عوام اس وقت نہایت پریشان و حیران کن صورتحال سے دوچار ہے۔ملک تباہی کے دہانے پر ہے یاخوشحالی کے راستے پر کوئی نہیں جانتا ۔جی ہاں یہ وہی عمران خان ہیں جو وزیراعظم بننے سے قبل بلند و بانگ دعوؤں کا راگ الاپتے تھے۔ جن کا کہنا تھا کہ عوام کو میٹرو بس، سڑکیں نہیں بلکہ روٹی، مکان، علاج اور روزگار چاہئے۔جو بھولی بھالی معصوم عوام کو ایسے دلفریب و رنگین خواب دکھا چکے ہیں جن کے سحر سے نکلنا ناممکنات جیسامعلوم ہوتا ہے۔ ناجانے کب یہ قوم غفلت کی گہری نیند سے بیدار ہوگی۔

بہرحال ابھی معاملہ کچھ یوں ہیں کہ یہ خواب تو عوام کی جان چھوڑنا چاہتا ہے مگر عوام اس حسین و دلکش طلسمی سپنے کی جان نہیں چھوڑنا چاہتے۔عین ممکن ہے عوام کو اس خواب شیریں سے جگانے کے لئے کسی پیربابا کی ضرورت پڑے، تاہم ان پیر باباکا پتہ بھی ہمیں خان صاحب ہی سے پوچھنا ہوگاکیونکہ وہ اس فیلڈکا کافی فہم وادراک رکھتے ہیں۔

خان صاحب کو میدان میں اترنے سے پہلے حقائق کا علم نہ تھا جس معلومات کے دم پر وہ تبدیلی کے فلک شگاف نعرے لگاتے تھے اس کا حقیقت سے دور دور تک کو ئی تعلق نہ تھا۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی نوجوان قیادت باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔ مریم صفدر کے ساتھ بلاول بھٹو کو دیکھ کر اچانک محترمہ بینظیر بھٹو (شہید)اور جیل میں قید نواز شریف صاحب کی یاد آگئی۔ ملک کی دونوں بڑی جماعتوں نے اپنی تمام سیاسی زندگی میں ایک دوسرے کوچور و غدار کا خطاب دے کر لوگوں سے ووٹ بٹورے۔ دونوں سیاسی جماعتوں میں سے جو جماعت لفظ “چور” کی گردان کا وِرد زیادہ مرتبہ کرتی، وہی محکوم لوگوں کا مسیحا بن کر مسند اقتدار پر براجمان ہوجاتی۔

مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ “زرداری صاحب” یا “نوازشریف صاحب” جب بھی کرسی پر بیٹھتے ہونگے ہم عوام کی بیوقوفی، جاہلیت اور نالائقی پر فاتحانہ مسکراہٹ بکھیرتے ہونگے۔ہم نے پیپلز پارٹی کو اسی کارنامےپر تو ووٹ دیے تھے کہ اس پارٹی نے ہمیں بتایا تھا کہ (ن)لیگ والے چور و لٹیرےہیں، انہوں نے ہماراپیسہ لوٹا ہے ہم کو ٹھگ لیا ہے۔بالکل اسی طرح ہم نے میاں نواز شریف کو بھی تو اسی بنا پرووٹ دیے تھے کیونکہ اس مسیحا نے ہم کو یہ فہم و ادراک دیا تھا کہ پیپلزپارٹی ہم کو اندھیروں میں ڈبو رہی ہے، ان کی بدولت ملک غریب ہورہااور ایک دن یہ اس ملک کو بیچ ڈالیں گے۔

اگر سچ یہی تھا تو آج یہ لوگ ایک ساتھ کیوں ہیں! ان دونوں میں سے کوئی ایک تو غلط تھا یا پھر دونوں ہی مکار تھے کیونکہ حق اور باطل ایک کیسے ہوسکتے! کہیں ہم نے ان کو سمجھنے بوجھنے میں کوئی غلطی تو نہیں کردی؟ کیا ہمارے ساتھ دھوکا تونہیں ہوا؟کیا ہم ویسے لوگ تونہیں جو سب کچھ دیکھنے کے باوجود بھی اندھے ہیں؟ ان دونوں سیاسی جماعتوں کے مطابق تو یہ دونوں کرپٹ ،بد عنوان،بدکردار،فریبی،غدارتھے تو آج یہ پارساو پاکبازکیسے ہوگئے؟ یہ دونوں تو نظریاتی پارٹیاں تھیں۔جمہورو جمہوریت کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے والے لوگ تھے۔آج کدھر ہے ان کانظریہ؟

نظریہ سے مجھے اپنے لڑکپن کا ایک واقعہ یاد آگیا۔آپ اگر باریک بینی سے جائزہ لیں تو آپ کو ہماری گلی محلے، حلقے، شہر، صوبے نیزملکی سیاست ایک ہی کہانی محسوس ہوگی۔ میرے والد ایک وکیل اور سماجی آدمی تھے جس بنا پر انکی سینکڑوں دیرینہ مخالفتیں تھیں جو مجھے ورثے میں ملیں۔ایک بار میں نے ان سے دریافت کیا میں نے علاقے میں بہت سے لوگوں کے لڑائی جھگڑے دیکھیں ہیں مگربالآخر سب کی صلح ہوجاتی ہے لیکن آپ میری پیدائش سے قبل کے واقعات کو لیکر آج بھی کئی لوگوں سے نہ صرف لاتعلق ہیں بلکہ آج بھی ان کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں جبکہ وہ لوگ آپ کے قریب آنے کیلئے آپ کے ایک اشارے کے منتظر ہیں۔ والد محترم نے تسلی و تسکین سے بھرپور لہجے میں جواب دیا کہ بیٹا جس طرح برائی اور اچھائی کبھی ایک نہیں ہوسکتی اسی طرح اچھا انسان بھی کبھی برے کے ساتھ کھڑا نہیں ہو سکتا۔یہ دونوں مد مقابل اور ایک دوسرے کی ضد ہیں کیونکہ ان دونوں میں سوچ کا فرق ہے اور وہ سوچ” نظریہ” ہوتا ہے تاہم اگر میں اپنے مخالفین کے ساتھ صلح چاہتا ہوں تو مجھے پہلے اپنے نظریے کا قتل کرنا ہوگااس کا گلا دبانا ہوگا۔صلح تب ہی ممکن ہے جب وہ مجھ جیسے ہوجائیں یا میں ان جیسا بن جاؤں۔

پس ہمیں یہ مان لینا چاہئے ا ن جماعتوں کا کبھی کوئی نظریہ تھا ہی نہیں اور اگر ان کا کو ئی نظریہ تھا تو آج یہ ایک جگہ ایک جیسی سوچ وفکر کے ساتھ نہ مل بیٹھتے۔ مریم نواز اسی نواز شریف کی بیٹی ہیں جن کے بارے میں پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ ضیا ءالحق کے بیٹے ہیں۔اگر پیپلز پارٹی سچ میں جمہوری جماعت ہے تو آج ایک آمر کے بیٹے کی جماعت کے ساتھ کیوں کھڑی ہے۔ایک ڈکٹیٹر کی پیدا کردہ سیاسی پارٹی کا ساتھ دینا کیا جموریت کا قتل نہیں بلکہ میں یوں کیوں نہ کہہ دوں کے یہ لوگ جمہوریت کا قتل کر نے کے بعد اس کو اپنے ہاتھوں سے دفنا بھی چکے ہیں۔

ایسے درندہ صفت لوگ موت سے کیوں نہیں ڈرتے،کیا ان کا بعد از مرگ دائمی زندگی پر ایمان بھی نہیں، اگر انہیں خوف خدا ہے تو لوگوں کے حال پر رحم کیوں نہیں کرتے،عوام کے جذبات سے کھیلنا ان کا ذوق و شوق کیوں ہے، بھوکے و غمزدہ چہروں پر تمسخر اڑانا ان کا پسندیدہ و دلعزیز مشغلہ کیوں ہے،یہ کیوں نہیں سوچتے غربت کی ماری قوم ان کے جھوٹے وعدوں کواپنی مشکلات کی نجات سمجھتی ہے۔مہنگا ئی و بے روزگاری سے پسی ہوئی عوام ان کے کھوکھلے نعروں کو امید کی کرن سمجھتے ہیں۔میری تمام سیاسی جماعتوں سے التجا ہے برائے مہربانی ہم مفلس زدہ لوگوں پر ہنسنا بند کرو۔ ہماری سانسوں پر نہیں ہمارے دلوں پر حکومت کرنے کے ہنر سیکھو۔

Facebook Comments