اچھی حکومت، مضبوط جمہوریت (معیزہ اقبال)

جمہوریت کے معنی ہیں عوام کی حکومت،عوام کے لیے،عوام کے ذریعے لیکن پاکستانی معاشرے میں جمہوریت ہمیشہ ایک خواب رہی ہے۔ہماری عوام آمریت کے دور میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کرتی ہے اور جمہوری دور میں عوام خود کو اداروں سے اور ادارے عوام کو جمہوریت کے ثمرات سے محروم رکھتی ہے۔ عوام ایک اچھی طرز حکمرانی چاہتے ہیں کیونکہ وہ جمہوریت چاہتے ہیںجس میںعوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو سکے۔

جمہوریت کے لئے اداروں اور عوام دونوں کا شفاف ہو نا ضروری ہے عوام معاشرتی اور اقتصادی مساوات چاہتی ہے۔ عوام چاہتی ہے کہ ان کو ترقی کے یکساں مواقع ملیں۔ عوام جمہوری اداروں سے بہتر ، سستا اور معیاری نظام تعلیم اور فوری انصاف کے متمنی ہے ۔ لیکن جمہوری نظام کی تشکیل یہ نہیں کہ عوام اور حکومت آنکھیں بند کریں اور کھولے تو ہر جگہ جمہوریت ہی جمہوریت ہو تو ایسا نہیں ہے تو پھر کیسا ہے؟ کیسے ایک جمہوری فضاقائم کی جائے؟ کیا جمہوریت ہمیشہ پاکستانی معاشرے لیے خواب ہی رہے گی یا اس کی تعبیر بھی کبھی ہو گی؟

اچھی حکومت اور مضبوط جمہوریت خواب نہیں حقیقت کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے، شرط یہ ہے کہ اس کیے لئے عوام اور حکومت دونوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہوگا۔ کیونکہ یہ عوام ہی ہے جو ووٹ دے کر اپنا نمائندہ منتخب کرتی ہے اور اس سے حکومت عمل میں آتی ہے۔ مضبوط جمہوریت اور اچھی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ حکومت عوام کو جوابدہ ہو اورعوام اپنا حق آذادی اظہار رائے پیش کر سکے تب ہی جا کر ایک جمہوری فضا قائم ہو سکے گی کیونکہ مضبوط جمہوریت کے لیے اچھی حکومت کا ہو نا ضروری ہے۔

شفافیت اور احتساب اچھی حکمرانی کے بنیادی عناصر ہیںجبکہ فرائض اور حقوق کی ادائیگی مضبوط جمہوریت کے بنیادی عناصر ہیں۔ دنیا میںدیگر ممالک سے ہمیں یہی سبق ملتاہے کہ اچھی حکومت ہے تو مضبوط جمہوریت ہے۔مضبوط جمہوریت ہے تو بہتر ترقی بھی ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں ہمیشہ ایسے نا اہل حکمرانو ں کا ٹولہ حکمرانی کرتا رہا ہے کہ جو خود لفظ جمہوریت اور اس کے حسن سے آشنا ہی نہیں۔یہاں حکمران ایسی پالیسیاں وضع کرتے ہیں جو صرف حکمرانو ں اور ایلیٹ کلاس کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔ ہمارے ہاں ہمیشہ مغربی طرز حکومت کی تعریف کی جاتی ہے اور ہم ہمیشہ مغرب کو خوشحال اور خود کو بد حال کہتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ ہم لفظ جمہوریت کے حقیقی معنی کو نہیںسمجھتے یا یو ں کہہ لیں کہ سمجھنا نہیں چاہتے اور اگر سمجھ بھی لیںتو اس پر عملی طور پر کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کرتے۔

یہ بات درست ہے کہ جمہوریت خوشحالی لاتی ہے مگر اس کے لیے سنجیدہ، قابل اور ایماندارحکمرانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ترقی کے لیے دن رات محنت اور لگن سے خود بھی کام کریںاور اداروں کی مجموعی کارکردگی کو مانیٹر کرتے ہوئے جمہوریت کے اصل ثمرات عوام کی دہلیز تک فراہم کریں مغربی جمہوریت میں حکمران عوام کے رحم و کرم پر ہو تے ہیں۔جبکہ اس کے برعکس ہماری عوام حکمرانوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔اگر جمہوریت کا مطلب اکژیت کی نمائیندگی ہے تو پھر پاکستان میںحکومت غریب پارٹی کی ہونی چاہیے۔کیونکہ تعداد میں تو یہی طبقہ زیادہ ہے۔غریب ممالک میں ہمیشہ طاقت ور اور دولت مند ہی حکمرانی کرتا رہا ہے اور دولت مندحکمرانوںکاایوانوںتک پہنچنا ہی بذات خود جمہوریت کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔

ایک خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لئے لازم ہے کہ ملکی وسائل پر کسی مخصوص ٹولے کا قبضہ ہونے کے بجائے ان وسائل کو برابری کی سطح پر تقسیم کیا جائے ۔ آج کی جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ کچھ بنیادی عناصر یعنی عوام کی بالادستی، مساوی حقوق، آذادی اظہار رائے،عوام کی فلاح و بہبود اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی فراہمی کویقینی بنایا جائے۔ گویا جمہوریت ایک ایسے طرز حکومت کا نام ہے جو عوام الناس کی مرضی کے ساتھ اور ان کی فلاح وجوبہبود کے لیے اس ترتیب دی جائے کہ شہریوں کی آذادی اور مساوی حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

ہم عوام کو خود بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہم ہی ہیں جو ایسے حکمرانوں کو اقتدار کے ایوانوں تک ووٹ کا حق استعمال کر کے پہنچاتے ہیں۔ اب حکمران طبقہ ہماریے میعار کے مطابق پر فارم نہیں کر رہا تو یقینا ان کے ساتھ ساتھ ہم بھی اس کے لئے کہیں نہ کہیں جوابدہ تو ہیں۔ ملک کی تعمیر و ترقی ، کرپشن کا خاتمہ، انصاف کی فراہمی، صحت و تعلیم کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا یقینا ایک ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں جو شہری ہونے کے ناطے ان کو اداکرنی چاہیئے۔ اور ہر فرز کو پوری ایمانداری کے ساتھ ملک وقوم کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا پڑے گاتب ہی جا کر اچھی حکومت اور مضبوط جمہوریت عمل میںآئی گی۔

میرا کامل یقین ہے کہ ملک خداداد میں ایک مضبوط جمہوری معاشرے کی تشکیل بہت جلد ممکن ہو سکے گی۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی عوام شعور بیدار کریں اورجب عوام مجموعی کردار ادا کرنے کا تہیہ کر لے گی تو ایک مضبوط جمہوری معاشرہ مضبوط پاکستان کی ضمانت بنے گا۔

ہو گا طلوع کوہ کے پیچھے سے آفتاب
یہ شب مستقل رہے گی کبھی یہ نہ سو چئے

Facebook Comments