یوم تکبیر (عمر الطاف باجوہ)

  28 مئی 1998، وطن عزیز کی تاریخ میں وہ عظیم دن ہے، جس دن اللہ پاک نے محض اپنے فضل وکرم سے پوری امت ِ مسلمہ خصوصاً پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔ انتہائی نامساعد حالات، معیشت کے گرے ہوئے پیمانے اور وسائل نہ ہونے کے بعد کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جس ملک میں اپنا کوئی جدید اسلحہ موجود نہیں، جو اپنے ٹینکوں کے دہانے اور توپوں کے منہ اپنے خودکار گولوں سے نہیں بھر سکتا۔ جو اپنی حدود میں آنے والے دشمن کے طیاروں کا علم نہیں رکھ سکتا اور انہیں روک نہیں سکتا، وہ ملک ایٹم بم کیسے بنا لے گا؟ اسی لیے فنڈز اور دیگر مراعات کی طرف بھی کچھ خاص توجہ نہیں دی جا رہی تھی۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا مگر ایک دُھن تھی، جذبہ تھا، ولولہ تھا اور ایک شعلہایمانی تھاکہ یا تو اس میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر شہادت کو گلے سے لگا لیں گے اور کوئی تیسرا آپشن سامنے موجود نہیں تھا کیوںکہ دباﺅ بڑھتے جا رہے تھے۔ عالمی توازن بگڑتا جا رہا تھا، کفار کی بدمعاشیاں عروج پہ پہنچ چکی تھیں۔

ان حالات میں صرف اور صرف ایک آسرے، ایک اللہ کے سہارے، ایک اللہ کے بھروسے پہ امت کے چند محسن مصروف عمل تھے۔ دنیا کی نظر میں ناممکن کو ممکن بنانے میں مگن تھے۔ امت کا سر فخر سے بلند کرنے کی جستجو میں ہاتھ پاو¿ں مار رہے تھے۔ وہ کسی بھی صورت ہمت نہیں ہارنا چاہتے تھے، وہ کسی بھی قیمت پر جھکنا نہیں چاہتے تھے کیوںکہ ان کے سامنے قرآن مجید، اللہ تعالیٰ کا یہ واضح پیغام سنا رہا تھا، ”اور ان سے لڑنے کے لیے جو کچھ قوت سے اور صحت مند گھوڑوں سے جمع کر سکو، سو تیار رکھو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے سوا دوسروں پر رعب پڑے۔ جنہیں تم نہیں جانتے اور اللہ انہیں جانتا ہے“۔ (القرآن)

بالآخر اللہ پاک نے اپنا خصوصی فضل وکرم فرمایا، ان مجاہدوں کو معجزانہ طور پر اس کاوش میں کامیابیوں سے ہم کنار فرمایا اور 28 مئی 1998 کو چاغی، بلوچستان کے مقام پہ تین بج کر پندرہ منٹ پر پہاڑوں کے درمیان، ایک کلومیٹر لمبی، بل کھاتی ہوئی سرنگ میں ایٹمی دھماکوں کے ساتھ امت مسلمہ اور وطن عزیز کو سرخ رو فرمایا، جس سے نہ صرف وہ پہاڑ بلکہ پوری دنیا میں اللہ، مسلمانوں کے اور وہ سارے دشمن لرز گئے، ان کے دل دہل گئے، جنہیں ہم نہیں جانتے تھے۔ یہ وہ دن تھا جب پوری مسلم دنیا میں چراغاں کیا گیا۔

پھر اللہ کا قرآن بھی مسکراتا ہوا میدان میں یہ صدا لگا رہا تھا، ”اور اس ذات سے ڈرو، جس نے ان چیزوں سے نواز کر تمہاری قوت میں اضافہ کیا ہے، جو تم خود جانتے ہو“۔ (القرآن) اس کے بعد دوٹکے کے تجزیہ نگار بیٹھے اور یہ تجزیے دینے لگے کہ ایٹم بم بنانے میں اور ایٹمی دھماکے کرنے میں کوئی عقل مندی نہیں تھی۔ اس سے بین الاقوامی امداد رک گئی۔ ہماری معیشت پہلے ہی خستہ حالی کا شکار ہے۔ ہمارے حالات اتنے سازگار نہیں تھے، ہم اس پوزیشن ہی میں نہیں تھے کہ یہ سب کچھ کرتے۔ یہ سراسر بے وقوفی تھی، وغیرہ وغیرہ۔ مگر بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ سب سے بہتر اقدام یہی تھا۔ کئی پڑوسی اپنی اوقات میں آگئے، کئی بین الاقوامی غنڈے اور پوری دنیا کو اپنی جاگیر سمجھنے والے ٹھٹھک کر رہ گئے۔ خطے میں طاقت کے توازن کے بعد امن قائم ہوگیا اور حقائق اس چیز پہ دلالت کرتے ہیںکہ اگر اس وقت یہ فیصلہ نہ لیا جاتا تو آج پاکستان کو انڈیا، ترنوالہ سمجھ کر نگل چکا ہوتا اور پوری دنیا میں امت مسلمہ پتا نہیں کس کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہوتی۔ الحمدللہ! اب یہ چیز روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی انڈیا سے بہتر، ہماری میزائل ٹیکنالوجی انڈیا سے بہتر، ہماری ہر قسم کی عسکری ٹیکنالوجی انڈیا سے بہتر ہے۔ اب کوئی بھی ہماری طرف میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ اب کوئی بھی ہماری طرف انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ انڈیا اور اس کے ہم پلّہ وہم نواﺅں کے لیے واضح پیغام ہے، آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا

Facebook Comments