احسان 1914ءکاندھلہ ضلع مظفر گڑھ ہندوستان کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا ہوا اوربچپن کا کچھ عرصہ گزارکریہ اپنے والدین کے ساتھ کاندھلے منتقل ہو گیا۔ احسان کے والد بھی مزدوری کرتے تھے اور غریبی ان کو ورثے میں ملی تھی۔ احسان بچپن سے ہی خوش مزاج اور ملنسار تھا۔
چوتھی جماعت پاس کی تو احسان کے والد کے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی کہ وہ کتابیں خرید کر احسان کو دے سکتا اور آنے والے خرچے اٹھا سکتا۔ چوتھی جماعت کے بعد تعلیم ترک کر کے والد کے ساتھ مزدوری کا شعبہ اپنا لیا اور اس کوشش میں لگ گیا کہ شاید زندگی آسان ہو جائے۔ احسان نے کسی کام کو چھوٹا نہیں سمجھا۔ ماں باپ سے محبت اور فرمانبرداری ایسی تھی کہ والدین کے سامنے کبھی ضد نہیں کی ۔ احسان نے والدین کی غریبی اور مفلسی کو دور کرنے کے لیے ہر طرح کا کام کیا۔
مزدوری تو وہ کرتا ہی تھا مگر اس کے علاوہ وہ ملازمت بھی کرتا تھااور جب ملازمت سے جواب ملتا تو واپس مزدوری پر آجاتا۔ اس کو مزدوری ملازمت سے بہتر لگتی تھی کیونکہ اس میں کوئی آقا نہیں ہوتا اور جو کمایا آپ کا اپنا ہوتا ہے۔ اگر چھٹی بھی ہو جائے تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔
ان سب حالات کے باوجود ان کے اندر علم حاصل کرنے کا ذوق دھاڑے مارتا رہتا تھا۔ ایک دفعہ احسان کو بکریاں پالنے اور ان کو چرانے کا شوق پیدا ہوا اور اس نے کچھ بکریاں پال لیں اور روز ان کو چرانے جنگل میں نکل جاتا۔ اس دوران اس کےایک دوست “اصغر جنگ” جس کو کتابوں کو شوق تھا وہ احسان کو کتابیں پڑھنے کے لیے دے دیتااور بعد میں دونوں اس کتاب پر باتیں کرتے۔ اس طرح احسان کے اندر مطالعے کا شوق پیدا ہوا اور جو علم کی پیاس تھی اس کو بجھانے کا بھی کوئی ذریعہ ملا۔
احسان کی زندگی میں جتنے مرضی مسائل آئے غریبی کا سامنا کرنا پڑا یا بے روزگاری کا مگر مطالعے کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ کئی بار احسان کو ملازمت کے دوران مطالعہ کا وقت نہ ملتا تو ان کی روح بے چین ہونا شروع ہو جاتی تھی اور جب اس سے نہ رہا جاتا تو وہ ملازمت چھوڑ دیتااور ایسا کئی بار ایساہوا کہ مطالعے کی خاطر اس نے بے روزگاری کو گلے لگا لیا۔
جب علم کا پیالہ بھر گیا تو مشاہدہ کی شکل میں علم پیالے سے باہر آنا شروع ہو گیا اور شاعری نے ذہن میں دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا اور اس طرح احسان نے شاعری کے ساتھ ہاتھ ملا لیا اور ادبی محفلوں میں اپنی شاعری پڑھ کر داد سمیٹنے لگے۔ اس طرح احسان کی زندگی کو مقصد ملنا شروع ہو گیا وہ اپنی زندگی کو شاعری کی شکل میں دوسروں تک پہنچانا شروع ہو گئے۔
ابھی احسان صرف کاندھلے تک ہی محدود تھےمگر دل ابھی علم کی طلب سے بھرا نہیں تھا۔ احسان کو پتا چلا کہ لاہور میں مزدور کا مستقبل بہت اچھا ہے اور بہت سی لائبریریاں ہیں اور بہت سی ایسی کتابیں مل جائے گی جو کاندھلے میں میسر نہیں۔ اپنے دوست اصغر جنگ سے مشورہ کر کے لاہور آگیاور یہ ان کی اپنی زندگی کا بہت بڑا فیصلہ تھا جس پر ان کو اپنی ماں کے آنسو برداشت کرنے پڑے جو کہ وہ کبھی برداشت نہیں کرسکتاتھا۔
لاہور آ کر احسان نے ہر کام کیا۔ مزدوری کی اور کپڑے بھی سلائی کیے، باغ کی چوکیداری بھی کی اور دیواروں پر پینٹ بھی کیا۔ احسان نے کئی کام بدلے مگر نہ بدلا تو ان کا شوق نہ بدلا، مطالعہ کی جگہ اس کے دل میں کوئی جگہ نہ بنا سکا۔ ایک دن ایسا بھی آیا کہ باغ کی چوکیداری کے دوران وہ ایک دن میں چار سو صفحات کا مطالعہ کرتا تھا اور احسان کے اندر شاعری ٹھاٹے مارتی تھی۔ چوکیداری کے دوران ایک شخص نے احسان سے چالیس نظمیں لکھوائیں اور دو روپے فی نظم معاوضہ دیا۔ یہ اس دور میں احسان کے لیے بہت بڑی رقم تھی۔
اس طرح احسان کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتارہا اور اس کی شاعری مختلف اخبارات اور رسالوں میں چھپتی رہی۔ احسان کو اب کافی لوگ جاننے لگ گئے تھے۔ شہرت اس کا گہراؤ کرنا شروع ہو گئی تھی اور وہ لوگوں سے بچنے کے لیے ایسی ملازمت تلاش کرتاکہ وہ سکون سے رہ سکے اور اپنے شوق کو وقت دے سکے۔ یہ بڑھتی شہرت بھی احسان کے لیے غرور کا باعث نہیں بنی۔ ایک طرف وہ ملک کا نامور شاعر تھا اور دوسری طرف گورنر ہاوس میں باغبان کے فرائض سرانجام دیتا رہا۔
یہ کہانی کسی اور کی نہیں ہمارے ملک کے نامور شاعر احسان دانش کی ہے۔ احسان دانش جب محفلوں میں اپنی شاعری پڑھتے تو سامعین کے آنکھوں میں آنسو اور کلیجے پھٹنے کو آجاتے تھے وہ اپنی شاعری سے معاشرے کی غریبی کا اصل چہرہ لا کر سامنے رکھ دیتے تھے اور جب وہ سٹیج سے اتر کر نیچے آتے تو ان کے مداح ان کے ہاتھ چومتے اور سینے سے لگا لیتے۔ جب بھی وہ گھر سے نکلتے تو لوگوں کا سمندر ان پر امڈ آتا تھا اس سے بچنے کے لیے انہوں نے گھر میں اپنی ذاتی لائبریری بنا لی اور دن کا بیشتر وقت اپنی لائبریری میں مطالعہ کرتے گزارتے۔
آپ ان کی کتاب سے محبت کا اندازہ یہاں سے لگا سکتے ہیں کہ ان کے بیٹے فیضان دانش کو پی ایچ ڈی کے دوران لسانیات پر کتابیں تلاش کرنی تھیں انہوں نے ایک پبلک لائبریری میں کتابیں تلاش کیں تو چالیس کے قریب کتابیں ملیں مگر جب اپنے والد صاحب کی لائبریری میں کتابیں تلاش کی تو ایک سو پانچ کتابیں صرف لسانیات پر تھی۔
زندگی میں کچھ بھی بڑا حاصل
کرنے کے لیے کچھ راستے ہوتے ہیں۔ کسی کو شہرت حاصل کرنی ہے کسی کو پیسہ اور کسی کو رتبہ حاصل کرنا ہے اور ان سب کو حاصل کرنے کے لیے کچھ راستوں کا چناؤ کرنا پڑتا ہے جن میں ایک راستہ مستقل مزاج ہونا ہے۔ بیشتر افراد اس وقت ہار مانتے ہیں جب منزل صرف ایک قدم کی دوری پر ہوتی ہے۔ مقدر کا رونا روتے اس دنیا سے چلے جانا بہت آسان ہے مگر موت سے پہلے کچھ بڑا کر جانا بہت مشکل۔ احسان دانش کی زندگی ہمارے لیے مستقل مزاجی کا عملی نمونہ ہے۔
آپ کی زندگی میں جتنی مرضی مجبوریاں ہیں آپ کو اپنی کامیابی جتنی مرضی دور نظر آرہی ہو۔ مگر آپ اپنے راستے پر چلتے جائیں۔ پہلے آپ خود راستہ بنائیں گے پھر راستہ خودبخود آپ کے قدموں میں بچھتا جائے گا اور پھر راستے کے ایک نکڑ پر کامیابی آپ کا ویلکم کرنے کے لیے کھڑی ہوگی اور یہ سب تب ممکن ہے جب آپ مستقل مزاج ہوں گے۔

Facebook Comments