عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ تقریباََ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہو کر وفات پا جاتے ہیں۔جن میں سے تقریباََ چھ لاکھ سے زیادہ افراد خود تمباکو نوشی نہیں کرتے ہیں بلکہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے زہریلے دھوئیں کا شکار ہو جاتے ہیں۔  تیس مئی کے دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں سگریٹ نوشی سے انکار کے عالمی دن  نو ٹو بیکو ڈے  کے طور پر منانے کا اصل مقصد عوام الناس میں سگریٹ نوشی سے انکار کا شعور بیدار کرنا اور سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والے مختلف مہلک بیماریوں سے آگاہی فراہم کرنا ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق کثرت سے تمباکو نوشی کرنے والے افراد صرف پھیپھڑوں کے کینسر کے ہی نہیں بلکہ آنکھوں کے ا ندھے پن،  ذیابطیس، جگر اور بڑی آنت کے کینسر جیسی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں ۔ وہ افراد جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے ہیں لیکن اس کے دھوئیں میں سانس لیتے ہیں ان افراد میں دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ خواتین میں سگریٹ نوشی کے اثرات نوزائیدہ بچوں میں پیدا ئشی کٹے ہوئے ہونٹ، حمل کے دوران مختلف پیچیدگیوں ،جوڑوں میں درد اور جسم کے دفاعی نظام کی کمزوری کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں ۔

وہ خواتین جو بچے میں پیدائش کے وقفے کے لیے گولیاں استعمال کر نے کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی بھی کرتی  ہیں ان کو امراض قلب ، خون کا جمنا ، ہارٹ اٹیک  اور اسٹروک جیسی بیماریوں کا باعث ہو سکتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق ان بیماریوں کا رسک35 سال کی عمر کی خواتین کو زیادہ  ہوتا ہے کیونکہ بڑی عمر میں وقفے کی گولیاں استعمال کرنے سے اکثر خواتین کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اس لیے خواتین کو اپنا بلڈ پریشر متواتر چیک کروانا ضروری ہوتا ہے ۔ حاملہ خواتین  اگر تمباکو نوشی کرتی ہیں تو یہ ان کے لیے اور ان کے بچے کے لیے زہر قاتل ہوتا ہے ۔ تمباکو   میں موجود کیمیائی  اجزاء خون  کی  نالی کے  ذریعے بچے تک پہنچتے ہیں ۔ جو بچے  اور ماں دونوں کی زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بچے کا وزن بھی کم ہو سکتا ہے اور وقت سے پہلے بچوں کی پیدائش یا حمل ضائع بھی ہوسکتا ہے ۔ ایسے  نوزائیدہ بچے جن کی ماں دوران حمل سگریٹ نوشی کرتی ہیں ، ان میں پیدائش کے بعد بچے کی بھی نکوٹین کا لیول ایک بڑے انسان کے جسم میں موجود نکوٹین کے لیول جیسا ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ بچے کو سانس لینے میں بھی دشواری ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ کم عمری میں جو لڑکیاں تمباکو نوشی  کا  شکار ہو جاتی  ہیں  ان میں مینو پاز کے ڈسٹرب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔

نکوٹین دماغ میں موجود کیمیکل مثلاََ ڈوپامائن اور اینڈرو فائن کی سطح کو بڑھا دیتا ہے جس کی وجہ سے نشے کی عادت ہو جاتی ہے یہ کیمیکل جسم میں خوشی کی کیفییات کو بیدار کرتے ہیں ۔ جس سے جسم میں تمباکو کی طلب ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ تمباکو نوشی بہت آہستہ آہستہ جسم کے مختلف اعضاءکو نقصان پہنچانا  شروع کر دیتی ہے  اور پھر یہ نقصانات واضح ہونا شروع ہو جاتے  ہیں  اور تب تک انسانی جسم تمباکو کے نشے کا مکمل طور پر عادی ہو چکا ہوتا ہے ۔ تمباکو  اور اس کے دھوئیں میں تقریباََ  چار ہزار مختلف کیمیکلز موجود ہو تے ہیں جن میں سے تقریباََ پچاس سے زائد  ایسے کیمیکلز ہوتے ہیں جو سرطان کا باعث بنتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سگریٹ میں تار، نکوٹین ، کاربن مونو آکسائیڈ ، امونیا، فارملڈی ہائیڈ، آر سینک اور ڈی ڈی ٹی شامل ہوتے ہیں ۔ تمباکو نوشی کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہو جاتی ہیں اور پھر دل کے دورے اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ سگریٹ کے دھوئیں میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس موجود ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث بنتا ہے ۔

سگریٹ نوشی کرنے والے افراد سانس کی بیماریوں کا شکار بھی ہو جاتے ہیں جس میں برونکائٹس اور ایفی زیما شامل ہیں ۔ ایفی زیما میں پھیپھٹروں میں ہوا کی جگہیں بڑھ جاتی ہیں اس سے سانس لینے میں دشواری اور نمونیہ ہونے کا خطرہ رہتا ہے ۔ اس حالت میں مریض کو شدید کھانسی ، سانس لینے میں دشواری اور دمہ کی علامات پیدا ہو جاتی ہیں ۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کے دورہ ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ تمباکو نوشی کرنے والے لوگوںمیں تمبا کو کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے جس سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے اور دل کے دورے کا باعث بنتا ہے ۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی سے دماغ کے اسٹروک کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے جس میں دماغ کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے اوردماغ میں موجود خون کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں ۔ جبکہ سگریٹ نوشی میں ہڈیاں بھی کمزور ہو جاتی ہیں جبکہ معدہ کا السر، چہرے اور جسم کی جلد پر جھریاں پڑ جاتی ہیں ۔

تمبا کو نوشی کا سب سے زیادہ نقصان پھیپھڑوں کو ہوتا ہے ۔ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلاََ ، تقریباََ نوے فیصد لوگ زندگی میں کبھی نہ کبھی تمباکو نوش رہے ہوتے ہیں ۔ سگریٹ پینے والی خواتین میں بھی چھاتی کا کینسر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی ، گلا ، خوراک کی نالی کا کینسر ، معدہ کا کینسر ، جگر کا کینسر ، مثانے کا کینسر ، لبلبہ اور گردے کے کینسر کا باعث بھی بنتا ہے ۔ تمباکونوشی ترک کرتے ہوئے شروع کے کچھ ہفتوں میں انسان بہت چڑچڑا سا ہو جاتا ہے جس کی وجہ تمباکو میں موجود نکوٹین ہوتا ہے جو وقتی طور پر جسم اور دماغ کو سکون بہم پہنچاتی ہیں اور جب انسان سگریٹ نوشی ترک کردیتا ہے توا س کی کمی کی وجہ سے غصہ آنے لگتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سرمیں درد ، نیند کی کمی ، بے چینی ، کھانسی میں اضافہ ، ڈپریشن ، قبض ، پیٹ کی خرابی وغیرہ شروع ہو جاتی ہے ۔

مریض ا ن سب چیزوں سے گھبرانے کے بجائے جوان مردی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اس موذی سے جان چھڑ ا سکتا ہے ۔ اس کے لیے مختلف ادویات اور کو کسلنگ سے نکوٹین کی عادت سے آہستہ آہستہ آزادی مل سکتی ہے اس کے لئے دوسرے لوگوں کومتاثرہ فرد کی اخلاقی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے ۔عالمی ادارہ صحت کے تحت دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے اقدامات اور اس کے خلاف قوانیں واضح کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان میں بھی تمباکو نوشی کے عنصریت سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں ۔تمباکو نوشی سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے ہمیں اپنی عادت اور رویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔

Facebook Comments