صنف نازک اسلام کے سائے میں (آصف اقبال انصاری)

اسلام ایک ابدی، دائمی اور عالمگیر مذہب ہے جس میں انسانیت کی ہر گوشے سے رہنمائی کی گئی ہے۔ اسلام کے زیر سایہ ہر طبقہ کو پناہ ملی۔ اسلام نے نہ صرف انسانیت کے حقوق کا تحفظ کیا بلکہ حقوق طلبی کی راہ بھی ہموار کردی۔ اسلام سے پہلے اگر صنف نازک کے احوال دیکھیں تو شاید دیکھنے کی طاقت نہ ہو۔ زمانے نے جس درجے کا ظلم و ستم اس جنس سے روا رکھا، آسمان تلے، زمین کے اوپر اس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ معاشی اور معاشرتی حقوق کی بات کیا کریں۔ انسانی حقوق کی بجا آوری بھی بمشکل نظر آئی۔

تاریخ کے اوراق گردانی کرتے ہوئے، قبل از اسلام اس صنف نازک سے متعلق کچھ یوں نقشہ کھینچا ہوا ملا۔ یہودیوں کی کتاب ”جیوش انسائیکلوپیڈیا“ میں عورت کے بارے میں لکھا ہے کہ، ”عورت زہر سے بھی زیادہ کڑوی چیز ہے“۔ اسی طرح ”کتاب مقدس“ میں لکھا ہے کہ، ”عورت موت سے بھی زیادہ تلخ اور کڑوی حقیقت کا نام ہے“۔ عیسائیت کی مذہبی دنیا میں بھی عورتوں کا تصور نہایت گھناونا اور ذلت اور حقارت پر مبنی تھا، ”مسٹر لیکی“ نامی ایک فرہنگی مسیح نے اپنی کتاب ”ہسٹری آگ یورپین“ میں لکھا کہ، ”عورت جہنم کا دروازہ ہے اور تمام آفات بشری کا باعث ہے“۔ہندو قانون میں عورت کی کیا حیثیت تھی۔ عورتیں کن غلیظ نگاہوں کا مرکز تھیں۔ اس کی عصمت و عفت کی کیا قدر تھی؟ دیکھیے! ”تمدن عرب“ کا مصنف عورتوں کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھتا ہے، ”تقدیر، طوفان، موت، جہنم، زہر، زہریلے سانپ ان میں کوئی اس قدر خراب نہیں جتنی کے عورت“۔

انہیں تاریکیوں اور گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جب کہ ہر طرف عورتوں کو تختہ مشق و ستم بنایا جا رہاتھا، اس صنف نازک کو اپنی دنیوی ترقی کی راہ میں رکاوٹ خیال کیا جارہا تھا تو ایسے نازک دور میں اسلام کا آفتاب بڑی آب وتاب سے طلوع ہوا اور اس نے اپنی روشن کرنوں سے تاریکیوں کا خاتمہ کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اسلام نے اس نازک موڑ پر اس صنف نازک کی عصمت و عفت کے وہ قوانین مرتب کیے کہ اپنے تو اپنے، غیر بھی عش عش کر اٹھے۔ارشاد خداوندی ہے ”حقوق کے اعتبار سے مرد و عورت دونوں برابر ہیں“۔قرآن نے چار لفظ ”ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف“ کہہ کر معاشرتی انقلاب برپا کردیا۔ تمام جاہلانہ رسوم کو پاوں تلے روند دیا اور رہتی دنیا تک کے لیے ایسا پیغام دیا کہ عورت کی پیدائش سے موت تک کی زندگی کو محفوظ کردیا۔

عورتوں کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”عورتیں مقام ومرتبہ کے لحاظ سے مردوں کے ہم پلہ ہیں“۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر عورتوں کے ساتھ حسن سلوک اور حسن معاشرت کی تاکید فرمائی۔ فی الجملہ بات صرف یہ ہے کہ اسلام عورتوں کی عصمت کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق کا بھی محافظ ہے۔ اسلام نے نہ صرف قبل از اسلام ہونے والی زیادتیوں کو تہ تیغ کیا بلکہ یوں عزت دی کہ اگر عورت بیٹی کے روپ میں ہو تو اس کی تربیت اور پرورش پر جنت کا وعدہ دے دیا۔ عورت اگر بیوی کے روپ میں ہو تو تو دنیا کی بہترین قابل انتفاع چیز قرار دیا۔ جب عورت ماں کے روپ میں ہو تو اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی۔ الغرض عورت کے ہر روپ کو عزت و احترام عطا کرکے معاشرے میں معتبر کردیا۔ اللہ سے دعا ہے کہ رب تعالٰی عورتوں کے حقوق کی پاسداری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Facebook Comments