تم بے پردہ رہ کر بھی اگر مقدم ہو

 ہائے جاہلیت جس کا تم مجسم ہو 

احسان کیا ربِ کریم نے عزت بخشی
وہ اسلام جس کے بعد تم متبسم ہو
کہہ  کر تھک گئ زبانِ بے پردہ تیری
کس نے دی پھر زبان کہ تم متکلم ہو
ہائےافسوس! جاہل رہی تم اب تک
منصف لکھتے رہ گئے تم ہی تو قلم ہو
کیسا تم نے فساد برپا کیا عالمی دن
جی چاہا بیچ راہ میں ترا سر قلم ہو 
کاش! کہ آجائے تجھے ذرا سا خیال
جو کیا اسلام کے ساتھ تم تو مجرم ہو
دل ڈوبا تھا شدتِ غم اور دکھ سے
تم ہو مسلمان مگر باعثِ رنج و الم ہو
اسلام نے دے رکھے ہیں سبھی حق
پھربھی بیٹھی برہنہ تم قابلِ رحم ہو
پردہ حفاظت ہے، عزت ہے، کرم ہےفاطیؔ
تم پہ کیا رب نے کہ تم خود بھرم ہو
       

Facebook Comments