اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے، جو ہر صورت اور ہر حال میں عفت و پاکدامنی کا درس دیتا ہے۔ آسمان تلے اس جہان میں جتنے بھی مذاہب ہیں، ان میں اسلام ہی صحیح معنوں میں انسان کی عزت و وقار کا نگہبان ہے۔

اسلام نے پاکدامنی اختیار کرنے کا جو طریقہ مشروع رکھا وہ نکاح ہے۔ ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ تین شخص ایسے ہیں جن کی مدد کی ذمہ داری اللہ نے خود لی، ان میں سے ایک وہ شخص ہے ،جو صرف پاکدامنی اختیار کرنے کی خاطر نکاح کرے۔

اسلام نے جہاں نکاح کی اہمیت کو واضح کیا تو وہیں اس کے آداب اور غیروں کی نقالی اور رسوم و رواج کا سد باب بھی کیا۔ چوں کہ یہ موقع (نکاح)مسرت ہےاور فطرت انسانی میں یہ بات داخل ہے کہ وہ فرحت و سرور کا ہر ممکن اظہار کرتا ہے اور کرنا بھی چاہیےلیکن ان سب کے باوجود اسلام نے ایسے موقع پر بھی بے لگام نہ چھوڑا، بلکہ خوشی کے حدود متعین کیے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ آپے سے باہر ہوکر وہ تمام کام کر ڈالے جائیں، جو اسلام اور ایمان سے سے کوسوں دور ہوں۔ 

ایک حدیث مبارکہ میں انہی حدود کو متعین کرتے ہوئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے، جس میں اخراجات کم سے کم ہوں۔ دیکھا جائے تو اس ایک جملہ میں محسن کائنات نے ان تمام بدعات و رسومات کو پابند سلاسل کر دیا جن کا اس موقع پر ہونا کوئی بعید نہیں لیکن اب سوچنا یہ ہے کہ ایک تصور ہمیں ایسے مواقع کے لیے اسلام دیتا ہے اور ایک تصور وہ ہے جو ہمارے ذہنوں اور افکار میں رچا بسا ہے۔

اسلام کا دیا گیا تصور محض اس بات پر مبنی ہے کہ اس معاملہ کو سہل سے سہل تر بنایا جائے تاکہ اس سے اصل مقصود جو کہ عفت ہے، اس کا اختیار دشوار نہ ہو، مگر جن تصورات کا موجودہ معاشرہ گرویدہ بن چکا ہے، اس سےعفت و پاکدامنی کا حصول مشکل تو دور ناممکن بنتا جارہا ہے۔

آج نکاح میں تاخیر کی بنیادی وجوہات یہی تصورات ہیں جو ہمارے ذہنوں میں جڑ پکڑ چکے ہیں۔ وہ تصورات کیا ہیں؟ ذرا معاشرے کو اس زاویے سے دیکھیں، تو ایسی کچھ آوازیں کانوں میں کھٹکے گی، کیا کریں! اگر ہم ایسا نہ کریں تو برادری میں ناک کٹ جائے گی۔۔۔ خاندان والے کیا کہیں گے۔۔۔ رشتہ دار ناراض ہو جائیں گے۔۔۔ ہمارے خاندان میں آج تک ایسا نہیں ہوا۔۔۔شادی ایک بار ہی تو ہوتی ہے، کون سا روز روز ہوتی ہے۔ ہم تو دھوم دھام سے ہی کریں گے۔۔۔

ٹھیک ہے! برداری بھی خوش ہو، خاندان اور رشتے دار بھی خوش ہوں لیکن خیال سے! کہیں یہ خوشی اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔ یاد رکھیں! نکاح ایک عبادت ہے، جس طرح نماز، روزہ اور دیگر عبادات ہیں اور نکاح سے متعلق سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے،  نکاح میری سنت ہے۔ سنت وہ ہوتی جس میں برادری اور خاندان نہیں، اتباع پیغمبر کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ اس سے آگے کی بات تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندان اور رشتے داروں کی ناراضگی کا خوف کرنے والوں کو بھی باخبر کر دیا آپ کا فرمان ہے، رب تعالیٰ کی ناراضگی کو مول کر، کسی مخلوق کی فرمانبرداری جائز نہیں۔

بات صرف یہاں تک ہی محدود ہوتی تو بھی خیر۔۔۔ مگر بد قسمتی سے معاشرے نے وہ رخ پکڑ لیا کہ دانتوں سے انگلی دبانے اور ماتھے پر ہتھیلی رکھنے کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔ شادی بیاہ کے موقع پر اموال کی تنگی کے باعث اب تو بینکوں سےسودی قرضوں کا رواج زور پکڑتا جارہا ہے، جس سے دنیوی اور اخروی ہونے والے نقصانات کو زیر شمار لانا ناممکن ہے۔ ایک طرف قرض جس کی ادائیگی بہر صورت لازم، پھر وہ بھی سود کے ساتھ، پھر اس سود پر خدا تعالیٰ کا غضب اور اعلان جنگ،  پھر اس سود سمیت قرض کی ادائیگی تک رات دن کی بے چینیاں۔

آخر یوں بھی تو ممکن ہے کہ اپنی مالی وسعت کے مطابق ہر کام سر انجام دیا جائے، جتنی چادر اتنا ہی پاؤں پھیلا کر سکون کی نیند سو لیا جائے۔ اگر بالفرض، متمول طبقے کو قرض و سود کا سامنا کرنے کی ضرورت نہ بھی پیش آئے، تو ان کا یہ اصراف ایک نچلے طبقے کے لیے احساس کمتری کی صورت ضرور پیدا کردے گا۔

آئیے، آج عہد کریں خوشی ہو یا غم، اتباع رسول سے کسی صورت راہ فرار اختیار نہیں کریں گےاور کسی بھی عمل خیر کو پھیلانے کا سب سے موثر ذریعہ خود اپنی ذات ہے۔ ہر اچھے کام کی ابتداء اپنی ذات اور اپنے گھر کی چار دیواری سے کریں۔اگر خود غیر شادی شدہ ہیں تو اپنی شادی کو، اور اگر شادی شدہ ہیں تو اپنی اولاد کے اس موقع مسرت کو فرمان پیغمبر کے مطابق بابرکت بنائیں، اور اللہ اور اس کی رسول کی رضا و رضوان حاصل کرلیں۔

Facebook Comments