وردہ میں سوچ رہی ہوں اسرمضان میں کچھ نفع بخش کاروبار کریں، رمشہ نے اپنی چھوٹی بہن جو کہ اس کی دیورانی بھی تھی کو متوجہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ دونوں دن کے کھانے کے لیے ساگ صاف کر رہی تھیں۔ توبہ کرو آپا رمضان میں عبادت کریں گے کاروبار نہیں۔ نفع بخش کاروبار کرنے کو تاجر کچھ کم نہیں پاکستان میں،وردہ نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔ میں با لکل سنجیدہ ہوں، توجہ سے میری بات سنو،رمشہ نے خفگی سے کہا۔سنائیے،وردہ متوجہ ہوئی۔کچھ سرمایہ کاری وردہ، کچھ ایسی سرمایہ کاری جو ہمیں خوب نفع دے،رمشہ جذبات میں بول رہی تھی اور اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔آپا خدا کا خوف کرو۔روزے رکھیں گے، قرآن پاک پڑھیں گے،سحری و افطاری پکائیں گے۔ دعائیں مانگیں گے۔یہ لائن اپ ہوتا ہے رمضان کا۔اب یہ کاروبار کی باتیں چھوڑو۔ساگ پر توجہ دو، بہت رہتا ہے ابھی،وردہ نے بے زاری سے منہ بنایا۔
میری بھولی بہنا! یہ سب ہم رمضان میں کرتی ہیں۔اس رمضان میں اس سے کچھ بڑھ کر۔۔ رمشہ وردہ کی بے زاری کی پرواہ کیے بنا بولی۔اچھا کیا کیا کاروبار کریں گی آپ؟ چنا چاٹ بنا کر بیچیں گی؟ہاں یہ کاروبار خوب چلے گا اور بہت منافع دے گا، وردہ خفگی سے بولی۔ ”ارے نہیں بھئی، رمشہ ہنسی۔ تو پھر کیا پہیلیاں نہ بجھوائیے۔صحیح بات بتائیے، وردہ اب بات سمجھنا چاہ رہی تھی۔سنو وردہ اس حدیث پر غور کرو ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ فرماتے ہیں،دین سرا سر خیر خواہی ہے۔وہ تو ہے،وردہ نے اثبات میں سر ہلایا۔خیرخواہی کیا ہے؟ لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا، سلام میں پہل کرنا، کسی کی غیبت نہ کرنا اور نہ سننا۔اللہ کی مخلوق سے حسن ظن رکھنا،لوگوں کے چھوٹے موٹے کام کر دینا،کسی ضیعف یا بیمار کو سڑک پار کروادینا۔بیمار کی مزاج پرسی کرنا،سڑک پر پڑے پتھر یا کانٹوں کو راہ سے ہٹا دینا، بے علم کو علم سکھانا یہ سب ہمارے دین کا حصہ ہے ناں وردہ۔۔ جس پر کامیابی کا اجر و ثواب کا وعدہ ہے۔
مگر اس بات کا آپ کے کاروبار سے کیا تعلق ،وردہ نے پوچھا۔میری پیاری بہن روپے تو ہمارے پاس ہوتے نہیں کہ کہیں انویسٹ کریں، تو ایسا کرتے ہیں اپنے پیارے اللہ تعالیٰ کے پاس اسی کی مخلوق کے لیے اپنی جانب سے خیرخواہی انویسٹ کرتے ہیں۔اس کی رضا اور خوش نودی حاصل کرنے کے لیے، اس کی جنت میں عالیشان محل کے لیے۔ اس کی جنت کے بہترین لباس کے لیے۔اس کی جنت کے مزے دار کھانوں کے لیے۔جنت کے خادموں اورغلامان کو حاصل کرنے کے لیے،رمشہ کی آنکھیں ابدی کامیابی حاصل کرنے کے خوابوں سے دمک رہی تھیں اور وردہ سوچنے لگی تھی۔
”خوبصورت گھر،حسین لباس، مزیدار کھانے، نوکر چاکر یہ ہی خواب ہوتے ہیں نا ہم عورتوں کے اور ان کی خاطر ہم سب کرنے کو تیار ہوتی ہیں۔مگر اس سب کو پانے کے لیے صحیح سمت اور صحیح کام کیا ہے؟ اس کا تعین نہیں کر پاتیں ہم۔وردہ دیکھو اللہ نے کتنی نعمتیں،کتنی صلاحتیں دی ہیں ہمیں۔ میں سوچتی ہوں اس کی ان عطا کردہ نعمتوں ان عطا کردہ صلاحیتوں میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کرکے اس کے پاس انویسٹ کر دیں۔روز قیامت کے لیے۔اس دن کے لیے کہ جس دن ہم قبروں سے اٹھائی جائیں گی۔وردہ اس دن کا کچھ تو سوچنا ہے نہ ہمیں،رمشہ نے وردہ کی جانب دیکھامگر آپا کریں گے کیا؟وردہ بہن کی باتوں سے قائل ہو کر پوچھنے لگی۔میں سوچ رہی ہوں رمضان میں محلے کی بچیوں کے کپڑے مفت سی کر دوں۔اتنی زیادہ سلائی لے لیتے ہیں درزی اور وقت پر کپڑے بھی نہیں دیتے۔کتنی پریشان ہوتی ہیں مائیں۔اگر میں یہ کام عیدی کے طور پر اپنے محلے کی بچیوں کے لیے کروں تو کیسا رہے گا؟ ماؤں کے پیسے بھی بچیں گے اور کوفت سے بھی چھٹکارہ پائیں گی اور میں یہ کام کروں گی بھی نظم و ضبط کے ساتھ کہ میرا اپنا اور گھر کا شیڈول بھی متاثر نہ ہو۔خلوص اورخیرخواہی کے جذبے کے ساتھ یہ کام کروں گی۔اپنے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے۔رمشہ بچیوں کے نت نئے ڈیزائنز کے ساتھ کم وقت میں بہت خوبصورت کپڑے سی لیتی تھی۔ اس لیے بہت پراعتماد تھی۔”رمضان میں کپڑے سینا!وردہ کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگی۔آپا یہ کام ان دنوں کر لیں،رمضان میں تو نوافل ادا کریں گے۔دورہ قرآن، اذکار اور دعاؤں پر توجہ دیں گے“۔ وردہ ڈئیر ان دنوں تو میں چاہتی ہوں کہ گھر کی صفائی، تمام اشیاءکو منظم طریقے سے رکھنے اور رمضان اور عید کی خریداری مکمل کر لوں۔اپنے اور بچوں کے کپڑے سی لوں۔ہاں بلقیس آپا کی عیادت اور شمسہ کے بیٹے کی مبارکباد کے لیے بھی جانا ہے۔یہ ملنے ملانے کے کام بھی انہی دنوں نمٹانے کا سوچ رہی ہوں۔ رمشہ نے وردہ کی جانب دیکھا۔
یہ تو ٹھیک ہے لیکن رمضان میں سلائی کے کام میں لگ جائیں گی تو عبادت کا کیا ہوگا۔تلاوت اور ادائیگی نوافل کا شوق رکھنے والی وردہ متفکر ہوئی۔وردہ دین اسلام ہمیں نظم و ضبط کا پابند بناتا ہے۔سو میں نے اپنے لیے ایک ٹائم ٹیبل بنایا ہے۔ نماز فجر کے بعد تلاوت قرآن پاک، صبح کے اذکار اور سیرت النبیﷺ کا مطالعہ،اشراق کے نوافل، تھوڑا سا آرام اور پھر چاشت کے نوافل۔رمشہ مسکرائی، پھر خدمت خلق یعنی بچیوں کے عید کے کپڑوں کی سلائی۔ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک وردہ میں خود کو پابند کروں گی کہ اس دوران فالتو باتیں نہ کروں۔ہاتھوں سے کام کروں اور دل اور زبان پر اللہ تعالیٰ کا ذکر اور دعائیں ہوں۔ یا پھر کام کے دوران تلاوت اور تفسیر سنوں اور ہاں جو خواتین میری اس پیشکش میں دلچسپی لیں ان کے ساتھ بات چیت ان دنوں مکمل کر لوں۔ میں یہ بھی اندازہ لگا لوں گی کہ کتنا کام میں آسانی کے ساتھ کر سکتی ہوں جتنا ان اوقات میں کر سکوں گی اتنے ہی کی ہامی بھروں گی۔ ذمے داری اتنی اٹھاو ¿ں گی جتنی نبھا سکوں“، رمشہ نے ہر پہلو تفصیلاً وردہ کے سامنے رکھا۔
اگر رمضان میں ہر عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے تو یقیناً خدمت خلق پر بھی اپنے مہربان رب سے زیادہ اجر وثواب کی امید باندھی جا سکتی ہے۔ ”اپنے لیے تو کام سوچ لیا اور مجھے تو کچھ آتا نہیں۔ میں بھلا کیا کروں گی“، وردہ نے منہ بنایا۔ ”میری پیاری بہنا! تمہیں تو مجھ سے کئی گنا اچھا کام آتا ہے۔ یہ جو بچوں کو اتنا اچھا پڑھا لیتی ہو اور وہ بھی تم سے جلد مانوس ہوکر مشکل سے مشکل کام سیکھ لیتے ہیں وہ خوبی کس دن کام آئے گی“۔”اس خوبی سے کیا بننے والا ہے“، وردہ ابھی بھی ناراض تھی۔ ”اس خوبی سے یہ بننے والا ہے کہ تم ماہ رمضان میں صرف ایک گھنٹہ بچوں کو مفت پڑھانا۔ انہیں گرمیوں کی چھٹیوں کا کام کروانا، قرآنی و مسنون دعائیں یاد کروانا، چھوٹی سورتیں حفظ کروانا، رمضان اور روزے سے متعلق انہیں رہنما ئی دینا۔ ایک تو بچے تم سے اچھا سیکھیں گے۔ دوسرا ماو ¿ں کو گھر پر یہ گھنٹہ سکون کا ملے گا۔ اس دوران وہ عبادت، آرام یا گھر کا کوئی کام نمٹا لیں گی۔ تمہاری وجہ سے ماں اور بچے دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔ یہ کتنا اچھا ہوگا“، جذبہ خدمت خلق سے سرشار رمشہ خوشی سے بولی۔
”نہ بابا یہ جو بچے کیاریوں سے پھول توڑ جائیں گے اور دیواروں پر لائنیں لگا جائیں گے تو آپ کے بھائی صاحب سے بے عزت نہیں ہونا میں نے“، وردہ نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔ ”ارے واہ ہم خیال رکھیں گی۔ پھول نہیں توڑنے دیں گی، لائنیں بھی نہیں لگانے دیں گی۔ فیس ہم نہیں لیں گی۔ لیکن ماو ¿ں کو پہلے ہی دن بتائیں گی کہ اگر بچوں نے ایسی کوئی غلط حرکت کی تو جرمانہ ہوگا۔ وردہ سوچو زندگی میں ہم بہت کچھ برداشت کرتی ہیں۔ اگر ایک نیک اور اچھے مقصد کے حصول کے لیے ہمیں کوئی مشکل پیش آئے تو کیا اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے اسے ہمیں ہنسی خوشی برداشت نہیں کر لینا چاہیے“، رمشہ کا لہجہ التجائیہ ہو چلا تھا کہ کام تو وہی ہوتا جس کے لیے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ دونوں رضامند ہوتیں۔ ”چلو پھر اس رمضان میں عبادت کے ساتھ ساتھ کچھ خدمت خلق بھی لیکن اپنا گھر اور گھر والوں کو ڈسٹرب کیے بنا“، وردہ نے خوشی سے ہاتھ بڑھایا جسے رمشہ نے گرم جوشی سے تھام لیا۔
 پھر اس رمضان میں رمشہ نے خوشی خوشی محلے کی بچیوں کے خوبصورت ڈیزائنگ والے کپڑے سیے۔ وردہ نے پورا مہینہ جانفشانی سے بچوں کو دینی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ اسکول کا کام بھی کروایا۔ کام کے دوران جو تعریف انہیں موصول ہوئی اس نے ان کا حوصلہ بڑھایا مگر جہاں تنقید اور مشکل کا سامنا ہوا اسے انہوں نے ہنسی خوشی بخوبی مینج کیا کہ مقصد رضائے الہی تھا اور اپنے کام کے صلہ واجر کے لیے وہ اپنے جیسے بندوں کے سامنے نہیں بلکہ اس اللہ رب العزت کے سامنے دامن پھیلائے تھیں جو بڑاقدر دان اور مہربان ہے۔
٭….٭….٭

Facebook Comments