۔ گندم کی پکائی، کٹائی اسی موسم میں ہوتی ہے اور انواع اقسام کے پھل، سبزیاں مل جاتے ہیں۔ سو گرمی کا توڑ کرنے کے لیے ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ گرمی کا موسم اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے اس لیے اللہ کا شُکرگزار ہونا چاہیے۔

Facebook Comments