14 اگست 1947 دنیا مین ایک آزاد ملک پاکستان کا قیام وجود میں آیا تھا۔پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی اس کے کئی دشمن وجود میں آئے اور اس کے خلاف کئی سازشوں کے جال بنے گئے۔ پاکستانیوں پر امن و سکون کا گھیرا تنگ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔پہلے کشمیر ہم سے کاٹ دیا گیا پھر بنگال کو بنگلہ دیش بنا دیا گیا۔ اسی اثنا میں پاکستان کا اصلی و ازلی دشمن بھارت پاکستان مخالفت میں عالمی گٹ جوڑ کی مدد سے دنیا میں ایٹمی طاقت بن کے ابھرتا ہے۔ اب پاکستان کو مقابل کھڑے ہونے کی اشد ضرورت تھی۔

بھارت اور اس کے حواریوں کے کردار سے یہ بات بالکل واضح ہو چکی تھی کہ بھارت کبھی پاکستان کا پ±ر امن ہمسایہ یا دوست بن کر نہیں رہ سکتا۔ بھارت سے دوستی اور امن کی بات تو دور بھارت سے امن کی معمولی سی بھی امید رکھنا احمقانہ عمل ہے۔ بھارت کا پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے کے لیے دریاو¿ں پر ڈیم اور بیراج بنانا پاکستان کی زمینوں کو بنجر بنا دینے کی گہری سازش ہے۔ بھارت سے یہ توقع رکھنا بھی حماقت ہے کہ وہ شرافت اور امن و اماں کی سفارت کاری کی زبان کو سمجھتا ہے۔

بالآخر بھارت نے 11 مئی 1998ءکو (ایٹم بم) نیوکلئیر (ہائیڈروجن) اور نیوکران بموں کے دھماکوں کے بعد پاکستان کی سلامتی اور آزادی کے لیے خطرات پیدا کر دیے تھے اور علاقے میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے سے بھارت کے جارحانہ عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔ جسے روکنے کے لیے پاکستانی عوام کے علاوہ عالم اسلام کے پاکستان دوست حلقوں کی طرف سے سخت ترین دباو¿ ڈالا جارہا تھا کہ پاکستان بھی ایٹمی تجربہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دے۔

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو جوہری صلاحیتوں کا خواب 1966 سے سجائے بیٹھے تھے بھارت کے پہلے ایٹمی دھماکے نے اسے مزید مستحکم ارادے میں بدل کر رکھ دیا اور اس دن سے وہ پاکستان کو اس منزل تک پہنچانے کی غرض سے اس منزل پر ڈالنے کی جدوجہد میں سرگرم ہو گئے تھے۔مگر پاکستان کے اس ایٹمی خواب کو امریکہ اور یورپ کی تائید حاصل نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی صدر کلنٹن، برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور جاپانی وزیراعظم موتو نے پاکستان پر دباو¿ ڈالا کہ پاکستان ایٹمی دھماکہ نہ کرے ورنہ اس کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ دوسری طرف بھارت کی سرگرمیوں کی صورتحال یہ تھی کہ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرنے کے علاوہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر فوج جمع کرنا شروع کی جس سے پاکستان بھارت جنگ کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

بھارتی وزیر داخلہ اور سربراہ امور کشمیر ایل کے ایڈوانی نے بھارتی فوج کو حکم دیا کہ وہ مجاہدین کے کیمپ تباہ کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں داخل ہو جائے جبکہ بھارتی وزیر دفاع جارج فرنینڈس نے تو یہاں تک ہرزہ سرائی کی تھی کہ بھارتی فوج کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کر دیا جائے گا۔ یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کی تیاریاں تھیں۔ یہ درست ہے کہ بھارت نے ایٹمی دھماکے کر کے ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے اپنے حق کا استعمال کیا مگر یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا واضح مقصد صرف اور صرف پاکستان کو خوفزدہ کرنا تھا اور ایک طاقتور ملک ہونے کا ثبوت دے کر پاکستان سمیت پورے خطے کے ممالک پر اپنی برتری ظاہر کرنا تھا۔

مگر میرے رب کو اس ارض وطن پر دشمنان اسلام کے عزائم کی کامیابی کسی صورت گوارا نہ تھی جسکا ہر بچہ ہر بوڑھا جوان مرد و عورت کے زبان پر ابھی تک پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الا اللہ کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔خیر پاکستان نے اس آیت کریمہ پر عمل کرتے ہوئے، ”اور ان سے لڑنے کے لیے جو کچھ قوت سے اور صحت مند گھوڑوں سے جمع کرسکو سو تیار رکھو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے سوا دوسروں پر رعب پڑے۔ جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے تمہیں (اس کا ثواب) پورا ملے گا اور تم سے بے انصافی نہیں ہوگی“۔

پاکستان نے 28 مئی 1998ءکو چاغی کے پہاڑوں میں پانچ دھماکے کیے۔ جمعرات کا دن تھا اور سہ پہر 3 بج کر 40 منٹ پر یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان نے ہمسایہ اور دشمن ملک بھارت کی برتری کا غرور خاک میں ملا دیا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان ایٹمی قوت رکھنے والا دنیا کا ساتواں اور عالم اسلام کا پہلا ملک بن گیا۔ یہ 28 مئی 1998ءکا مبارک دن تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت بن گیا مگر پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے جن عناصر نے حب الوطنی اور اسلام پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے تاریخی کردار ادا کیا ان میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب، ذولفقار علی بھٹو جن کا نعرہ تھا ”گھاس کھا لیں گے مگر ملک کو ایٹمی قوت ضرور بنائیں گے“ اور روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی صاحب (مرحوم) سرفہرست ہیں اور برادر اسلامی ملک سعودیہ عرب ہے۔

آج الحمداللہ دفاعی اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس دنیا کی پانچویں سب سے بڑی فوج ہے جس کی تعداد چھ لاکھ بیس ہزار ہے۔ عالمی رینکنگ میں پاکستان کی فوج کو دنیا کی گیارہویں سب سے طاقتور فوج مانا جاتا ہے۔ حالانکہ دفاع پر خرچ کرنے کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں 23ویں نمبر پر ہے۔ پاک فوج کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشتگردی کے اندرونی نیٹ ورک کو دس سال سے بھی کم عرصے میں کچل کر رکھ دیا۔ یاد رکھیں کہ یہی چیلنج شام، لیبیا، یمن اور عراق کو بھی درپیش تھا لیکن یہ تمام ممالک ان خطرات کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے اور خانہ جنگی کا شکار ہو گئے۔ اسی طرح افغانستان میں امریکہ اور ستر ملکوں کا فوجی اتحاد سترہ سال میں بھی مسلح گروہوں کو شکست نہیں دے سکا۔ پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے۔ پاکستان دنیا کے ان طاقتور ممالک میں شامل ہے جو تھرڈ اور فورتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے، آبدوزیں، جنگی بحری جہاز اور سیٹیلائٹس بھی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Facebook Comments