چوری کی سزا (سارہ عمر)

عمران اور چنگیز ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے۔ عمران کی تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی گئی تھی۔ چنگیز کو گھر کے لاڈ پیار نے بگاڑ دیا تھا۔ وہ کسی کا کہا نہیں مانتاتھا۔ اپنی مان مانیاں کرتا تھا۔ ایک دن عمران لنچ میں سموسے لے کر آیا جس کا چنگیز کو علم ہوگیا۔ اس کا دل مچلا کہ وہ بھی سموسے کھائے گا مگر کیسے؟ وہ یہ بات وہ سوچنے لگا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ عمران کا لنچ باکس چرا کر لنچ کھا لیا جائے بس اسی سوچ کی وجہ سے وہ موقع کے انتظار میں رہا۔ جیسے ہی بریک کی گھنٹی بجی۔ عمران ہاتھ دھونے گیا۔ اس نے موقع دیکھتے ہی عمران کا لنچ باکس نکالا اور کلاس کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ وہ کھڑکی پچھلے میدان میں کھلتی تھی، جہاں پہ زیادہ لوگ نہیں جاتے تھے۔ ادھر اسکول کا کچھ پرانا سامان بھی پڑا ہوا تھا اس لئے اس طرف صرف خاکروب ہی جاتے تھے۔

 عمران واپس آیا تو کلاس خالی تھی اور لنچ بکس غائب۔ عمران یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ اس نے وہ دن بغیر لنچ کئے بغیرہی گزار دیا، وہ بہت افسردہ تھا کہ اس کا لنچ باکس چوری ہو گیا۔  چنگیز لنچ میں انڈا پراٹھا لایا تھا مگر اس نے نہ وہ خود کھایا نہ ہی پریشان پھرتے عمران کو دیا۔ اس کا دماغ تو سموسے کھانے میں لگا ہوا تھا۔ بریک کے بعد عمران نے ٹیچر کو اپنا مسئلہ بتایا۔ ٹیچر نے سب بچوں کے بیگ میں تلاشی لی لیکن کسی بچے کے بیگ میں لنچ بکس نہیں تھا۔ عمران بہت پریشان ہوا لیکن اس نے خاموشی سے وقت گزار لیا۔

 چھٹی کے وقت وہ بس میں چلا گیا لیکن چنگیز سب بچوں کے جانے کا انتظار کرنے لگا۔ جیسے ہی سب گئے وہ پچھلے میدان کی طرف چلا گیا۔ وہ چاہتا تھا کہ لنچ بکس اپنے بیگ میں ڈال کے گھر چلا جائے اور امی سے چھپ کر سموسے کھا لے۔ پھر کل لنچ باکس واپس رکھ دے گا۔ کھڑکی سے کود کر باہر جانے کا راستہ نہ تھا، سو اسے پچھلے میدان میں جانے کے لیے کافی چلنا پڑا۔ بس جانے کے لیے تیار کھڑی تھی ۔ وہ لنچ بکس بیگ میں ڈال کر میدان میں آگیا۔
لیکن یہ کیا۔۔۔ بس تو چلی گئی تھی۔ چوکیدار نے بھی اسکول خالی دیکھ کر دروازہ بند کردیا تھا۔ چنگیز وہاں بیٹھ کر دھاڑے مار مار کے رونے لگا۔ اس کو چوری کی سزا مل گئی تھی۔ اس نے نہ خود لنچ کیا تھا اور نہ ہی عمران کو کرنے دیا تھا۔ اس لنچ بکس کو اٹھانے کے چکر میں اس کی بس بھی نکل گئی تھی۔

چنگیز بہت پریشان ہوا اس نے اللہ سے توبہ کی کہ آئندہ وہ ایسی حرکت نہیں کرے گا۔ روتے روتے وہ سوگیا۔ جب چنگیز گھر نہیں آیا تو اس کی امی نے عمران کے گھر فون کیا۔ اس نے کہا کہ وہ مجھے بس میں بھی نہیں دکھائی دیا البتہ وہ اسکول میں تھا۔ انہوں نے اس کے ابو کو فون کیا اور وہ آفس سے گھر آئے اور سب مل کے اسے ڈھونڈنے کے لیے اسکول گئے۔ جب وہ اسکول پہنچے اور انہوں نے چوکیدار سے دروازہ کھلوایا تو وہ لیٹا ہوا تھا اس کے ہاتھ میں عمران کا لنچ باکس بھی تھا۔ چنگیز کے ابو نے اسے اٹھایا اور گھر لے آیا۔ چنگیز نے عمران اور باقی سب سے معافی مانگی۔ عمران نے بھی اسے معاف کردیا اور پھر دونوں نے مل کر سموسے کھائے۔

Facebook Comments