بابا ( فاطمہ خان فاطیؔ )

بابا جب انگلی پکڑ کر مجھے چلنا تم سِکھاتے تھے

لڑکھڑا کر جب میں گِرتی پیار سے اٹھنا تم سکھاتے تھے

میرے ننھے ہاتھ دعا میں اٹھنے سے تھے ناآشنا بابا

بڑی ہی چاہ سے بار بار انہیں جڑنا تم سِکھاتے تھے

دسمبر کی برستی بارش میں مجھ پہ کر کے تم چھتری

خود بھیگ کر بارش سے مجھے بچنا تم سِکھاتے تھے

وہ جب بھی بازار تیرے پسندیدہ کپڑے خریدنے جاتے

مرے کپڑے بہت ہیں کا بہانہ مجھےتم سِکھاتے تھے

میرے بابا تیرے جوتے جو اکثر دوڑ دھوپ میں گھِستے

مجھے پہنا کے ہر نیا جوتا دوڑنا تم سِکھاتے تھے

میری ہستی جو کامل ہے بس بنی ترے سبب بابا

آئی خالی ہاتھ تھی مجھے جینا تم سِکھاتے تھے

یہ عزتیں ، محبتیں، عقیدتیں شہرتیں فاطیؔ

مرے بابا ترے دم سے سبھی کچھ تم سِکھاتے تھے

                  فاطمہ خان فاطیؔ

Facebook Comments