دریچے سے چھن چھن کر آتی چاند کی روشنی کمرے کے نیم تاریک ماحول میں اجالے کا تاثر پیدا کرنے میں ناکام ہو رہی تھی۔ کھڑکی کے ساتھ کرسی پر دراز اس کا خاموش وجود کسی گہری سوچ میں ڈوبا اس کی افسردگی نمایاں کر رہا تھا۔

یہ کوئی آج کی بات نہیں تھی، گزشتہ کئی سالوں سے اس کے ساتھ اسی طرح ہوتا آرہا تھا۔ ہر دفعہ کی طرح اس بار بھی اسے قربانی کے جانور کی طرح سجا کر اور ہدایات دے کر ایسے ناقدرے انسانوں کے سامنے پیش کیا گیا، جو اسے اپنے بے لاگ تبصروں کی کند چھری سے ذبح کر رہے تھے۔ وہ خالی الذہن اور بے جان روح کی طرح ان کے درمیان بیٹھی اپنی ذات کی نفی ہوتے دیکھ رہی تھی۔ وہ خواتین کبھی بسکٹوں اور کبابوں پر ہاتھ صاف کرتیں اور کبھی سموسا اٹھا کر پلیٹ میں ڈالتیں اور سوال کرتیں۔

آپ کی بیٹی کی عمر کتنی ہے؟ دیکھنے میں تو 26، 27 سال کی لگ رہی ہے۔ رنگ کچھ دبتا ہوا سا ہے۔ میرے بیٹے کی پہلی ڈیمانڈ ہی یہی ہے کہ لڑکی خوب صورت ہونی چاہیے۔ میرا بیٹا تو ماشاءاللہ بہت گورا ہے۔ ویسے تو سب صورتیں اللہ نے بنائی ہیں۔

تبصرے کے ساتھ اپنی بات کا بھرم رکھنے کے لیے لوگ کیسے اللہ کا سہارا لیتے ہیں! وہ بس سوچ کر رہ گئی اور اس بار بھی پھانسی کے منتظر قیدی کی طرح ثمرین کے گھر والے انتظار کی سولی پر لٹکا دیے گئے۔ اس آزمائش سے گزرنے کے بعد اور گھر میں سب کی نظروں سے بچنے کے لیے وہ اپنے کمرے میں بند ہو جاتی اورآئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنا جائزہ لیتی۔ کس بات کی کمی ہے؟ وہ آئینے سے سوال کرتی۔ میرے ہاتھ خالی تو نہیں ہیں۔ تعلیم کا ہنر اور گھرداری کا سلیقہ ہے۔ اس خالق کائنات کے تمام فرائض ادا کرتی ہوں۔ کیا کم صورت ہونا میرا جرم ہے۔

اسے شاید دنیا والوں کی نظروں سے اپنے آپ کو دیکھنا نہیں آتا تھا تبھی آئینہ اسے بہلا دیتا اور وہ پھر سے خواب بنے لگتی اور پھر سے نئی آزمائش کے لیے تیار ہو جاتی تھی۔

کبھی وہ سوچتی، اس کے ذہن میں بھی تو سوال اٹھتے ہیں۔کیا کبھی اسے یہ حق ملے گا کہ وہ بھی ان لوگوں سے جواب مانگ سکے، جو اسے مجرم کی طرح کٹہرے میں کھڑا کر کے ناکردہ جرم کی سزا اس کے نصیب میں لکھ دیتے ہیں۔ وہ بھی کبھی ان سے پوچھے، جب آپ کے سامنے، آپ کی بیٹی میں موجود ذات کی خامیاں بتائی جاتی ہیں تب شاید آپ کو خیال آتا ہو کہ اس جرم کا ارتکاب آپ نے بھی کیا تھا۔ کسی کی آنکھوں کے خواب توڑے تھے؟ کسی کی بیٹی کی ہنسی چھین کر اسے آنسوؤں کے سمندر میں دھکیل دیا تھا؟ مگر ہر بار وہ یہ سوچ کر رہ جاتی۔

ثمرین کو کئی دنوں سے گھر والوں کے رویے میں پُراسراریت محسوس ہو رہی تھی۔ وہ آپس میں بات چیت کر رہے ہوتے اور اسے دیکھتے ہی خاموش ہو جاتے۔ وہ کچھ سمجھ نہ پاتی۔ کچھ دنوں سے وہ یہ بھی محسوس کر رہی تھی کہ اس کے بھائی آذر کا رویہ بھی کچھ بدلا ہوا ہے۔ وہ اس سے پہلے کی طرح مذاق نہیں کرتا تھا۔ وہ ڈرائنگ روم میں آتی تو آذر اٹھ کر چلا جاتا۔ وہ کوئی بات کرنے کی کوشش کرتی تو مختصر جواب دے کر خاموش ہو جاتا۔ وہ اس کے رویے کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ بہت حسّاس ہوگئی تھی۔ ہر ایک بات کے بارے میں سوچ کر گھنٹوں اداس رہتی اور کبھی کبھی آنسوو ¿ں سے رو کر دل کا بوجھ ہلکا کر لیتی تھی۔ مگر وہ اس ساری صورت حال کو سمجھنے سے قاصر تھی۔ جانے اب زندگی اس کا اور کیا امتحان لینے والی تھی؟

اس دن کچن میں جاتے ہوئی امی کے کمرے سے آنے والی آوازوں نے اسے معاملے کی تہ تک پہنچا دیا۔ کمرے میں امی، ابو کے علاوہ بڑے بھائی اور بھابھی بھی موجود تھے۔ ہمیں ان کی بات مان لینی چاہیے۔ رشتہ اچھا ہے۔ امی کہہ رہی تھیں۔ میں ادلے بدلے کا رشتہ کرنے کے حق میں نہیں۔ وہ صرف اپنے مفاد کا سوچ رہے ہیں۔ ایسے رشتے قائم نہیں رہتے۔ ابو کی آواز آئی۔

اسے یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ لڑکے والے اس شرط کے ساتھ ثمرین کا رشتہ قبول کرنے کو تیار تھے کہ وہ ان کی قبول صورت بیٹی کو اپنے اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹے سے بیاہ دیتے۔ اس انکشاف نے اسے لرزا دیا۔ وہ اس قدر بے مایہ تھی کہ اس کے خوب رو بھائی کو اس کے لیے قربانی دینی پڑے۔ اپنے خوابوں کو چکناچور کرنا پڑے۔ آذر اپنی کولیگ کے رشتے کے لیے ماں باپ سے بات کر چکا تھا اور اب وہی گھر والے اسے قربانی دینے کے لیے مجبور کر رہے تھے۔ اپنے کمرے کی رائٹنگ ٹیبل پر بیٹھی، اپنی سوچوں کو کاغذ پر منتقل کرتے ہوئے وہ بہت پُرسکون تھی۔ اس نے کچھ سوال اٹھائے تھے؟ مجبوری کے رشتے میں بندھے یہ بندھن کب دل سے نبھائے جا سکتے ہیں؟ کیا رشتوں میں محبت اور اپنائیت کے بجائے اب صرف سودے ہوا کریں گے۔

اپنے مفاد کے سودے، کسی کے خواب توڑنے کے سودے، اُن نازک کانچ کی مانند بیٹیوں کے جذبات کے سودے، خدارا! کسی کی بیٹی کی آنکھوں میں بسے خوابوں کو رنگوں سے بھر دیں۔ کل کوئی آپ کی بیٹی کے خوابوں کی تکمیل کرے گا پھر شاید یہ معاشرہ ایک مثبت سوچ اور ایک نئی راہ پر گام زن ہو سکے۔ یہ فیصلہ کرتے ہوئے وہ بہت پُرسکون تھی۔ اسے یہ سودا منظور نہیں تھا۔ ایک لمحے کو اسے لگا، وہ جدوجہد سے بھاگ رہی ہے۔ مایوسی کفر ہے۔ کہیں شاید امید کی کرن ملے۔ وہ گھر والوں کو اپنے احساس اورسوچ سے آگاہ کر سکے مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ جلد یا بدیر، اسے ان کے فیصلے پر سر جھکانا پڑے گا۔ تب شاید وہ اپنے بھائی کے خوابوں کو روندنے کی مجرم ٹھہرے۔ ممکن ہے اس کی قربانی کی مثال اور اس کی تحریر سے معاشرے کے افراد کے رویے اور ذہن بدل جائیں۔
اپنی اس تحریر کو اخبار کے ادبی ایڈیشن کے پتے پر ارسال کر کے اس نے موت کی آغوش میں پناہ لے لی۔

Facebook Comments