جمہوریت کے معنی ہیں، عوام کی حکومت،عوام کے لیے،عوام کے ذریعے لیکن پاکستانی معاشرے میں جمہوریت ہمیشہ ایک خواب رہی ہے۔ ہماری عوام آمریت کے دور میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کرتی ہے اور جمہوری دور میں عوام خود کو اداروں سے اور ادارے عوام کو جمہوریت کے ثمرات سے محروم رکھتے ہیں۔ عوام ایک اچھی طرز حکمرانی چاہتے ہیں کیونکہ وہ جمہوریت چاہتے ہیں جس میں عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو سکے۔

جمہوریت کے لئے اداروں اور عوام دونوں کا شفاف ہونا ضروری ہے عوام معاشرتی اور اقتصادی مساوات چاہتے ہیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ ان کو ترقی کے یکساں مواقع ملیں۔ عوام جمہوری اداروں سے بہتر، سستا اور معیاری نظام تعلیم اور فوری انصاف کے متمنی ہےلیکن جمہوری نظام کی تشکیل یہ نہیں کہ عوام اور حکومت آنکھیں بند کریں اور کھولے تو ہر جگہ جمہوریت ہی جمہوریت ہو!
ایسا نہیں ہے تو پھر کیسا ہے؟ کیسے ایک جمہوری فضاقائم کی جائے؟ کیا جمہوریت ہمیشہ پاکستانی معاشرے لیے خواب ہی رہے گی یا اس کی تعبیر بھی کبھی ہو گی؟ اچھی حکومت اور مضبوط جمہوریت خواب نہیں حقیقت کی شکل بھی اختیار کر سکتاہے۔ شرط یہ ہے کہ اس کے لئے عوام اور حکومت دونوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہوگا کیونکہ یہ عوام ہی ہیں جو ووٹ دے کر اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں اور اس سے حکومت عمل میں آتی ہے۔ مضبوط جمہوریت اور اچھی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ حکومت عوام کو جوابدہ ہو اورعوام اپنا حق آزادی اظہار رائے پیش کر سکے تب ہی جا کر ایک جمہوری فضا قائم ہو سکے گی کیونکہ مضبوط جمہوریت کے لیے اچھی حکومت کا ہو نا ضروری ہے۔

شفافیت اور احتساب اچھی حکمرانی کے بنیادی عناصر ہیں جبکہ فرائض اور حقوق کی ادائیگی مضبوط جمہوریت کے بنیادی عناصر ہیں۔ دنیا میں دیگر ممالک سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ اچھی حکومت ہے تو مضبوط جمہوریت ہے۔ مضبوط جمہوریت ہے تو بہتر ترقی بھی ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں ہمیشہ ایسے نا اہل حکمرانو ں کا ٹولہ حکمرانی کرتا رہا ہے جو خود لفظ جمہوریت اور اس کے حسن سے آشنا ہی نہیں۔ یہاں حکمران ایسی پالیسیاں وضع کرتے ہیں جو صرف حکمرانو ں اور ایلیٹ کلاس کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔
ہمارے ہاں ہمیشہ مغربی طرز حکومت کی تعریف کی جاتی ہےاورہم ہمیشہ مغرب کو خوشحال اور خود کو بد حال کہتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ ہم لفظ جمہوریت کے حقیقی معنی کو نہیں سمجھتے یا یوں کہہ لیں کہ سمجھنا نہیں چاہتے اور اگر سمجھ بھی لیں تو اس پر عملی طور پر کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کرتے۔ یہ بات درست ہے کہ جمہوریت خوشحالی لاتی ہے مگر اس کے لیے سنجیدہ، قابل اور ایماندارحکمرانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ترقی کے لیے دن رات محنت اور لگن سے خود بھی کام کریں اور اداروں کی مجموعی کارکردگی کو مانیٹر کرتے ہوئے جمہوریت کے اصل ثمرات عوام کی دہلیز تک فراہم کریں۔
مغربی جمہوریت میں حکمران عوام کے رحم و کرم پر ہو تے ہیں۔جبکہ اس کے برعکس ہماری عوام حکمرانوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ اگر جمہوریت کا مطلب اکژیت کی نمائندگی ہے تو پھر پاکستان میں حکومت غریب پارٹی کی ہونی چاہیےکیونکہ تعداد میں تو یہی طبقہ زیادہ ہے۔غریب ممالک میں ہمیشہ طاقتور اور دولت مند ہی حکمرانی کرتا رہا ہے اور دولت مندحکمرانوں کاایوانوں تک پہنچنا ہی بذات خود جمہوریت کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔

ایک خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لئے لازم ہےکہ ملکی وسائل پر کسی مخصوص ٹولے کا قبضہ ہونے کے بجائے ان وسائل کو برابری کی سطح پر تقسیم کیا جائے۔ آج کی جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ کچھ بنیادی عناصر یعنی عوام کی بالادستی، مساوی حقوق، آذادی اظہار رائے، عوام کی فلاح و بہبود اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی فراہمی کویقینی بنایا جائے۔
 جمہوریت ایک ایسے طرز حکومت کا نام ہے جو عوام الناس کی مرضی کے ساتھ اور ان کی فلاح وبہبود کے لیےاس طرح ترتیب دی جائے کہ شہریوں کی آزادی اور مساوی حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ ہم عوام کو خود بھی اپنا محاسبہ  کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہم ہی ہیں جو ایسے حکمرانوں کو اقتدار کے ایوانوں تک ووٹ کا حق استعمال کر کے پہنچاتے ہیں۔ اب حکمران طبقہ ہماریے میعار کے مطابق پرفارم نہیں کررہا تو یقیناان کے ساتھ ساتھ ہم بھی اس کے لئے کہیں نہ کہیں جوابدہ تو ہیں۔ ملک کی تعمیر و ترقی ، کرپشن کا خاتمہ، انصاف کی فراہمی، صحت و تعلیم کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا یقینا ایک ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں جو شہری ہونے کے ناتےان کو اداکرنی چاہیئےاور ہر فرد کو پوری ایمانداری کے ساتھ ملک وقوم کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا، تب ہی جا کر اچھی حکومت اورمضبوط جمہوریت عمل میں آئی گی۔

میرا کامل یقین ہے کہ ملک خداداد میں ایک مضبوط جمہوری معاشرے کی تشکیل بہت جلد ممکن ہو سکے گی، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی عوام میں شعور بیدار کریں اورجب عوام مجموعی کردار ادا کرنے کا تہیہ کر لے گی تو ایک مضبوط جمہوری معاشرہ مضبوط پاکستان کی ضمانت بنے گا۔

ہو گا طلوع کوہ کے پیچھے سے آفتاب
یہ شب مستقل رہے گی کبھی یہ نہ سو چئے

Facebook Comments