پھولوں کے جھرمٹ میں روز کچھ تتلیاں ایک پھول سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے پھول پر منڈلاتی پھرتی تھیں۔ صبح صادق کا وقت بڑا پُرسکون ہوتا تھا۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ سے پورا باغ گونج رہا ہوتا۔ شہد کی مکھیاں، شہد بنانے کے کاروبار میں جتی نظر آتیں اور اپنے من پسند پھول سے رس حاصل کر رہی ہوتیں۔ کبھی کبھی یہ اندیشہ بھی ہوتا کہ آیا یہ مکھیاں رنگ بھی اپنے پسند کا چنتی ہوں گی؟ مگر میں یہ خیال ہنس کے یوں جھٹک دیتا کہ اس سلسلے میں نہ میرے پاس کوئی مطالعہ ہے اور نہ سائنسی ریسرچ۔

باغ میں بنے ٹریک پر چالیس منٹ کی برسک واک میرا روز کا معمول تھی۔کھلی فضا اور تازہ ہوا، میری کمزوری تھی۔اس واک کے ساتھ ساتھ ورزش بھی ہوجاتی اور قدرت کے رنگوں کو دیکھنے کا موقع بھی مل جاتا۔ “کتنا سکون سے بھرپور ہے یہ ماحول” میں نے آنکھیں بند کر کے اپنے اردگرد کی تازگی جذب کرتے ہوئے سوچا۔ ایک دم نرم ہواؤں کے ساتھ ایک دل فریب مہک نے میرے وجود کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور کسی کی مترنم سی ہنسی نے میرے بدن کے راگ کو چھیڑ دیا۔

میں اپنی بند آنکھوں سے بھی اس کو دیکھ رہا تھا۔ اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھنے کے لیے میں نے ڈرتے ڈرتے اپنی پلکیں اٹھائیں اور خوشبو کے تعاقب میں اس حسین دوشیزہ کو ڈھونڈ نکالا۔ وہ اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں سب سے منفرد اور ہٹ کے تھی۔ معصوم اور نازک سی، گوری رنگت، سنہری بال اور گہری گہری آنکھیں۔ وہ حسن اور سادگی کاخوب صورت امتزاج تھی۔ میری نظر جیسے جم سی گئی۔ مجھے اس کے وجود کے سوا کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ جیسے میری تلاش کو منزل مل گئی تھی۔ جیسے وہ، وہی تھی جس کے انتظار میں مَیں ایک ایک لمحہ گنتا رہا تھا۔ کتنا اچھوتا اور دل فریب احساس تھا۔

میں اپنی محبوبہ کے مل جانے پر اندر ہی اندر جشن مناتا رہا اور وہ حُسن کا پیکر، اپنی سہیلیوں کے ہم راہ باغ کے ایک کونے سے نمودار ہوکے دوسرے کونے میں اوجھل ہوگئی تھی۔ جب میں اپنے حواسوں میں آیا تو باغ کے کونے تک بھاگا، پر وہ پری زاد گلی کے کونے پر واقع کالج کے دروازے میں داخل ہو چکی تھی۔ میں بے چینی کے عالم میں واپس پلٹا۔ سخت بے زاری محسوس ہو رہی تھی۔ اسی الجھن کے عالم میں گھر پہنچا اور کچھ کھائے پیے بغیر ہی آفس چلا گیا۔ آفس پہنچ کر اپنا دھیان کام کی طرف مرکوز کرنے کی کوشش کرتا رہا، پر میرا ہر داؤ بے سود رہا۔ جیسے تیسے دن گزارا اور پھر گھر آتے ہی اپنے کمرے میں قید ہوگیا۔

میرا یہ روپ ماں کو بڑا اجنبی لگا۔ چائے پی لو بیٹا! ماں نے اپنی مامتا کے پر کھول کر مجھے سمیٹتے ہوئے کہا۔ میں، جو آنکھوں پر ہاتھ رکھے سونے کی ہر ممکن کوششوں میں لگا ہوا تھا۔ ماں کے کمرے آتے ہی ماں کا پیار پھوار بن کر مجھ پر برسنے لگا۔ میں نے آنکھیں کھول کر ماں کو دیکھا تو انہوں نے پوچھا، کیا بات ہے۔کوئی پریشانی ہے کیا؟ میں نے جواب میں ماں کے نرم ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے رکھ کے ان کے خدشات کی لو کم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔
ساری رات آنکھوں میں گزر گئی۔ میں خیال اور بے خیالی میں مبتلا رہا۔ اس انجان حسینہ کا خیال آتے ہی بدن میں جل ترنگ سے بجنے لگتے اور دل کی دھڑکنیں تیز ہوجاتیں۔

یہ محض ایک سراب بھی تو ہوسکتا ہے؟ میں نے سوچا، پر دل، دماغ کی دلیل کو ماننے سے انکاری تھا۔ دل ودماغ کی اس جنگ میں جیت بالآخر دل کی ہوئی ۔اگلی صبح کافی الگ تھی۔ ایک لمحہ خوابوں سے مزین ہوتا اور دوسرا لمحہ خدشات کو ساتھ لاتا۔ انتظار کیا شے ہے اور وقت کی رفتار کتنی بے مروت ہوتی ہے، اس کا احساس شدت سے ہو رہا تھا کہ اچانک دل کے دربار میں دربان نے صدا بلند کی۔ “باادب، باملاحظہ، ہوشیار حُسن کی ملکہ تشریف لارہی ہیں “

میں، جو اپنے خیالوں کی دنیا میں محبت کے گل دستے بنا رہا تھا، اچانک چوکنا ہوگیا۔ وہ حسینہ ہوا کے دوش پر خراماں خراماں سہیلیوں کی جھرمٹ میں آرہی تھی۔ تم ہی ہو میری منزل!میرے دل نے صدا دی۔ میری تلاش، جس کی کھوج میں میری روح نہ جانے کتنے ڈگر گم نام پھرتی رہی۔ آج اس جستجو، اس حَسین تخیل کو تعبیر مل جائے گی۔ میری سوچ گہری ہوتی گئی۔

وہ جیسے جیسے قریب آتی جا رہی تھی، میری سانسیں بے ترتیب ہوتی جا رہی تھیں۔ فضا میں اس کی خوشبو بس چکی تھی۔ اس کی کلکاریاں میری سماعت میں رس گھول رہی تھیں۔ وہ ان تمام لڑکیوں میں منفرد اور جاذب نظر لگ رہی تھی۔ کھِلی کھِلی سی، اُجلی اُجلی سی۔ اس کی آنکھوں کی چمک چار سُو پھیل رہی تھی، جن میں شرارت جھلملا رہی تھی۔ وہ بہتی ندی کی مانند زمانے سے بے خبر، اپنی دُھن میں چل رہی تھی۔ لہراتی، بل کھاتی، موج ومستی میں چلتی ناؤ کی طرح۔ پانی کی لہروں سے کھیلتی ہوئی وہ معصوم سی لڑکی۔ میں نے خود کو اس کے سحر سے آزاد کروایا۔

آج ان شاءاللہ فتح محبت کی ہوگی۔ میں نے آنکھیں بند کر کے اپنا عزم دہرایا کہ اچانک چڑیوں سی چہچہاتی لڑکیوں کے لہجوں میں پریشانی سی امڈ آئی اور سب مل کر کسی کا نام زور زور سے پکارنے لگیں،صبا! سنبھل کے، کہیں چوٹ تو نہیں آئی؟ میں نے موقع غنیمت جان کے اپنے دل کی بات کہنے کا ارادہ کیا اور جیسے ہی اپنی آنکھ کھولی، سامنے اس حوروں کی ملکہ کو پایا جو پیر مڑ جانے کے باعث زمین پہ بیٹھی ہوئی تھی اور سہیلیاں اسے سہارا دے کر اٹھانے میں مصروف تھیں۔ میں نے پہلا ہی قدم اٹھایا تھا کہ دوسرا قدم جیسے پتھر کا ہوگیا۔ میرے قدم ہی کیا، میرا تو پورا وجود ہی منوں بھاری ہوچکا تھا۔

میرے سارے خواب، سارے دعوے زمین بوس ہوچکے تھے۔ میں اس مہ جبین، نازنین کے عشق میں جنون کی حد تک پہنچ چکا تھا پر اب سارا خمار بھاپ بن کر اُڑ چکا تھا۔ میں نے ایک دن میں جتنی تیزی سے محبت کی منزلیں طے کیں، اس سے زیادہ تیزی سے واپسی کا سفر طے کیا۔ میں خود سے کیے ہوئے وعدوں کا پاس نہ رکھ سکا۔ میرا سارا عشق روئی کے گالوں کی طرح میری نظروں کے سامنے اُڑنے لگا۔ میں نے اس کے ہاتھوں میں سفید چھڑی دیکھی تو میرے قدم ہی کیا، آنکھیں بھی پتھر کی ہوگئیں۔

Facebook Comments