گھر میں ہر کوئی اپنے اپنے کاموں میں مگن تھا۔امی جان پالک صاف کر رہی تھیں،آپی ڈائجسٹ میں سر دیے دنیا سے دور خوابوں کی دنیا کی سیر کر رہی تھیں، عائزہ اپنا ہوم ورک کر رہی تھی، دادی جان اپنی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔امی جان! دادی جان! عثمان کی بلند آواز نے گھر کے ہر بندے کو ہڑبڑا کے رکھ دیا تھا۔ کیاہو گیابیٹا؟امی جان کے پالک کاٹتے ہاتھ رک گئے۔رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا ہے سب کو بہت مبارک ہو۔ عثمان کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔اس میں کون سا نئی بات ہے! ہر سال ہی آتا ہے۔عائزہ نے منہ بنا کر کہا۔دادی جان کو بہت برا لگا۔وہ کچھ بولتے بولتے رہ گئیں۔تمہیں خوشی نہیں رمضان کی؟عثمان نے دکھ سے بہن کو دیکھا۔ 
”نہیں بھائی! ایک تو شدید گرمی اوپر سے روزہ رکھ کے کوئی کام نہیں ہوتا گرمی میں ٹھیک سے عبادت تو ہوتی نہیں ہے کیا فائدہ روزے کا۔۔عائزہ کلستے ہوئے بولی۔اس کا جواب سن کر سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔ اری ناہنجار کیا بولے جا رہی ہے! رمضان کا مقدس ماہ شروع ہونے پراسے کوئی خوشی نہیں۔ توبہ توبہ ہم تو پورا سال انتظار کرتے ہیں کہ یہ مہینہ آئے۔ اللہ کا قہر نہ نازل ہو تجھ پر توبہ کر پگلی، دادی جان کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولیں۔ عثمان خفگی سے سر ہلاتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا۔اسے تراویح کی تیاری کرنی تھی۔امی جان صبح سحری میں پالک کھلائیں گی کیا؟آپی ناگواری سے پالک دیکھتے ہوئے بولیں۔نہیں بیٹا یہ میں کل کی افطاری کے لیے صاف کر کے رکھ رہی ہوں۔پہلا روزہ ہوگا ابھی سے ساری تیاری کر کے رکھنی ہوگی ورنہ پہلے دن بہت مشکل ہو جاتی ہے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کیا جائے۔سحری کے لیے بھنا ہوا قیمہ پہلے ہی بنا کر فریز کر دیا ہے۔امی جان نے تفصیل سے بتایا۔چلو اب سب اٹھو اور تراویح کی تیاری کرو۔
 عائزہ تم میرے ساتھ آو۔امی جان نے فریج میں رکھی بوتل نکالی اور کچن میں رکھی کرسی پر بیٹھ کر پانی پینے لگیں۔عائزہ ان کے سامنے بیٹھ گئی اور ان کی طرف متوجہ ہو گئی۔بیٹا رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا ہر مسلمان کو پورا سال انتظار رہتا ہے اورسب بہت خوشی اور شوق سے روزے رکھتے ہیں لیکن آپ نے جو باتیں بولیں وہ کوئی مسلمان مومن سننا بھی پسند نہیں کرتا۔امی جان کو عائزہ کے خیالات سن کر کافی دکھ پہنچا تھا۔رمضان تو اتنا خاص مہینہ ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محَمَّدصلی اللہ علیہ وسلم اس کا انتظار دو ماہ پہلے ہی شروع فرما دیتے تھے۔جس کی واضح مثال رجب اور شعبان کی وہ مسنون دعائیں ہیں جو ہمیں احادیث میں ملتی ہیں۔رمضان المبارک کے مہینے کی ہر ساعت اللہ کی رحمت برستی ہے، ہر نیکی کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے اور روزے دار کے سونے پر بھی اللہ اس کے اعمال میں نیکیاں لکھتا ہےلیکن امی جان مجھے گرمی کے روزے رکھنے میں بہت مشکل ہوتی ہے،عائزہ دھیرے سے بولی۔عثمان اور آپی بھی ان دونوں کے ساتھ آکر بیٹھ گئے تھے اور امی جان کی باتیں سن رہے تھے۔
صحابہ کرامؓ گرمیوں کے موسم میں روزے زیادہ رکھتے تھے اللہ کو اپنے بندوں کا گرمی میں روزہ رکھنا بہت پسند ہے۔ذرا تصور کرو چودہ سو سال قبل جب مکہ بالکل ایک ریگستان تھا، پنکھے تھے نہ اےسی ،زندگی کس قدر مشکل ہوگی تب ہمارے صحابہؓ کو گرمی کے روزے زیادہ محبوب تھے اورآج ہم لوگ پکے گھروں میں اے سی پنکھوں کے نیچے بیٹھ کر بھی اللہ سے شکوہ کرتے ہیں کہ روزہ رکھنا مشکل ہے۔ گرمی لگتی ہے اور رمضان کے مہینے کی آمد پر ناگواری محسوس کرتے ہیں۔ ہم کتنے بڑے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ عائزہ شرمندگی سے سر جھکائے بیٹھی تھی۔امی جان میں ان شاءاللہ اب رمضان کے سارے روزے رکھوں گی اور اللہ سے اپنے ان الفاظوں پر معافی بھی مانگوں گی۔رمضان کے کے مہینے میں اللہ بہت جلد معاف کر کے بندے کو اپنی رحمت کے سائے میں لے آتا ہے۔ امی جان سمیت سب اس کی بات سن کر مسکرادیے۔

Facebook Comments