”تڑاخ“، ایک زوردار آواز سے پوری مسجد گونج اٹھی۔ پیچھے مڑ کے دیکھا تو ایک باباجی نے پاس بیٹھے بچے کا منہ لال کیا ہوا تھا۔ وہ معصوم سا بچہ ڈر کے مارے دبک کر بیٹھا آنکھوں سے آنسو بہا رہا تھا۔ ”باباجی کیا ہوا؟ خیر تو ہے؟“ پاس بیٹھے پختہ عمر کے ایک آدمی نے پوچھا۔”ارے بھائی! دیکھا نہیں ساری نماز خراب کردی۔ نماز پڑھنے آتے ہیں کہ کشتی کھیلنے، اودھم مچا رکھا تھا“، باباجی نے خوفناک نگاہوں سے بچے کو گھورا تو وہ مزید سہم گیا۔ ”باباجی! خیر ہوگئی، بچے ہیں۔ اتنا تو کریں گے نا“۔ غصے سے ہانپتے کانپتے باباجی کو انہوں نے سمجھانے کی کوشش کی۔

”ارے میاں مسجد بچوں کے کھیلنے کے لیے کوئی بنائی گئی ہے۔ یہ تو عبادت کی جگہ ہے۔ کھیلنا کودنا ہے تو کسی پارک وغیرہ میں چلے جائیں، یہاں آنے کی کیا ضرورت ہے؟“ بابا جی نے تلخی سے جواب دیا۔”باباجی مسجد صرف بڑوں کے لیے نہیں بنائی جاتی بچے، بوڑھے، جوان سب ہی کے لیے مسجد بنائی جاتی ہے۔ سب ہی کو اس مسجد کے ساتھ جوڑنے میں کامیابی کا راز پنہاں ہے۔ آج اگر ہم اپنے بچوں کو مسجد میں آنے کی عادت نہ ڈالیں گے تو کل کو جواں ہوکر وہ کیسے مسجد کا رخ کریں گے؟ بچپن سے ہی مسجد کے ساتھ انہیں جوڑدیں گے تو ساری عمر اسی کے ہو کر رہیں گے“۔

باباجی کچھ سوچنے کے سے انداز میں سر کو حرکت دینے لگے۔ ”خدانخواستہ اگر ہم نے ان بچوں کو مسجد سے بددل کردیا، ان کا دل مسجد سے توڑدیا تو پھر یہ کبھی پلٹ کر اس کا رخ نہیں کریں گے۔ پچپن کی عادتیں تو پچپن تک چلتی ہیں۔ جب کبھی بھی یہ مسجد کو آئیں گے اجنبیت کا احساس انہیں کھاتا رہے گا“۔

باباجی کی بات سمجھ میں آئی یا نہ آئی مگر میری سمجھ میں آچکی تھی۔ اس شخص کا سارا فلسفہ میرے دل نے قبول کرلیا تھا۔ اس کی دوراندیشی کی گواہی میرا ضمیر دے رہا تھا اور پھر ہوا وہی جو اس دانا شخص نے کہا تھا۔ اگلے دن میں نے پوری مسجد چھان ماری مگر مجھے وہ بچہ کہیں دکھائی نہ دیا۔ گھر واپس جاتے ہوئے قریبی پارک پر نظر پڑی تو وہ معصوم نمازی وہاں کھیلتا کودتا مسکراتا ہوا نظر آیا۔

Facebook Comments