غم کا علاج (بلال شیخ)

ظلم، دھوکے بازی، فتنہ فساد، قتلوغارت ہمیشہ سےانسانوں میں عام رہےہیں اورانسانیت کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔جو محبت کرے وہ معصوم اور جو بے وفائی کے زخم سہے وہ مظلوم کہلاتا ہے۔ ایک انسان اپنے رشتوں،دوستوں اور عزیزوں سے نیکی کر کے بھی ان کی بے رخی کا نشانہ بن جاتاہےاور یہ بے رخی وہ اپنے دل میں دبالے تو غم پیدا ہوتا ہےجواسے دنیا کے ہر معاملے میں باغی کر دیتا ہے اور باغی انسان پھرنہ تواپنی زندگی کی پرواکرتا ہےاورنہ کسی کی۔جب میرے ایک عزیز کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا تو میرے دل میں اس واقعے کی تکلیف بھی تھی اور سوال بھی تھااورمیں نے یہ سوال اپنے محسن اپنے استاد کے سامنے رکھ دیا۔

میں نے ان سے پوچھا،انسان جب محبت کرتا ہے تو وہ اگلے کے دل کاحال نہیں جانتا، انسان جب نیکی کرتا ہے تو اس نیکی کا اجر نہیں مانگتا اورانسان جب بھی کوئی اصلاح کاکام کرتا ہے تووہ اس کے بدلے میں کبھی ایسا نہیں چاہتاکہ اسے غم ملے یا اسے بے وفائی ملےمگرجب دنیا اچھے کو نچوڑ کر اس کیاچھائی سے فیض حاصل کر لیتی ہے تو اس کو غم کی بوری میں ڈال کر قبرستان میں پھینک دیتی ہے، انسان کااس غم سےبچنا بہت مشکل ہوتا ہے مگر میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کیسے اس سے چھٹکارا حاصل کرے کہ وہ زندگی میں واپس آ سکے؟
 دنیا داری میں جہاں اچھائی ہے وہاں برائی بھی ہے یہ دوںوں ہر انسان میں پائے جاتے ہیں اور یہ دنیا میں اپنی اپنی جگہ احسن طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ ہر عمل کا صلہ آخرت میں ضرور ملتا ہے اچھائی کا ہو یا برائی کا غم میں انسان اپناغم دوسروں کو بتا کر کم کر سکتاہےمگرختم نہیں کر سکتا۔وہ رکے تو میں نے فوراً کہاتو وہ غم کیسے ختم کر سکتا ہے؟ اس سوال کے بعد مجھے ایسا لگا کہ مجھے ایسا جواب ملے گا جو کہ دنیا کے سارے غموں کو دھو دے گا اورایک ایسا ہتھیار میرے ہاتھ لگنے والا ہے جو میں ساری دنیا میں سپلائی کروں گا۔
وہ بولے،جب بھی غم آ کر تمہیں اپنی گرفت میں لے لے اور بیان نہ کر سکو، ظالم اپنا ہو، درد دینے والا قریبی ہو، دوستی کا دعویٰ کرنے والا دشمنی پر اتر آئے، ہاتھ سے لے کر کھانے والا آنکھیں دکھانے لگے تو میرے بچے صبر کرنا۔میں صبرکالفظ سن کر حیران ہوا اور حیرانگی سے ان کا چہرہ دیکھ رہا تھا اور وہ اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھے۔ صبر کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے یہ بہت بڑا ہتھیار ہے اور صابرکو صبر تب ہی ملتاہے جب وہ طلب کرتا ہے اپنے پروردگارسے، تب اس کے غموں کے بدلے صبر جیسی نعمت سے نوازا جاتا ہے۔ قران میں بار بار صبر کی تلقین کی گئی ہے جب انسان صبر حاصل کر لیتا ہے تو اللہ اس کے ساتھ ہو جاتا ہے اور جب اللہ صابر کے ساتھ ہو جاتا ہے تو اس کے معاملے اس کے نہیں اللہ کے ہو جاتے ہیں اور پھر اس کے اندر برداشت کی قوت پیدا ہو جاتی ہے اور صابر کے لیے قران میں خوشخبری بھی ہے۔اولاد کا غم،رشتوں کے چھوٹ جانے اور معاشرے کے ظلم وستم ان سب حالات میں انسان اگر کچھ نہ کر سکے تو صبر کرے اور یہی اس کے لیے بہتر ہے اور اسی میں اس کی فلاح ہے۔میں نے ان کی بات کو اپنے ذہن کی میں محفوظ کیا اور ان کو سلام کر کے وہاں سے چلا آیا۔

اس دن کے بعد میں صبر کے فلسفے کو سمجھ گیا تھا اور یہ جان گیا تھا کہ زندگی کے ہرامتحان میں کامیابی نہیں ملتی، شاباشی نہیں ہوتی، نتیجہ اچھانہیں ہوتا مگر صبر آپ کو آگے جانے اور نئے راستے تلاش کرنے میں مدد ضرور کرتا ہے۔ یقین مانیے جب انسان کو صبر کا نظریہ سمجھ آجائے تو اس کے لیے زندگی بہت بڑی کامیابی بن جاتی ہے۔غم اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ صبر ایک دولت ہے ایک ایسا ہتھیار ہے جو زندگی کے ہر معاملے میں اس کے دل کی حفاظت کرتا ہے۔ جب بھی انسان صبر کو دوست بنا لے گا تو وہ اللہ کا دوست بن جائے گا ہر دکھ درد تکلیف کے بعد ایک نئی زندگی شروع کرے گا۔

Facebook Comments