پھرتے تھے میر خوار کوئی پوچھتا نہ تھا (نوید اقبال)

اردو شعر و سخن، خاص طور پر غزل کی بات کی جائے اور میر تقی میر کا نام نہ لیا جائے ایسا کرنا سراسر ناانصافی ہی نہیں بلکہ غزل کے بادشاہ کی بے توقیری ہے۔ اردو استاد شعرا ءمیں سے شاید ہی کوئی ایسا شاعر ہو جو میر کی شاعر ی کا معترف نہ ہو۔

اردو سخن وری میں خدائے سخن کا مقام رکھنے والے میر تقی میر 86مئی 3271ءمیں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام عبداللہ تھا۔میرابھی محض دس برس کے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ سوتیلے بھائیوں اور ماموں کی بے مروتی وکج ادائی نے انہیں در بدر کر دیا اور وہ فکر ِمعاش کے لیے دہلی چلے گئے۔

والد کی موت کے بعد میر نے بہت غم جھیلے۔ ایک چھوٹے بھائی کے گھر رہ کر روزگار تلاش کرتے رہے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلاپھر آخر شاہجہان آباد دہلی کا رخ کیا۔ دہلی میں نواب صمصام الدولہ کے بھتیجے خواجہ باسط سے ان کی ملاقات ہوئی جو انہیں نواب صاحب کے پاس لے گئے، جہاں ان کا وظیفہ مقرر ہوا
لیکن نادر شاہ کے دہلی پر کے حاکم محمد شاہ پر چڑھائی کی اور نواب مارے گئے تو وظیفہ بند ہوگیا ۔آخر انہیں دلی کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔ میر نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ لکھنؤمیں نواب آصف الدولہ نے انہیں خود بلوایا تھا اور ان کے لیے تین سو روپے ماہوار مقرر کیے تھے۔

 جب میر لکھنؤ پہنچے تو ان کے بارے میں ایک مشہور واقعہ ہے جومولانا محمد حسین آزاد نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب “آب حیات” میں بھی تحریر کیاکہ لکھنؤ پہنچے تو وہاں کسی مشاعرے کی خبر ان تک پہنچی ان سے رہا نہ گیا فوراً وہاں جا پہنچے۔

ان کی وضع قدیمانہ طرز کی تھی۔کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کا گھیر کا جامہ، ایک پورا تھان پستولئے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پٹری دار تہیہ کیا ہوا، اس میں آویزاں ناگ پہنی کی انی دار جوتی، بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار دوسری طرف کٹار (خنجر )داخل محفل ہوئے۔ بانکے ٹیڑھے جوان جمع۔ انہیں دیکھ کر ہنسنے لگے شمع ان کے سامنے آئی تو پھر سب کی نظر ان پر پڑی اور بعض اشخاص نے پوچھا کہ حضور کا وطن کہاں ہے؟ میر صاحب نے قطعہ فی البدیہہ کہ کر غزل طرحی میں داخل کیا۔

کیا بودباش پوچھو ہو پورپ کے ساکنو

ہم کو غریب جان کر ہنس ہنس پکار کر

دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے

اس کو چمن نے لوٹ کر ویر ان کردیا

ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

مشاعرے میں کہے گئے میر کے یہ اشعار ہر کسی کے دل میں گھر کر گئے۔ سب نے میر صاحب سے عفو و تقصیر چاہی۔صبح تک لکھنوءمیں مشہور ہو گیا کہ میر تشریف لائے ہیں۔ اس زمانے میں وہاں نواب آصف الدولہ کا سکہ چلتا تھا انہوں نے سنا تو میرکے لیے دعوت نامہ بھیجا اور پھر بعد میں ان کے لیے دو سو روپے وظیفہ مقرر کیا۔

 اس کے بعد میر دربار سےوابستہ ہو گئے اور اکثر و پیشتر مشاعروں کی زینت بنے رہتے۔ اس زمانے میں دیگر شعرا میں سودا ،سوز اور میر درد کی شاعر ی کا بھی چرچا تھا۔

میر تقی میر کی شاعرانہ اوصاف میں سادگی و سلاست اور قلندرانہ فکر کے اشعار بھی ملتے ہیں۔ وہ بڑے خودار انسان تھے۔کسی نواب کی بات بھی جی کو ناگوار لگتی تو فوراً زبان پر لے آتے تھے۔

مولانا محمدحسین آزاد “آب حیا ت ” میں تحریر کرتے ہیں، ایک دن نواب آصف الدولہ نے میر صاحب سے غزل فرمائش کی۔ دو تین دن گزرے،پوچھا غزل لائے ؟ میر صاحب نے تیوری بدل کر کہا مضمون غلام کی جیب میں تو بھرے ہی نہیں کہ کل آ پ نے فرمائش کی اور آج غزل حاضر کر دے۔

مولانا محمدحسین آزاد “آب حیا ت” میں ایک اور جگہ لکھتے ہیں، ایک روز میر غزل لکھ لائے نواب صاحب کے ہاں گئے تو نواب صاحب پانی میں لال زبز مچھلیوں سے چھٹری سے کھیل رہے تھے میر صاحب کو دیکھ کر کہا، صاحب! کچھ فرمائیے میر صاحب نے ٹھہر ٹھہر کر غزل کے چار اشعار سنائے لیکن نواب صاحب متواتر مچھلیوں سے کھیلنے میں مصروف تھے اور بولے کہ پڑھوں کیا آ پ تو مچھلیوں سے کھیلنے میں مصروف ہیں متوجہ ہوں تو پڑھوں نواب صاحب نے کہا شعر ہوگا تو آ پ متوجہ کرے گا ۔میر صاحب کو یہ بات ناگوار گزری اور وہ غزل ڈال کر گھر سے چلے آئے۔“
  اور پھر جانا چھوڑ دیا ۔غرض گھر میں بیٹھے رہتے اور فقر و فاقہ میں گزار ہ کرتے رہے ۔ آخر ی عمر انتہائی کسمپرسی میں گزری اور آخر یہ نابغہ ءروزگار ۲۲۔ستمبر ۰۱۸۱ءمیں اس جہان ِ فانی سے کوچ کر گیا ۔
  میر تقی میر کی عائلی زندگی کی جھلکیاں ان کے تذکروں اور کتا بوں میں کہیں کہیں دکھائی دیتی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کے میر نے اپنے والد کی طرح دو شادیا ں کیں ان کے ہاں دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔ایک بیٹے کا نا م فیض علی تھا جو سب سے بڑے تھے جبکہ دوسرے کا نا م میر حسن عسکری عر ف کلو تھا جو ان کی دوسری بیوی سے تھا جو شاعر بھی تھے اور عرش تخلص کرتے تھے ۔میر کی ایک صاحبزادی کا ذ کر بھی تذکروں میں ملتا ہے وہ بھی شاعر ہ تھیں اور بیگم تخلص کرتی تھیں ۔ بیگم میر کی دوسر ی بیوی سے تھیں ان کا انتقال میر کی حیات میں ہو ا جس کا میر کو بہت رنج تھا کہتے ہیں میر اپنی بیٹی کی موت کی وجہ سے دیوانگی کی کیفیت میں مبتلا ہو گئے تھے۔
 میر کی دیوانگی (Psychotic Depression) کے حوالے سے بہت سی باتیں ہیں لیکن میر نے اپنی دیوانگی کو زمانے کے طنز سے تعبیر کیا ہے یہی وجہ ہے وہ اکثر کہتے پھرتے ہیں :
           خوش ہوں سب دیوانگی میر سے سب
  کیا جنوں کر گیا شعور میں وہ
   ان کے ذہن پر گہر ا صدمہ تب نقش کر گیا جب ان کی عمر اٹھارہ برس تھی ۔سوتیلے بھائیوں کی ناروائی اور ماموں کی طرف سے کج ادائی نے ان کی ذہنی حالت میں بگاڑ پیدا کر دیا یہی وجہ ہے کہ ان کی مثنوی ” خواب و خیا ل “ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے:
   
  جگر جور گردوں سے خوں ہو گیا
مجھے رکتے رکتے جنوں ہو گیا
ہوا ضبط سے مجھ کو ربط ِ تمام
لگی رہنے وحشت مجھے صبح و شام
   
صحبت کسی سے رکھنے کا اس کو نہ تھا دماغ
تھا میر بے دماغ کو بھی کیا ملا دماغ

  میر اپنی شاعری اور شاعر ہونے پر بھی حکیمانہ اور حتمی دلیل اپنے ایک اور شعر میں پیش کی ہے
مجھ کو شاعر نہ کہومیر کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
میر کے شاعر ہونے کے بارے میں ہر بعد میں آنے والے شاعر نے ضرور کچھ نہ کچھ کہا ہے ۔ ان کی عظمت کا آ فتا ب آ ج بھی شعر و ادب کی دنیا میں روشن ہے ۔ شاعر ی کے چند روشن ستاروں نے ان کی مدح میں جو شعر کہے ملاحظہ ہوں:
غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آ پ بے بہرہ ہیں جومعتقد ِمیر نہیں     (غالب)

ہوا ، پر نہ ہو ا میر کا انداز نصیب
ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا   (ذوق)

شعر میرے بھی ہیں پر درد ،ولیکن حسرت
میر کا شیوہءگفتا ر کہاں سے لاﺅں   (حسرت)

اللہ کرے میر کا جنت میں گھر ہو
                مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی    (انشا)

معتقد ہیں اگر چہ غالب کے
میر کو بھی سلام کرتے ہیں     (حزیں جی)

 کہا جاتا ہے کسی نے پوچھا کہ لکھنوءمیں کتنے شاعر ہیں تو میر نے کہا ” ایک سودا دوسرا میں اور آدھا میر درر ۔ کسی نے کہا سوز بھی تو ہیں نواب آصف الدولہ کے استا د تو کہنے لگے ” چلو پونے تین سہی“
 ایک دفعہ خواجہ باسط کے مرید وں میں میر و سودا کے اشعار پر تکر ار ہوگئی آخر فیصلے کیا گیا کہ خواجہ صاحب کے حضور اشعار پیش کیے جائیں ۔اشعار سنائے گئے تو خواجہ صاحب نے انہیں یہ کہہ کر بات ختم کی کہ ” میر کا کلام آ ہ اورسودا کا کلا م واہ ہے“۔
  اگردیکھا جائے تو میر کی تمام ترشاعر ی متنوع خیالات و خصوصیات سے پر ہے جہاں سوز وگداز ،غم وحزن ،درد مندی ،بلند حوصلگی ،دنیا کی بے ثباتی ،دلی کی تباہی و بربادی کا غم، سادگی و سلاست ،خلوص،صداقت ،تصوف ،ترنم ،موسیقیت ،خطابیہ ،طنزیہ اور حکیمانہ اندازاس کے علاوہ ان کی شاعر ی پر تصور عشق اور تصور محبوب کی بے حد نمایاں پہلووں پر اظہار خیال ملتا ہے ۔ان کا تصورِ عشق کے بارے میں ان کے والد کے کہیے گئے الفاظ بھی معنی خیز ہیں جب میر کو سمجھاتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ” اے پسر عشق بود “ اے بیٹے عشق کرو ۔ عشق سے نظم کائنات قائم ہے ۔ یہی وہ در س تھا جو ان کی ذات سے عشق شیر یں کی طر ح جذ ب ہوگیا جس نے میر کو مجاز کی گہر ی دلیل میں دھکیل پھینکا جا جس سے وہ ابھر کر اس دنیا میں نہ آ سکے اور گھل مل سکے۔
  بابائے اردو مولوی عبد الحق کہتے ہیں :
   میر تقی میر سر تاج شعرائے اردو ہیں ان کا کلام اسی ذوق و شوق سے پڑھا جائے جیسے سعدی کا کلام فارسی میں “
 میر کے حوالے سے جتنا بھی لکھا جائے کم ہے لیکن اردو زبان پر ان کے احسانات کسی تعار ف کے محتاج نہیں میر تقی میر کی اردو شاعر ی میں چھ دواین ہیں اس کے علا وہ فارسی دیوان ،مثنویاں ،فیض میر ، ایک رسالہ ” ذکر میر “ کے عنوان سے فارسی میں خود نوشت سوانح عمر ی جو ۳۸۷۱ ءمیں لکھی گئی ۔اسی طرح نکات الشعراء فارسی میں شعراءاردو کا پہلا تذکرہ ہے ۔میر اردو میں واسواخت ،مثلث اور مربع کے موجد بھی ہیں ۔
  میر کی حالات زندگی پر بھی لکھا گیا ان کی شعر و سخن او رحالات زندگی کے حوالہ سے جن احباب نے قلم فرسائی کی ان میں خواجہ حسن رضوی ، قاضی عبدالودود ،احسن مارہروی اور ایم ۔حبیب خان کا ذکر آتا ہے ۔  
مشہور کتب جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ان میں ”آب حیات “ ”گل رعنا“ ”جواہر سخن “ مقدمہ ” نکات الشعرائ“ مقدمہ ” کلیات میر“
  ”تذکرہ خوش معرکہءزیبا “ ”تذکرہ مجموعہ نغز“ ” افکار میر“ اور ”ذکر میر“ نمایاں ہیں ۔
 آخر میں میر کی شاعری کے چند مشہو ر زمانہ اشعار جو زبانِ زد عا م ہوئے پیش خدمت ہیں :
  کافر بتوں سے مل کے مسلمان کیا رہے
ہو مختلط جو ان سے تو ایمان کیا رہے

اہل چمن میں، میں نے نہ جانا کسو کے تیں
مدت میں ہو ملاپ تو پہچان کیا رہے

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لہو آتا ہے جب نہیں آتا

ہوش جاتا نہیں رہا لیکن
ٍ جب و ہ آتا ہے تب نہیں آتا

  سرہانے میر کے آ ہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

سخت کافر تھا جس نے پہلے میر
مذہب ِ عشق اختیا ر کیا

             نصیحت میر نے مجھ کو کی ہے
سب کچھ ہونا عشق نہ ہونا

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میر
پھر ملیں گے اگر خدا لا یا

             الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
            دیکھا اس بیماری ءدل نے آ خر کام تمام ہوا

  میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا تر ک اسلام کیا

            بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شا د رہو
           ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

Facebook Comments